معرکہ صداری الیکشن، پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی کامیابی یقینی!

  • بھان متی کا کنبہ اتحاد کو بٹہ لگا کر مزید انتشار پھیلا گیا۔
  • نون لیگ نے نسلی طور پرپاکستان مخالف طائفے کی حمائت کر کے قائد کی روح کو بے چین کر دیا۔
  • بلاول کی شکل میں کرپشن فری چہرہ پی ٹی آئی کو کس حد تک قابل قبول ہوگا۔
  • منافقت، رذالت اور دلالت کی علامت کی ملامت اور نجات کا دن

gulzar-afaqi-logo
وائے افسوس، آج میرے قائد کی روح کس قدر بے چین ہوگی جب ان کی مسند صدارت کے لئے ایک ایسے منافق اعظم کی رال ٹپک رہی ہوگی جو نسلی طور پر نہ صرف فکر قائد سے کوئی رشتہ و تعلق نہیں رکھتا بلکہ ان کے فکرو فلسفہ سے یکسر متصادم زاویہ زندگی کا پرچار ک ہے۔اس کا باپ مفتی محمود کھلے بندوں فخریہ لہجے میں کہتا پھرتا رہا کہ ”شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔“ اور منافقت، رذالت اور دلالت کی یہ حالات کل تک جشن آزادی پاکستان منانے سے فکر تھی اور نون غنوں کا سرغنہ شوباز نا شریف بھی اس کی تائید میں پیش پیش رہا۔ تا ہم آج حرص و ہوس اور سالیسی و گدائی کا یہ پتلا و رثہ قائداعظم پر جھپٹنے کے لئے بے تاب ہے۔ کے اس پجاری کی بابت خود اس کا باپ ہمیشہ شاکی رہا کہ یہ تھوڑے سے فائدے کے بدلے خفیہ ایجنسی والوں کے لئے اس کی مخبری کرتا ہے۔ اور آج یہ پیکر ہفت عیوب جگہ جگہ کہتا پھرتا لوگوں مجھے صدر بناو¿ کیونکہ مجھے قائد اعظم کی مسلم لیگ ان کی مسند صدارت کے لئے اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔
تف ہے اس عہد کے منافق اعظم اور اس کے سرپرست نون غنوں پر !! جنہوں نے آج ملکی صدارت کے لئے اس دور کے عبداللہ بن ابی ملا فضل کو اپنا امیدار نامزد کیا ہے۔
جیسا کہ قارئین جانتے ہیں صدارتی انتخاب کا حلقہ نیا بت سینیٹ آف پاکستان اور قومی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے۔ وفاق کی ساری اکائیوں کے مابین احساس برابری کو پروان چڑھانے کی غرض سے چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ووٹوں کی تعداد سب سے کم عددی قوت رکھنے والی بلوچستان اسمبلی کے مساوی رکھا گیا ہے اس اعتبار سے اگر کل پارلیمانی اداروں میں ووٹوں کی1174کو پیش نظر رکھا جائے تو رائے دہی کے قابل ووٹوں کی تعداد 706رہ جاتی ہے۔ اس وقت صدارتی حلقہ نیا بت میں نمبر گیم کے اعتبار سے پوزیشن یوں ہے۔
پی ٹی آئی اتحاد 346ووٹ
اپوزیشن اتحاد 320ووٹ
آزاد ارکان کی تعداد23ووٹ، جس وقت یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں ( شام 7بجے) تازہ ترین اطلاع کے مطابق بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سرداروں کے چھ مزید ووٹ پی ٹی آئی کے حلقہ بگوش ہوگئے ہیں۔ اسی طرح23آزاد ارکان کا جھکاو¿ بھی متقدر پارٹی تحریک انصاف کی طرف ہے۔ اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی عددی قوت نہ صرف پوری ہے بلکہ ضرورت سے زائد بھی ہو چکی ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن اتحاد بتدریج انتشار اور کھلواڑ کا شکا ہے۔ اور بھان متی کا یہ کنبہ تادم تحریر کسی ایک متفقہ امیدوار پر یکسو نہیں ہو سکا۔ ایک طرف اگر پی پی پی کا نامزد کردہ چوہدری اعتزاز احسن ہے تو دوسری طرف نون لیگ کا چہیتا ملا پھجا۔ بہت ممکن تھا کہ عمران خان کے کرپشن کے خلاف جاری جہاد سے خوفزادہ ہوتے ہوئے زرداری نون غنہ اتحاد کی بیل منڈھے چڑھ جاتی، مگر ایک کالی جمعرات کی دوپہر اڈیالہ جیل سے باہر نون لیگ کے بڑھک باز پرویز رشید نے اعتزاز احسن کے لئے اپنی جماعت کی حمائت کو اس شرط سے نتھی کر دیا کہ اگر کسی کو ہمارے ووٹ چائیں تو پہلے اعتزاز احسن اڈیالہ جیل جا کر نواز شریف سے معافی مانگے۔ میں ذاتی طور پرزمان پارک میں عمراں خان کی ہمسائیگی میں رہنے والے چوہدری احسن علیگ کے اس جاٹ چوہدری نفسیات سے اگاہ ہوں وہ گلہ کٹوا سکتا ہے مگر کسی سے اس توہین آمیز انداز میں معافی تلافی کی طلب نہیں کر سکتا۔ شنید ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن نے ایک موقع پر نجی محفل میں زرداری اور بلاول کے کالوں سے بھی اپنے اس ارادے کو گزاردیا ہے۔ ادھر پارٹی کی صفوں میں بھی ایک ملا فضل کی شکل میں ایک گھٹیا سیاسی بروکر کی خاطر اپنے ایک مد بر اور سیانے ساتھی کی قربانی کی سخت مخالفت پائی جاتی ہے۔
دوسری طرف مگر زرداری جیسا سیاسی شاطر اور سودا گر بھی ہے جو اپنے تئیںفائدے کے سارے دروازے اور زاویے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ ایک خود کو پس منظر میں دھکیل کر بلاول کو پیش نظر میں لانی کی سکیم ہے۔ تا کہ اس طرح بلاول کی صورت میں پی پی پی کا ایسا چہرہ سامنے آئے جس پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں اور جو مقتدر پی ٹی آئی اور بطور خاص عمران خان کے لئے قابل قبول ہو۔ زرداری ملکی و عالمی سطح پر معروضی حالات کے تناظر میں اس حقیقت کو پا چکا ہے کہ عصر رواں کا جاری دورانیہ عمران خان ہی سے عبارت رہے گا۔ لہٰذا چار دنا چار پی ٹی آئی سے کسی نہ کسی درجے کی ورکنگ ریلشن شپ کے بغیر پی پی پی کو اپنی بقا کی ضمانت میسر نیں آسکے گی۔ ادھر پی ٹی آئی کے لئے بھی ناگزیر ہے کہ وہ ہمہ گیر تبدیلی کے اپنے ایجنڈے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پارلیمنٹ میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت کی غرض سے پی پی پی کی طرف دست تعاون بڑھائے۔
میری اطلاعات کے مطابق فی الوقت حالات کا یہی جبر پیپلز پارٹی کو بڑی معنویت کے ساتھ پی ٹی آئی کی طرف مائل بہ التفات کئے ہوئے ہے۔اس صورت حال کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ صدارتی انتخاب کے معرکے میں پیپلز پارٹی اپنا امیدوار کسی طور دستبردار نہیں کروائے گی اور ہٹ دھرمی کی ایسی ہی فضانون غنوں کے حلقوں میں پائی جاتی ہے۔ گویا صورت حال یہ بنی کہ آج 4ستمبر کو صدارتی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوارڈاکٹر عارف علوی کے مقابلے میں نون غنوں اور پی پی پی کے دو امیدوار یعنی ملا فضل اور چوہدری اعتزاز احسن ہوں گے۔ ان دونوں کے ووٹ باہمی طور پر تقسیم ہو جائیں گے۔ اور یوں ڈاکٹر عارف علوی صاحب بڑی سہولت کے ساتھ پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہو جائیں گے۔ انشاءاللہ

Scroll To Top