پاکستان کی قربانیاں فراموش:امریکہ نے30 کروڑ ڈالرز کی ادائیگی روک لی

  • پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکام رہا جس کے باعث ادائیگی روکنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان کی 2 کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ترجمان پینٹاگان
  • یہ کوئی امداد نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والا خرچ ہے، 5 ستمبر کو امریکی وزیرخارجہ پاکستان آ رہے ہیں ان سے مل، بیٹھنے کا موقع ملے گا تو اس بارے اپنا موقف پیش کریں گے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

پاکستان امریکہواشنگٹن(مانیٹرنگ) امریکا نے پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 30 کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکام رہا جس کے پیش نظر 30 کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق امداد کی منسوخی کا فیصلہ امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے کیا جب کہ پاکستان کی 2 کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے لیے اسلام آباد پر دباو¿ ڈالتے رہیں گے پاکستان کی امداد کی منسوخی کا نوٹی فکیشن ستمبر کے آخر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔امریکا کی جانب سے پاکستان کی امداد روکنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب چند روز بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور چیئرمین جوائنٹس چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اسلام آباد کا دورہ کریں گے اور ملکی نئی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ دریں اثناء وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کی جانب سے عسکری امداد روکنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی امداد نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والا خرچ ہے تاہم اس معاملے پر امریکی وزیرخارجہ سے بات ہوگی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 تاریخ کو امریکا کے وزیرخارجہ پومپیو تشریف لائیں گے ان سے مل، بیٹھنے کا موقع ملے گا اور تبادلہ خیال ہوگا اور اپنا موقف پیش کریں گے۔انہوںنے کہاکہ جب میں نے یہاں آنے کے بعد حالات دیکھے تو باہمی تعلقات تعطل ہوچکے ہیں تو ملاقات میں دیکھنا ہے کہ ہم آگے کس طرح بڑھیں، ان کا نقطہ نظر ہم سنیں گے اور اپنا موقف ان کے سامنے رکھیں گے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ باہمی اعتماد اور عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنے تعلقات کو آگے بڑھائیں گے۔کولیشن سپورٹ فنڈ پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پچھلی حکومت کا یہ حال تھا کہ کوئی گفت وشنید نہیں تھی اور بالکل تعطل تھا اور یہی ہمارے سامنے آغاز کس طرح پانے مفاد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھیں۔انہوںنے کہاکہ یہ کوئی امداد نہیں ہے جو معطل ہوگئی بلکہ یہ وہ پیسہ ہے جو ہم نے خرچ کیا ہے اپنی بہتری کےلئے کیا ہے جس کو انھوں نے پورا کرنا تھا۔

Scroll To Top