موت کے پیام بر 06-11-2013

kal-ki-baat

جو لوگ حقائق اورحالات کا قریب سے ادراک رکھتے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ جنرل ضیاءالحق اپنے دورِ حکومت کے آخری ایام میں قدم پھونک پھونک رکھتے تھے اور اپنی سیکورٹی کے بارے میں انہوں نے زبردست احتیاط برتنی شروع کردی تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ 9اگست 1988ءکو مرحوم نے قینچی لاہور کے اوورہیڈ برج کا افتتاح کرنا تھا۔اس افتتاح کو ٹالنے کی انہوں نے پوری کوشش کی تھی لیکن بالآخر انہیں یہ خطرہ مول لینا پڑا۔ 8روز بعد انہیں بہاول پور جانا پڑا۔ یہ ایک پیشہ ورانہ ” مصروفیت“ تھی جس میں ان کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں فوجی افسران بھی تھے۔اپنے طور پر انہوں نے ہر ممکن احتیاط برتی۔ واپسی پر امریکی سفیر کو بھی اپنے جہاز میں سوار کرایا۔
17اگست1988ءکو تین بجے سہ پہر کے لگ بھگ ان کا جہاز بہاولپور کی فضاﺅں میں پھٹ گیا۔
آج تک اس حادثے کے حقائق سامنے نہیں لائے جاسکے۔ بالکل اسی طرح جس طرح جان ایف کینیڈی کی موت کا معمہ حل نہیں ہوسکا۔
حال ہی میں سی آئی اے کے کارناموں پر مشتمل ایک کتاب سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس قسم کے کسی بھی مشن کا بیڑہ جب بھی امریکہ کی اس تنظیم نے اٹھایا وہ مشن پایہءتکمیل تک ضرور پہنچایا گیا۔
متذکرہ کتاب میں ہی یہ بھی کہا گیاہے کہ جب بھی کوئی شخص اپنی افادیت امریکی حکمت سازوں کی نظروں میں کھو بیٹھتا ہے تو اس کا کام تمام کردیاجاتا ہے۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود بھی اپنی ” افادیت “ کھو چکے تھے۔ ان کا حشر بھی وہی ہوا جو ان کے بہت سارے پیش روﺅں کا ہوچکا تھا۔
کئی برس تک امریکہ کے ایجنڈے پر کام کرنے کے بعد جب حکیم اللہ محسود نے اس جال سے نکلنے کا ارادہ ظاہر کیا تو موت کے میزائل انہیں ان کے انجام تک پہنچانے کے لئے آن پہنچے۔

Scroll To Top