وہ جتنا چاہیں بلولیں پانی سے مکھن نہیں نکلے گا۔

  • حریفانِ شکست نصیب کے پٹ سیاپے سے بے نیاز کپتان خان اپنی ہی دھن میں مگن
  • بیرونی ملک چھپائی گئی لوٹ کھسوٹ کی دولت ، سب سے پہلے خلیجی ریاستوں سے واپسی کا امکان!
  • نئی حکومت کے پہلے سو دنوں کے آغاز میں ہی مخالفانہ ہتھکنڈے، عوام نے مسترد کر دیئے۔

raftar-e-alamرفتار عالم گلزار آفاقی
لگے رہو منا بھائی۔
صرف چند ہفتے یا پھر تین چار مہینے۔ بس دسمبر آنے دو پھر دیکھنا پی ٹی آئی کو جانے سے کوئی نہ روک سکے گا۔ تب تک تم اپنے کام میں لگے رہو منا بھائی۔
حریف حیراں پریشان شکست خوردہ بصرت خوردہ، خواجہ سراو¿ں اور پھاپا کٹنی چھین چھری زنانیوںکی طرح۔ یہی سبب ہے کہ بعداز شکست وہرزیمت اپنی بچی کھچی قوت کی ازسر نو شیرازہ بندی کی بجائے سب کے سب نون غنے ریشہ دوانیوں ، چالاکیوں اور مکاریوں کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ کپتان کہ اس کے اللہ پاک نے اسے عزم وہمت اور جہد مسلسل کا جذبہ، ولولہ اور ارادہ و دیعت کر رکھا ہے وہ ہر رنگ اور نسل کے شگان آواز کی ہف ہف اور شف شف سے بے نیاز قومی تعمیر نو کے عظیم منصب کی طرف گامزن ہے۔ ملک سے ہر نوع کی بدعنوانی، بدمعاشی اور کرپشن سے خاتمے اور ایک نئے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لئے وہ سراپا جہاد بنا ہوا ہے۔ اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر دیارِ غیر سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ شمالی امریکہ اور یورپ کو اگر آئندہ قسط کے لئے رکھ چھوڑیں تو یہ جان لیجئے خلیجی ریاستوں اور بطور خاص متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) سے لوٹ کے مال کی آمد بہت جلد متوقع ہے۔
یاد رہے اس وقت اس ریاست میں رئیل اسٹیٹ بزنس میں پاکستان کے کم و بیش ایک سو کے لگ بھگ چھوٹے بڑے ٹائی کونز نے سرمایہ کر رکھی ہے اور ذرائع کے مطابق اس سرمایے کا غالب حصہ ناجائز اور غیر قانونی دولت پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں زرداری، نواز شریف، ملا فضل اور وسطی پنجاب کے بعض مقتدر پیروں اور گدی نشینوں کا حال بھی بتایا جاتا ہے۔ ماضی قریب مین سامنے آنے والے ایک سروے کی رو سے دبئی پراپرٹی کے بزنس میں بھارتی سرمایہ کاروں کے بعد سب سے زیادہ سرمایہ کاری پاکستانی سیٹھوں ، بدمعاشوں اور بھتہ خوروں نے کر رکھی ہے۔ قومی درد رکھنے والے تفتیشی اور تحقیقی اداروں کے افسران اور ذمہ داران کے تعاون اور اوورسیز پاکستانیوں کی اعانت کے باعث امید واثق ہے کہ بہت جلد بیرونی دنیا میں چھپائی گئی لوٹ کھسوٹ کی دولت کو ملکی خزانے میں واپس آنا ہی ہوگا۔ اس مثبت پیش رفت سے قومی خزانے کا خالی پن ختم تو نہ ہوگا کچھ نہ کچھ کم ضرور ہو جائے گا۔ غریب کے نومولود بچے پر بھی چڑھے ہوئے ڈیڑھ لاکھ روپے کے قرضے کا بوجھ کچھ تو کم ہوگا۔
مبصرین اس سلسلے میں وزیر خزانہ اسد عمر اور اور وزیر اعظم کے اینٹی کرپشن کے مشیر شہزاد اکبر کی اپنے نشانوں پر ٹھیک ٹھیک گولہ باری کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ موخر الذکر کے لندن کے حالیہ دورے کو بھی گیم چینجر سمجھا جا رہا ہے۔
گیم چینجر تو اور بھی بہت کچھ ہے۔مثلاً سادگی اور کفائت شعاری کی قومی مہم جس کا اولین اطلاق وزیر اعظم عمران خان نے سب سے پہلے اپنی ذات پر کیا۔ اور اسے پوری سرکاری مشینری تک پھیلا دیا گیا ہے۔ بتدریج سادگی اور کفائت شعاری کے اس مشن میں قوم کے ہر بچے بوڑھے نوجوان اور خواتین بھی شامل ہو جائیں گی۔
اگر ہم قومی معیشت پر معمولی ساغور بھی کریں تو یہ حقیقت اجاگر ہو جاتی ہے کہ اس اہم شعبے میں بد عنوانی ، ٹھگی، ٹکے ماری اور نوسر بازی کا چلن عام ہے، عمرانی حکومت کی عمومی پالیسی ہی یہ ہے کہ عوام کی شرکت سے اس شیطانی کھیل کو یکسر بند کردیا جائے۔
ابتدائی سو دنوں کے پلان کے ان چند مگر اہم خطوط بشمول میرٹ کی بلا دستی ، پولیس وپٹوار کے شعبوں میں کی جانے والی اصلاحات روزگار اور رہائش کے شعبوں میں ریلیف کو اگر پچاس فیصد بھی عملی جامہ پہنا دیا گیا تو عوام کے دلوں پر عمرانی حکومت کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ بس یہی وہ قریب قریب یقینی صورت حال ہے جس سے خوفزدہ منتشر اپوزیشن کے اوسان ٹھکانے پر نہیں اور وہ کسی ٹھوس حکمت عملی کے بغیر ہی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاںمارنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس کے بقراط نہیں سمجھتے کہ پانی کو جتنا چاہے بلوئیں اس سے مکھن نہیں نکل سکتا۔
مگر کیا کیجئے ہمارے اپوزیشن کے بقراط ان حقائق کو نہیں جانتے مانتے۔ ان کا سارا فوکس عمران خان کو پہلے سو دنوں کے ٹریک سے ہٹا دینے پر ہے۔ اس ضمن میں انتہائی گھٹیا اور شرمناک ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی ، افواہ سازی ، استہزائیہ رویے اور مایوس کن پروپیگنڈے وغیرہ وغیرہ۔
ایک قومی ادارے کے حالیہ سروے سے مگر جو حقیقت عیاں ہوتی ہے اس کے مطابق عوام نے اپوزیشن اور بطور خاص شکست نصیب نون لیگ کے انتقامی رویوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عام لوگ پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ نئی حکومت کو ہنی مون پریڈ کے پہلے سو دن پوری یکسوئی سے کام کرنے موقع دیا جانا چاہئے۔ اس دوران حکومتی کارکردگی جو بھی ہو اپوزیشن کو اس پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔ پوری دنیا میں جمہوری معاشروں کا یہی معمول ہے۔
عوام کو اب زیادہ انتظار نہیں کر نا پڑے گا۔ 4ستمبر کو صدارتی انتخاب کے معرکے کے بعد عمرانی حکومت نسبتاً زیادہ یکسوئی سے اپنے تبدیلی کے ایجنڈے پر گامزن ہو جائے گی جس سے نئے پاکستان کی تعمیر نو مشن تیزی سے آگے بڑھنے لگے گا۔ انشاءاللہ

Scroll To Top