امیر حکمرانوں کا غریب ملک 09-11-2013

ایک چیز ریاست ہوتی ہے۔ ایک چیز عوام ہوتے ہیں۔ ایک چیزمعاشرہ ہوتا ہے۔ ایک چیز آئین ہوتا ہے۔ اور ایک چیز قدریں ہوتی ہیں۔
ان سب چیزوں کے اشتراک سے انسانی تہذیب اور انسانی تاریخ جنم لیتی ہے۔ ریاست کو ہم ملک یا مملکت کا نام بھی دے سکتے ہیں۔
سینکڑوں برس قبل ایک تاریخ دان اور محقّق نے ایک کتاب تحریر کی تھی جسے ” ابن خلدون کا مقدمہ “ کہاجاتا ہے۔ یہ کتاب ساری دُنیا میں ایسے تمام اصولوں کی مستند ترین دستاویز سمجھی جاتی ہے جو ریاست عوام اور معاشرے کے باہمی تعلق کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اور اِن ہی عوامل کی کوکھ سے متعلقہ مملکت کے آئین اور اس کی اقدار کا جنم ہوتاہے۔ابن خلدون کامقدمہ پڑھے بغیر ہم اِس نظام کی تباہ کاریوں کے اسباب نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی دُور کرسکتے ہیں جسے ہم نے اختیار کر رکھا ہے اور جسے ” بدل ڈالنے “ کے عزمِ صمیم کا اظہار ہمارے ملک کے تقریباً تمام لیڈر اور حکمران کرتے رہتے ہیں۔
ابن خلدون نے بنیادی بات جو اپنے ” مقدمہ “ میں لکھی تھی وہ یہ تھی کہ اس مملکت اور معاشرے کوتباہی اور بربادی سے بچایا ہی نہیں جاسکتا جس میں قانون سازی اور حکومت کرنے کا اختیار اس کے تاجروں اور بیوپاریوں کے پاس چلا جائے۔ ایسی مملکت کے حکمرانوں کا ہر فیصلہ ان کے ” کاروبار “ کوفروغ دینے اور ان کے مالی مفادات کے تحفظ کے لئے ہوگا۔
وہ چیز جسے ہم کرپشن کہتے ہیں اسی تاریخی سچ کا دوسرا نام ہے جس پر ابن خلدون نے اپنے” مقدمہ “ میں روشنی ڈالی تھی ۔ وطنِ عزیز کا ” نظامِ حکمرانی “ سر سے پاﺅں تک اسی ” تاریخی سچ “ کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہے۔
اس کا اندازہ ہمارے حکمران طبقے کی بڑھتی ہوئی دولت اور بے بس عوام کے بڑھتے ہوئے افلاس سے لگایاجاسکتا ہے ۔
ہمارا پاکستان امیر سے امیر تر ہوتے چلے جانے والے حکمرانوں کا ایک ایسا غریب ملک ہے جس کے عوام پر عرصہ ءحیات روز بروز تنگ سے تنگ تر ہوتا چلاجارہا ہے۔

Scroll To Top