کم لاگت کے 50لاکھ گھروں کی تعمیر اولین ترجیح ہے ، عمران خان

  • سیکرٹری ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل جومنصوبے پر عملدرآمد بارے جامع سفارشات ایک ہفتے کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی موثر روک تھام کےلئے قوانین میں ضروری ترامیم کا فیصلہ

عمران خان کی بطور  وزیراعظم آفیشل تصویر جاریاسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں رہائشی مسائل کے حل کے لئے سیکرٹری ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دےتے ہوئے کہا ہے کہ کم لاگت کے 50لاکھ گھروں کی تعمیر حکومت کی اولین ترجیح ہے ، کمیٹی متعلقہ ماہرین اور محکموں کے نمائندوں کی مشاورت سے جامع لائحہ عمل وضع کرکے ایک ہفتے کے اندر وزیراعظم کو اپنی ابتدائی سفارشات پیش کرے گی۔ وزیر اعظم آفس میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کم لاگت کے 50 لاکھ مکانات کی تعمیر کے بارے میںاجلاس ہوا ۔اجلاس میں یعقوب اظہار، نجیب ہارون، ارشد داد، سیکرٹری ہاﺅسنگ و تعمیرات ڈاکٹر عمران زیب خان، سیکرٹری قانون جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ کم لاگت کے50لاکھ مکانات کی تعمیر حکومت کی اولین ترجیح ہے جس سے بالخصوص بڑے شہروں میں نہ صرف لوگوں کے رہائشی مسائل حل ہوں گے بلکہ اقتصادی نمو کو فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں غریبوں کو متاثرکئے بغیر کچی آبادیوں کو باقاعدہ بنانے کے لئے جامع نظام وضع اور ان علاقوں میں لوگوںکو تمام شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا۔ رہائشی مسئلہ کے حل کے لئے مختلف بین الاقوامی ماڈلز اور روڈ میپ پر تفصیلی غور و خوض کے بعد وزیر اعظم نے سیکرٹری ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کی زیر صدارت ایک کمیٹی تشکیل دے دی جوقانونی ڈھانچے، اراضی کی دستیابی اور منصوبے پر خوش اسلوبی سے عملدرآمد کے لئے درکار وسائل جمع کرنے سمیت تمام پہلوو¿ں کو مد نظر رکھتے ہوئے متعلقہ ماہرین اور محکموں کے نمائندوں کی مشاورت سے جامع اور یکجا لائحہ عمل مرتب کرے گی۔ یہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر وزیراعظم کو اپنی ابتدائی سفارشات پیش کرے گی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس ضمن میں نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور” 5 ملین ہاﺅسنگ پروگرام” پر عملدرآمد کے لئے حکومت کے ساتھ شراکتداری کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائیں۔

دریں اثناء پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے حوالے سے وزیراعظم آفس میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی حکومت نے سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی موثر روک تھام کےلئے موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کرکے متعلقہ قوانین کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں کسٹم، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایف آئی اے کے نمائندگان پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وزیرِ اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر، معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری کامرس، اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ اس موقع پر وزیراعظم کو سیکرٹری کامرس اور ایف بی آر کی جانب سے سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم کی غیر قانونی ترسیلات کے نتیجے میں قومی معیشت کوہونیوالے نقصانات کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں سمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی موثر روک تھام کےلئے موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کرکے متعلقہ قوانین کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں کسٹم، سٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایف آئی اے کے نمائندگان پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی۔ کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں اپنی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔وزیر اعظم نے وزارتِ داخلہ کو انتظامی سطح پر اٹھائے جانےوالے اقدامات کے حوالے سے مربوط و منظم لائحہ عمل سے متعلقہ سفارشات آئندہ ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Scroll To Top