دورِحاضر کا عبداللہ ابن ابی کون؟

aaj-ki-baat-new

جس جماعت نے پاکستان بنایا اور جس کے سربراہ وقت نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کرنے کے صلے میں قائداعظم ؒ کا خطاب پایا ` اس جماعت نے اپنے ستر سالہ سفر میں اگرچہ ذلت ورسوائی کے کئی مراحل سے گزرنے کا ” اعزاز“ حاصل کیا ہے مگر تحقیر و تذلیل کی جس منزل پر اسے آج کی قیادت نے پہنچایا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ بس یہ کہہ دینا کافی ہے کہ ورثہ ءقائد ؒ کے امین ہونے کے دعویداروں نے اس کرسی پر جس پر قائداعظم ؒ بیٹھا کرتے تھے اس کرسی پر اس شخص کو بٹھانے کا عندیہ دیاہے جسے بجا طور پر منافق اعظم قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔
ایسا ہوگا ہر گز نہیں لیکن بات میں ” مسلم لیگ “ کے مقدر کی کررہا ہوں۔۔۔ کہاں ایسی بلندی کہ اس کی پہچان اپنے عہد کے عظیم ترین مدّبر کے نام سے ہوتی تھی اور کہاں ایسی پستی کہ اپنے عہد کا عبداللہ ابن ابی کہتا پھر رہا ہے کہ قائداعظم ؒ کے پاکستان کی صدارت کا حقدار میں ہوں کیوں کہ مجھے قائداعظم ؒ کی جماعت نے نامزد کیا ہے۔۔۔!
زیادہ دن نہیں ہوئے اس شخص نے فتویٰ دیا تھا کہ پاکستان کا یومِ آزادی منانا حرام ہے۔۔۔ اور اب یہی شخص پاکستان کو اپنی پہچان بنانا چاہتا ہے۔۔۔
عبداللہ ابن ابی کو ہم منافقوں کا سردار کیوں کہتے ہیں ۔۔۔؟ اس لئے کہ اس کے دوچہرے تھے۔۔۔
اور یہ شخص جسے میں اپنے عہد کا منافقِ اعظم کہہ رہا ہوں نجانے کتنے چہرے رکھتا ہے ۔۔۔!
خدا کرے کہ کل یعنی 4ستمبر2018ءکو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کی سیاست کو اس شخص سے مکمل نجات حاصل ہوجائے۔۔۔
مجھے یقین ہے کہ اگر ایسا ہوا تو عنقریب قوم یومِ تشکّر منائے گی اور بارگاہ ایزدی میں شکرانے کے نفل ادا کرے گی۔۔۔

Scroll To Top