کون بنے گا صدر پاکستان؟:اپوزیشن متفقہ امیدوار لانے میں بدستور ناکام، عارف علوی کی کامیابی یقینی

  • پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما بشمول اعتزاز احسن اورن لیگی حمایت یافتہ امیدوار مولانا فضل الرحمن ایک دوسرے کے خلاف طنز و تنقید کے تیر برسانے میں مصروف
  • پی ٹی آئی امیدوار عارف علوی کی حلیفوں سے رابطوں اور حمایت حاصل کرنے کی سنجیدہ کوششوں کے باعث کامیابی کے امکانات مزید روشن

عارف علوی کی کامیابی یقینیلاہور( ریاض ملک ) صدر مملکت کے عہدے کےلئے انتخاب کل ہوگا ، حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی کامیابی کے امکانات واضح جبکہ دوسری جانب اپوزیشن بدستور اختلافا ت کا شکار اور منتشر۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے امیدوار اعتزاز احسن کی حمایت سے دستبردار ہونے سے انکاری جبکہ ن لیگ اور ایم ایم اے مولانا فضل الرحمن کی حمایت پر کمربستہ ہےں نتیجہ یقینا دونوں کی شکست اور پی ٹی آئی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی کامیابی کی صورت میں سامنے آنے کے واضح امکانات ہیں۔فریقین (مولانا فضل الرحمن۔ اعتزاز احسن) ایک دوسرے کے خلاف نہ صرف صف آراءہیں بلکہ طنز و تنقید کے نشتر چلانے میں بھی مصروف ہیں جبکہ عارف علوی حمایت حاصل کرنے کیلئے حلیفوں کے ساتھ سنجیدہ رابطے کرکے اپنی حمایت کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ سینیٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین خفیہ رائے شماری کے ذریعے نئے صدر کا انتخاب کریں گی ، تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی ، پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن ،مسلم لیگ (ن) اور ایم ایم اے کے امیدوار مولانا فضل الرحمن بطور امیدوار میدان میں ہیں تاہم اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمن میں سے کسی ایک کو اس عہدے سے دستبردار کرانے کیلئے کوششیں بھی جاری ہیں۔ صدر کے عہدے پر انتخاب کے لئے قومی اسمبلی اور چاروںں صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں کو پولنگ اسٹیشنز کا درجہ دیا گیا ہے اور پولنگ کا عمل قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیک وقت شروع ہوگا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد اور دیگر چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں پریذائیڈنگ افسران ذمہ داریاں سر انجام دیں گے ۔رجسٹرار سمیت دیگر افسر پولنگ افسروں کے طورپر معاونت کریں گے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخاب کے لئے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ الیکٹورل کالج چھ یونٹس پر مشتمل ہے جس میں سینیٹ ،قومی اسمبلی ، پنجاب ،سندھ ، خیبر پختوانخواہ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں شامل ہیں۔ پنجاب ، سندھ اور خیبر پختوانخواہ اسمبلیوں کے کل ووٹ بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد کے برابر تصور ہوں گے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق 4ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کرلی گئی ہے ۔ صدارتی انتخابات کے لئے مجموعی طور پر 1500 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، سفید رنگ کے بیلٹ پیپرز واٹر مارکڈ ہیںجن پر 3امیدواروں کے ناموں کے سامنے خالی خانہ چھاپہ گیا ہے۔ پورے انتخابی عمل کے بارے میں ارکان کی رہنمائی کےلئے اسمبلیوں کی عمارتوںمیں ایک تفصیلی ہدایت نامہ آویزاں کردیا گیا ہے۔

Scroll To Top