اس نظام کو دفنائے بغیر ہمارا خواب ادھورا ہے 08-11-2013

kal-ki-baat
جس نظام کو ہم نے جمہوریت کانام دے کر اختیارکررکھا ہے وہ نظام جب تک اپنی موت آپ نہیں مرے گا اور جو ہمارے ہاتھوں منوں مٹی کے نیچے دفن نہیں ہوجائے گا ’ اس وقت تک یہ بدنصیب قوم مسائل اور مصائب کے بھنور سے نہیں نکل پائے گی۔
اس قوم نے طاغوتی قوتوں کی رہنمائی قبول کرکے اپنے رب کے ساتھ ” بدعہدی“ کی ہے۔ جب یہ ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تھا تو ہم نے خدائے بزرگ و برتر کے حضور یہ عہد کیا تھا کہ یہاں اس کی حاکمیت اعلیٰ کا پرچم بلند کریں گے ۔ یہاں غربت موروثی نہیں ہوگی اور امارت موروثی نہیں ہوگی۔ یہاں بیماری موروثی نہیں ہوگی اور صحتمندی موروثی نہیں ہوگی۔ اور یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حق موروثی نہیں ہوگا اور اعلیٰ تعلیم سے محروم رہنے کی تقدیر موروثی نہیںہوگی۔
ہم نے خدا اور اس کے قانون کو بالائے طاق رکھ کر ایک ایسا نظام اختیارکرلیا جس میں حکومت کرنے کا حق صرف اس طبقے کو ہے جسے ہم طبقہ ءامرا کہتے ہیں۔
آج ہم اپنی کھیتی کا پھل کھا رہے ہیں ۔شاید ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔ شاید اب بھی ہم اپنا راستہ تبدیل کرکے اس منزل کی طرف اپنا سفر شروع کرسکتے ہیں جس کا تعین ہم نے 14اگست1947ءسے بھی پہلے کر لیا تھا۔یہ ملک چندہزار خاندانوں کی حاکمیت کو دوام بخشنے کے لئے نہیں ` محروم طبقوں کو حاکمیت عطا کرنے کے لئے بنا تھا۔ اگر امرا شاہی کا نظام اپنی موت آپ مرنے کے لئے تیار نہیں تو ہمیں تکبیر کے نعروں کی گونج میں آگے بڑھ کر اس کی شہ رگ کاٹنی ہوگی۔

Scroll To Top