نئے صدر کا انتخاب آج: اعتزاز احسن، فضل الرحمن بدستور میدان میں،عارف علوی کی پوزیشن مستحکم

  • پی پی پی اعلیٰ قیادت کا مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں اپنے امیدوار اعتزاز احسن کی دستبرداری سے صاف انکار، ن لیگ قیادت کا بھی اعتزاز احسن کو امیدوار ماننے سے ایک با ر پھر انکار اور مولانا کی حمایت پر اصرار
  • سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، پولنگ صبح 10 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک جاری رہے گی

فضل الرحمناسلام آباد(ریاض ملک) صدارتی امےد وار مولانا فضل الرحمان نے اپنی دستبرداری کے لئے پےپلزپارٹی کو صدر مسلم لیگ (ن ) شہباز شرےف کو منانے کی شرط رکھ دی مولانا کا کہنا ہے کہ شہباز شرےف کو منا لےں مےں دستبر دار ہو جا¶ں گا۔ شہباز شرےف نے مثبت رد عمل دےا تو اعتزاز متفقہ امےدوار ہوں گےجبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کی دستبرداری سے صاف انکار کرتے ہوئے فیصلہ (ن) لیگ پر چھوڑ دیا ۔پےر کے جمعےت علمائے اسلام ( ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفد کے ہمراہ پےپلزپارٹی کے شرےک چےئر مےن آصف زرداری سے ملاقات کی ملاقات مےں جمعےت علماء اسلام محمود سےنےٹر فےض محمد اور مولانا عبدالغفور حےدری نے شرکت کی جبکہ پےپلزپارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن خورشےد شاہ اور راجا پروےز مشرف ملاقات مےں شرےف تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے آصف زرداری سے اعتزاز احسن کو صدارتی امےد وار سے دستبر دار کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اگر پےپلزپارٹی اپنا صدارتی امےد وار دستبر دار کر لے تو ہمارا امےدوار جےت سکتا ہے اپوزےشن کو متحدہ رکھنے کی ضرورت ہے ہم پےپلزپارٹی کے کہنے پر اسمبلےوں مےں آئے اور حلف اٹھاےا ہم اگر متحد ہو ں تو اچھی اپوزےشن کا کردار اد اکر سکتے ہےں جبکہ آصف زرداری نے کہا کہ اعتزاز احسن صدارت کے لئے بہترےن امےدوار ہےں آپ ہمارا ساتھ دےں ہم نے آپ کو ثالث بنا کر بھےجا تھا آپ خود ہی امےد وار بن گئے مولانا فضل الرحمن اور آصف علی زرداری کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی صورت اعتزاز احسن کی نامزدگی واپس نہیں لے گی۔ مولانا فضل الرحمن کو کہا ہے کہ اعتزاز احسن بہتر صدارتی امیدوار ہیں اور اس وقت اپوزیشن کو متحد رکھنے کی ضرورت ہے۔ فضل الرحمن نے شہباز شریف سے بات کر کے جواب دینے کا کہا ہے ہم نے شہباز شریف کو درخواست کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور اب بھی یہ کوشش ہے کہ اپوزیشن کا متفقہ امیدوار سامنے آئے اور امید ہے کہ اعتزاز احسن ہی اپوزیشن کے متفقہ امیدوار ہوں گے ہمیں شہباز شریف کے جواب کا انتظار ہے۔ادھر پاکستان پےپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو پےپلزپارٹی کے موقف سے آگاہ کےا ہے اور انہےں دستبرداری پر قائل کرنے کی کوشش کی جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہےں صرف شہباز شرےف ہی دستبردار کر سکتے ہےں اگر پےپلزپارٹی شہباز شرےف کو منا لے تو وہ دستبر دار ہو جائےں گے اور اعتزاز ا حسن کو متفقہ امےدوار تسلےم کرتے ہوئے انہےں ووٹ دےں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن خود سے دستبرداری کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو بطور امیدوار نامزد کیے جانے کا فیصلہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے اتفاق رائے سے کیا گیا تھا اور مولانا فضل الرحمٰن تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بغیر اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مولانا فضل الرحمٰن دستبردار ہوں گے۔۔۔صدارتی انتخاب میں سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔انتخاب میں ریٹرننگ افسر کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر نبھائیں گے جبکہ ملک کے پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دیں گے۔الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پانچوں پریزائیڈنگ افسران کو رائے دہندگان کی فہرستیں فراہم کردی گئی ہیں۔تمام ایوانوں میں اراکین کی کل تعداد 11سو 74 ہے تاہم کچھ حلقوں میں انتخابات ملتوی ہونے یا حلف نہ لینے کی وجہ سے صرف 11 سو 21 ارکین حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔آئندہ 5 سال کے لیے صدرِ مملکت کے انتخاب کا عمل آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت عمل میں لایا جائے گا، جبکہ صدارتی امیدوار کی کم سے کم عمر 45 سال ہونا بھی ضروری ہے۔بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں موجودہ ووٹوں کی تعداد 62 ہے، 124 رکنی خیبر پختونخوا اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 112 ہے۔اسی طرح 168 رکنی سندھ اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 163 جبکہ 371 رکنی پنجاب اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے اہل ارکان کی تعداد 354 ہے۔قومی اسمبلی اور سینٹ کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے باہر رائے دہندگان کے لیے ہدایت نامہ بھی ا?ویزاں کردیا گیا ہے جبکہ اراکینِ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اپنا ووٹ ڈالیں سکیں گے۔صدارتی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے ڈاکٹر عارف علوی کو نامزد کیا گیا ہے۔اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر تقسیم کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سینئر رہنما اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو منانے کی کوششیں کیں، تاہم دونوں ہی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل نے صدر کے الیکشن میں تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا۔بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے پی ٹی ا?ئی کے وفد سے ملاقات میں یقین دہائی کرائی ہے کہ ان کی جماعت صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر عارف علوی کی حمایت کرے گی۔

Scroll To Top