صدر عارف علوی اپنے منصب کا وقار بلند کریں گے ۔۔۔

گزشتہ شب ارشد شریف کے پروگرام میں سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے نہایت حقارت سے کہا کہ ”نئے گورنر صاحب تو انٹر پاس ہیں وہ کس منہ سے چانسلر کی حیثیت سے طلباءاور طالبات کو اعلیٰ ڈگریاں عنایت فرمائیں گے ؟“
میں عمران اسماعیل کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں نہیں جانتا مگر انہیں پی ٹی آئی کے ایک پرُجوش کارکن اور لیڈر کی حیثیت سے کام کرتے دیکھا ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ذاتی خوبیوں اور شخصی خصوصیات کو مدنظر رکھا جائے تو میں کسی بھی ذمہ داری کے لئے زبیر عمر پر عمران اسماعیل کو ترجیح دوں گا۔۔۔ زبیر عمر نے گورنری کا عہدہ میاں نوازشریف کی شان میں قصیدے پڑھ کر اور ان کی کرپشن کو الفاظ کے پردے میں چھپانے کی کوششوں کے نتیجے میں حاصل کیا تھا۔۔۔ زبیر عمر بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں گے لیکن ان کی کسی ڈگری نے گورنری کے منصب کا وقار بلند نہیں کیا۔۔۔ اِس وقار کو اُس وقت دنیا نے مٹی میں ملتے دیکھا جب وہ ملزمہ مریم نواز سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے کی کوششوں میں ایک سائل کی طرح میاں منیر کی رہائش گاہ کا دروازہ کھٹکٹاتے پائے گئے تھے۔۔۔
عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے سیاسی روایات کے برعکس عمران اسماعیل اور ڈاکٹر عارف علوی جیسے ” غیر روایتی “ اصحاب کو اعلیٰ عہدوں کے لئے منتخب کیا ہے۔۔۔ میں عمران اسماعیل کو زیادہ نہیں جانتا لیکن عارف علوی میرے قریبی دوست رہے ہیں۔۔۔ جب میں پی ٹی آئی کا نہایت فعال رکن تھا تو وہ میرے سیکرٹری جنرل تھے۔۔۔ انہوں نے مجھے پارٹی کا انفارمیشن سیکرٹری بنانے کی پوری کوشش کی۔۔۔ اس کوشش میں انہیں چیئرمین عمران خان کی بھی پوری حمایت حاصل تھی۔۔۔ لیکن میں اتنی بڑی ذمہ داری سبنھالنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہ کرسکا۔۔۔
اس کے بعد جب بھی ہماری ملاقات ہوئی انہوں نے ایک ہی بات کہی ۔۔۔ ” ہم آپ کو گوشہ نشین نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔ آپ پارٹی کا اثاثہ ہیں۔۔۔“
مجھے عارف علوی ہمیشہ سچے کھرے اور اچھے لگے ہیں۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ جس منصب کی تحقیر ممنون حسین کی ’ ممونیت“ کی وجہ سے ہوتی رہی ہے اس منصب کو اُس کا حقیقی وقار دینے والا شخص اس پر فائز ہوگیا ہے۔۔۔

Scroll To Top