خواجہ سعد رفیق کی بندربانٹ :ریلوے کی 6245 ایکڑ زمین دوستوں‘ سیاسی ورکروں کو الاٹ کردی

  • ادارے کی 1 لاکھ 68 ہزار ایکڑ زمین پر بااثر افراد نے قبضہ کر رکھا ہے جن کو ریلوے کے کرپٹ مافیا کی درپردہ حمایت حاصل ہے
  • سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا موقف دینے سے انکار،نئے وفاقی وزیر شیخ رشید انقلابی اقدامات اٹھانے کیلئے پر عزم

خواجہ سعد رفیقاسلام آباد (آن لائن) سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے گزشتہ چار سالوں میں ریلوے کی 6245 ایکڑ زمین دوستوں اور سایسی ورکروں کو الاٹ کردی تھی۔ اس زمین کی قیمت اربوں روپے میں تھی جبکہ خواجہ سعد رفیق نے کوڑیوں کے بھاﺅ یہ زمین اپنے ہم نواہوں دوستوں اور ہم پیالہ لوگوں میں تقسیم کی۔ ریلوے کی ملک بھر میں 1 لاکھ 68 ہزار ایکڑ زمین پر ملک کے بااثر لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے جس کو واگزار کرانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر ریلوے کا آڈٹ جاری ہے اور اب تک اربوں روپے کی مالی بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع سے حاصل دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے 2013 ءمیں وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہی 118 ایکڑ زمیں مختلف لوگوں کو الاٹ کی جبکہ 2014 ءمیں 1437 ایکڑ زمین الات کی گئی 2015 ءمیں خواجہ سعد رفیق نے 2107 ایکڑ زمین الاٹ کی جبکہ حکومت کے آخری سال میں 2016 ءمیں 2683 ایکڑ زمین الاٹ کی تھی جس کی تحقیقات جاری ہیں اور حکومت کے دور میں ریلوے کی زمینوں کی کرپٹ مافیا کی طرف سے بندربانٹ میں بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔ ریلوے کی قبضہ اور ملکیتی زمینوں کے بہتر استعمال سے ریلوے کا ادارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوسکتا ہے لیکن ریلوے میں کرپشن کی انتہا ہے اور کرپٹ مافیا نے ریلوے کو جکڑ رکھاہے اور اس مافیا سے ریلوے کو واگزار کرانے کیلئے نئے وفاقی وزیر شیخ رشید کو انقلابی اور سخت اقدامات اٹھانا پڑیں گے جب اس حوالے سے خواجہ سعد رفیق کو رابطہ کرکے موقف لینے کی کوشش کی تو انہوں نے جواب نہیں دیا ہے

Scroll To Top