امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے ہونگے!

zaheer-babar-logo

پاک امریکہ تعلقات مسلسل تناو کا شکار ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت سے جاری سردمہری کا سلسلہ تاحال بدستورجاری وساری ہے۔ دوطرفہ تعلقات کی خرابی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو یہاں تک کہنا پڑا کہ پاک امریکہ تعلقات میں سرد مہری انھیں ورثہ میں ملی مگر اب وہ ان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیںچنانچہ پاکستان اور امریکہ کو اب ایک دوسرے کے عدم اعتماد کو کم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو سمجھنا ہے۔ “
پانچ ستمبرکو وزیر خارجہ پومپیو پاکستان آرہے مگر اس سے قبل ہی امریکہ نے کولیشن 30کروڈ امریکی ڈالر امداد منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔ امریکی فوج نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے خلاف ٹھوس کاروائیاں نہیںکیں لہذا مذکورہ امداد نہیں دی جاسکتی۔ ادھر شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی وہ رقم روکی ہے جو پاکستان دہشت گردی کے خلاف خرچ کرچکا۔“
پاکستان میں حکومت تبدیل ہوگی مگر امریکہ بہادر کی ڈو مور کی پالیسی میں کوئی ردوبدل سامنے نہیںآیا۔ انکل سام اعلانیہ طور پر پاکستان پر الزام لگارہا کہ وہ ان کالعدم جماعتوںکے خلاف کاروائی کرنے میں ناکام ثابت ہوا جس کا تقاضا واشنگٹن طویل عرصہ سے کرتا چلاآرہا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کا پاکستان پر مسلسل دباو رکھنے کی ایک وجہ نئی دہلی کو خوش کرنے کی کوشش بھی ہے۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کو اس کا باخوبی اندازہ ہے کہ ان دنوں بھارت میں بے جے پی کی حکومت ہے جس کی سیاسی مقبولیت کا ایک پہلو یہ کہ وہ خود کو پاکستان کی بدترین مخالف سمجھتی ہے۔ امریکہ پاکستان کے خلاف مورچہ زن ہوکر ایک تیر سے کئی شکار کررہا ہے۔ مثلا ایک طرف مودی سرکار کو پیغام دیا جارہا ہے کہ آنے والے عام انتخابات میں پاکستان دشمنی کا چورن بیچنے کے لیے واشنگٹن ان کے ساتھ پورا تعاون کریگا تو دوسری جانب پاکستان پر دباو بڑھانے کی پالیسی کی شکل میں پیغام دیا جارہا کہ وہ چین سے مذید قربتیں بڑھانے میں احتیاط برتے۔
امریکہ اور چین کی سفارتی اورتجارتی جنگ اب کھلا راز ہے۔ واشنگٹن کو باخوبی اندازہ ہوچکا کہ مسقبل میں بجینگ محض معاشی میدان میں اس کا بھرپور مقابلہ نہیں کریگا بلکہ سیاسی محاذ پر بھی اسے ایک موثر فریق کا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جنوبی ایشیاءمیں بدلتی سیاسی صورت حال میں نئی صف بندی کی جارہی جس میں امریکہ ہر ملک کو مخالف اور حمایتی کے معیار پر پرکھ رہا۔ پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ جب جب واشنگٹن نے اسے بھرپور استمال کیا تو پاکستان کا حکمران طبقہ محض اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے باآسانی سرتسلیم خم کرتا رہا۔ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا کوئی بھی طالب علم یہ سچائی ماننے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ارض وطن کے طاقتور لوگوں نے یہاں انفرادی اور گروہی مفادات کی تکمیل تو کی مگر قومی تقاضوںسے صرف نظر کیا۔
امریکہ کے سامنے اپنے موقف کے لیے ڈٹ جانا یقینا بہادری کا کام ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کس حد تک واشنگٹن کا دباو برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ سالوں سے معیشت کی بدترین صورت حال اسلام آباد میں براجمان حکمران کو تادیر مزاحمت کی اجازت نہیں دیتی ۔سب سے پہلے بطور قوم ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہوگا۔غالب نے ٹھیک کہا تھا کہ ۔۔۔
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی اک دن
وطن عزیز میں کچھ ایسی ہی صورت حال رہی ہمارا حکمران طبقہ کھلے عام امریکہ کے زیر اثر رہنے والے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض پہ قرض لیتا رہا مگر اپنی معاشی حالت کو درست کرنے کی جانب متوجہ نہ ہوا۔ سالوں سے اہل اقتدار جس بے شرمی سے شاہ خرچیاں کرتے رہے وہ افسوسناک ہونے کے علاوہ قابل مذمت بھی ہے۔ روس افغانستان جنگ کے نتیجے میں پاکستان نے امریکہ کی جو خدمت بجا لائی جدید تاریخ میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے مگر اس کے نتیجے میں ہمیں ورثہ میں ایسے بڑے اور پچیدہ مسائل ملے جن سے اب تک جان نہیں چھڑائی جاسکی۔
مقام شکر ہے کہ اب پاکستان تحریک انصاف نے خارجہ امور کی نزاکتوں کا احساس کیا ۔ قوی امکان ہے کہ مسقبل قریب میں جو پالیساں ترتیب دی جائیں گی ان میں پاکستان اور صرف پاکستان کا مفاد محلوظ خاطر رکھا جائیگا۔کم وبیش 22کروڈ کی آبادی کا ملک بجا طور پر مسحق ہے کہ اس کے عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ پاکستان کے مسائل نہ داخلہ سطح پر کم ہیں اور نہ ہی خارجہ محاذ پر ان میں کمی لائی جاسکی لہذا اب آنے والے ماہ وسال میں ہوشمندی پر مبنی رویہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیںرہا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا حوصلہ افزاءہے کہ وہ آئندہ چندروز میں پاکستان کے دورے پر آنے والے امریکہ وزیر کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے۔ “یقینا ملکوں کے تعلقات میں اونچ نیچ آنا حیران کن نہیں۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ مکمل طور پر تعلقات خراب کرنے کو کسی صورت متحمل نہیںہوسکتا چنانچہ ممکن حد تک ایسے اقدمات اٹھائے جانا خارج ازمکان نہیں جس میں امریکہ کے شکوے شکایات کو دور کیا جاسکے۔یاد رہے کہ پاکستان کسی طور پر ایک نئی سردجنگ کے کسی ایک فریق کی مکمل حمایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں چنانچہ ایک متحرک خارجہ پالیسی ہی بطور قوم ہمیں درپیش مسائل سے باوقار انداز میں نکلنے میںکامیاب کرسکتی ہے۔

Scroll To Top