حریف نہیں جانتے کہ ان کا واسطہ عزم و ہمت کے کس کوہ گمراں سے پڑا ہے

  • اپوزیشن کی تنگ ظرفی، نئی حکومت کو ہنی مون کے سو دن بھی نہیں دینا چاہتی۔
  • وہ خوفزدہ ہیں اگر اسے کام کا موقع دے دیا گیا تو ہمارا وجود ناکارہ ہو جائے گا۔
  • بدیلی کے عمل سے جڑی جزئیات اور حرکیات سے چشم پوشی کسی طور ممکن نہیں۔
  • تمام تر معاشی مجبوریوں کے باوجود عمرانی حکومت نے عوام کے لئے پٹرول سستا کر دیا۔

raftar-e-alamرفتار عالم گلزار آفاقی
افتادگان خاک سال ہاسال کی محرومیوں، محتاجیوں اور کمیوں کجیوں سے زچ ہو چکے ہیں۔ وہ گھٹن سے بے حال ہیں۔ انہیں سانس کی ڈوری برقرار رکھنے کے لئے فوری طور پر تازہ آکسیجن درکار ہے۔ ان کی توقعات کا آسمان کو چھانا سمجھ میں آتا ہے۔ اس کے باوصف مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تبدیلی کے عمل کی اپنی جزئیات اور حرکیات ہوتی ہیں۔ جن کی تکمیل کے بغیر کسی بھی مسئلے کا حل ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ آپ خواہ کتنے ہی بھوکے کیوں ناں ہوں، ہنڈیا کے پورے لوازمات بھی موجود ہوں مگر ان سب کے باوجود طبعی و کیمیائی اصولوں کے تحت کھانا پکنے میں مطلوبہ وقت تو ضرور لگے گا۔اللہ رحیم وکریم کے بنائے ہوئے قوانین ضرورت مندوں کی خواہشوں کے تابع و اسیر نہیں ہوتے۔
اپوزیشن جماعتیں مگر ان حقائق پر پردہ ڈالے ہوئے عوام کو اکسا رہی ہیں کہ وہ عمران حکومت سے راتوں رات نتائج فراہم کرنے کا مطالبہ کریں، دباو¿ ڈالیں اور ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کریں۔ مثلاً زرداری اور نونیوں کی سابقہ حکومتوں کی بے اعتدالیوں اور بد عنوانیوں کے نتیجے میں سال ہا سال سے جاری بجلی لوڈشیڈنگ بجلی کا سوئچ نہیں کہ آن آف کرنے سے آجائے یا چلی جائے۔ زرداری اور نون غنے بجلی ساز کمپنیوں سے ادھار پر بجلی لیتے رہے اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت حکومت کے ذمے650ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے جس کی ادائیگی کے بغیر لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ دو ہفتے پہلے 6کمپنیوں نے مالی تنگی کے باعث بجلی بنانی بند کر دی جس سے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگیا۔ معاملہ صرف بجلی کمپنیوں کی بھاری ادائیگیوں کا ہی نہیں ہے۔ نونی حکومت قومی معیشت پر بھی92ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کا بوجھ لاد گئی ہے۔ اب ان قرضوں پر واجب الادسود کے لئے بھی بھاری کم قرضے درکار ہیں۔ اس مقصد کے لئے حکومت کے پاس دو آپشنز ہیں۔ ایک یہ کہ آئی ایم ایف کے آگے جھولی پھیلائی جائے۔ اور اس سے بیل آو¿ٹ پیکج حاصل کیا جائے جیسا کہ 1980سے اب تک سابقہ حکومتیں22مرتبہ یہ رعائت حاصل کر چکی ہیں۔ مگر یہ اقدام اس قدر ہیچ ہے کہ دنیا بھر میں ہماری بھد اڑے گی۔ دوسر آپشن قومی سطح پر کفائت شعاری ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ عمران خان صاحب اپنی ذات، منصب اور سرکاری اداروں کی حد تک اختیار کر چکے ہیں۔ اس کی تفصیلات عوام تک پہنچ چکی ہیں۔
کفائت شعاری ہی کا ایک پہلو کرپشن کے امکانات کو کم سے کم کرنا بھی ہے ظاہری بات ہے جب سرکاری اور کاروباری شعبوں میں ٹیکس چوری ، کمیشن طوری اور کک بیکس کا زور ٹوٹے گا تو اسے قومی خزانے میں روپیہ پیسہ آئے گا۔
اسی طرح عمران حکومت کی ازبس کوشش ہے کہ بیرون ملک چھپائے گئے اربوں روپے کسی نہ کسی طور پر وطن میں واپس لائے جائیں۔ سمندر پار پاکستانیوں اور عام سرمایہ کاروں کو ملک کے اندر سرمایہ کاری کے امکانات پیش کئے جانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
ماہرین معاشیات یقین رکھتے ہیں کہ اگر عمران حکومت اگلے سو دنوں میں ان ترجیحات کے نصف پر بھی عمل ہو گیا تو 22کرو عوام اپنے سامنے تبدیلی کے شواہد دیکھ سکیں گے۔ لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں اور خوشگواریاں در آئیں گی اور ایک معین مفہوم میں پاکستان کے غریبوں ، محروموں، محتاجوں،کسانوں، مزدوروں سفید پوش حلقوں اور متوسط طبقوں میں عمران خان صاحب کی ساکھ اس قدر مضبوط، مقبول اور موثر ہو جائے گی کہ ہمارے ہاں کی پیوست زردہ، کرپٹ اور حریص اپوزیشن میدان سیاست سے خارج ہو کر رہ جائے گی۔ اور فقط حزب اختلاف کے ایسے عناصر ہی کو بقا میسر آئے گی جو اپنی دیانت، امانت اور اصابت کا چھا ریکارڈ رکھتے ہوں گے۔
اب معاملہ یہ ہے کہ زرداری اور نون غنون کی قیادت میں منافقین پر مشتمل اپوزیشن ٹولہ مسائل اور ٹھوس ایشوز پر تنقیدی اظہار اختلاف کی بجائے عمران حکومت کو اوچھے ہتھکنڈوں سے زچ کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔ دنیا بھر میں نئی حکومت کو ہنی مون کے پہلے سو دن اس طرح دیئے جاتے ہیں کہ اس کی ہرگز کوئی مخالفت نہیں کی جاتی اور اسے اپنے پانچ سالہ ایجنڈے اور منشور کی مہورت اور چیرہ نمائی کا موقع اور سولت فراہم کی جاتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اپوزیشن حکومتی جماعت اور قیادت کی ذاتیات پر حملے کرنے پر اتر آئی ہے۔ ظاہری بات ہے ایسی حکومت جو سٹیٹس کو کی تبدیلی کے لئے بنیادی اقدامات اٹھائے گی تو اس میں بعض غلطیاں بھی سرزد ہو سکتی ہیں۔ نئی حکومت میں بیشتر و زرا پہلی بار اپنے مناصب پر براجمان ہونے کے باعث ناتجربہ کاری کے باعث غیر دانشتہ طور پر بعض غلطیوں کے بھی مرتکب ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھرمیں جاری معروف جمہورتیوں میں مقامی اپوزیشن ایسے معمولی معاملات پر چشم پوشی کا طریق اپنائی ہیں مگر ہمارے ہاں کے کوتاہ بین سیاسی حریف ایسے معاملات کو اچھالتے ہیں۔ اور کوشش کرتے ہیں کہ نئی حکومت ہنی مون کے پہلے سو دنوں میں ہی ” طلاق“ کی طرف رجوع کر جائے۔
مگر یہ اپوزیشن بھول رہی ہیں کہ اس کا واسطہ عمران خان کی صورت میں ایک ایسے سیاستدان سے پڑا ہے جو جھکتا ہے نہ بکتا ہے جو ڈرتا ہے نہ پسپا ہوتا ہے۔بلکہ اس کے برعکس میدان کا ر زار میں ڈٹ جاتا ہے ، بدی کی ہر طاقت سے بھڑ جاتا ہے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتا جب تک عوامی مفاد سے جڑے ہوئے مشن کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر لیتا۔
حقیقت وقت یہ تحریر آپ کے زیر مطالعہ ہوگی ستمبر کا مہینہ طلوع ہو چکا ہوگا۔ اور یہ خبر میں بہت وثوق سے اپنے قارئین تک پہنچ رہا ہوں کہ اس مہینے کے تیس دنوں میں عام لوگوں کو معاشرتی اور معاشی شعبون میں آسانیوں اور سہولتوں کی بہت خبریں ملیں گی۔ ان میں سے ایک خبر تو یہ ہے کہ حکومت نے اپنے عوام کو ریلیف دینے کے لئے گیس ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں معقول کمی کا پلان تیار کر لیا ہے بہت ممکن ہے آج کے اخبارات میں یہی خبر ہیڈ لائن کا حصہ بھی بنے۔

Scroll To Top