پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے قریب آرہے!

zaheer-babar-logo

اسے سفارتی حلقے پاکستان کی بدلی ہوئی خارجہ پالیسی سے تعبیرکررہے ہیںکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوٹوک انداز میں جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی موقف کی حمایت کی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر پاکستان آئے ہیں جہاں انھوں نے وزیر اعظم عمران خان ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد بغیری بھی ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بگاڈ میں بلاشبہ ایران کی مشکلات میں اضافہ ہوا ۔ ایسے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اس امید کا اظہار کرنا یقینا ایران کے لیے حوصلہ افزاءہے کہ جوہری معاہدے میںشامل دیگر فریق اپنی زمہ داریاں نبھائیں گے کیونکہ عالمی ادارے آئی اے آئی اے نے کئی مرتبہ ایران کی جانب سے معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ “
پاکستان اور ایران کے تعلقات کے درمیان حالیہ دنوں میں خاصی بہتری دیکھنے میں آئی ہے ۔ دونوں ملک ماضی کے مقابلے میں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران نے اس پر بھی اتفاق کیا ہے کہ دو طرفہ تجارت کا حجم آئندہ پانچ ارب ڈالرز تک بڑھایا جائیگا۔ ادھر پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ سالوں سے التواءکا شکار ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو ایران پر عالمی پابندیوں کا انعقاد تھا تو دوسری جانب خود پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت بھی باجوہ ملکی ضروریات کے باوجود اس اہم منصوبہ پر خاطر خواہ پیش رفت دکھانے میںناکام رہی۔(دیک) پاکستان اور ایران دونوں ہی ایک دوسرے سے بہتر تعلقات کے خواہشمند ہیں مثلا ایران ان دنوں یوں مشکل حالات کا شکار ہے کہ امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگانے کے لیے تیاری کررہا۔ ادھر پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ نئی پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت ملک کو معاشی بنیادوں پر مضبوط کرنے کے لیے پوری سنجدیگی کے ساتھ کوشاں ہے(ڈیک)۔ عمران خان ذاتی طورپر قوم سے لاکھوں ملازمیتں دینے کا وعدہ کرچکے۔ پی ٹی آئی کی ممکن حد تک کوشش ہے کہ وہ ایران سے تعلقات بہتر بنا کر ایک طرف اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے اور دوسرے دو طرفہ تجارت کو فروغ دے کر معیشت کو مضبوط کیا جائے۔
یہ یقینا افسوسناک ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں تناو کا براہ راست اثر مسلم دنیا پر پڑ رہا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہتر تعلقات نہ ہونا جہاں دونوں ملکوں کے لیے مسائل پیدا کرچکا وہی اس سے مسلمان ملکوں میں اتفاق واتحاد کی فضا پیدا نہیں ہوپارہی۔ ستم بالا ستم کہ ان حالات میں اوآئی سی جیسا ادارہ بھی اپنی ساکھ کھو رہا۔ مثالی حالات تو یہ ہوتے جب او آئی سی آگے بڑھ کر مسلمان ملکوں میں اتفاق واتحاد کے فروغ کے لیے اپنا کردار نبھاتا مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔
پاکستان اور ایران کے اچھے تعلقات کا اثر بلاشبہ افغانستان پر بھی پڑے گا۔ پڑوسی ملک میں ایران کے اثر رسوخ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں جب آئے روز کابل حکومت پاکستان کے خلاف ا لزام تراشی کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ایران افغانستان میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ دونوں ملک اس حد تک متفق ہیںکہ افغانستان میں قیام امن ہی خطے میںامن اور خوشحالی لاسکتا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے ایران اور پاکستان دونوں ہی حامی ہیں۔ایران بھی سمجھتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہے۔خارجہ امور کے ماہرین کے بعقول ایران خطے کے ان ممالک میں شامل ہے جو سمجھتا ہے کہ افغانستان کا مسلہ صرف اور صرف بات چیت کے زریعہ ہی حل ہوسکتا ہے۔پاکستان اور ایران کا موقف یہ ہے کہ افغانستان کے سب ہی فریقوں کو بات چیت کے زریعہ مسائل کا حل نکالنا چاہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے افغانستان میں داعش کی موجودگی سے ایران اور پاکستان دونوں ہی خائف ہیں۔ دونوں ملک سمجھتے کہ اگر جنوبی ایشیاءمیں حقیقی امن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہے تو دولت اسلامیہ ہویا افغان طالبان کسی کے بھی تشدد کی حمایت نہیں کرنی چاہے۔
گذشتہ سالوں میں ایران اور بھارت کے درمیان تعلقات بھی بہتر ہورہے مگر ایران نے دوٹوک انداز میں مقبوضہ وادی میں جاری تحریک کو جائز قرار دیتے ہوئے تنازعہ کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔چنانچہ یہ خارج ازمکان نہیںکہ ایران بھارت کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کو استمال میںلاتے ہوئے کشمیر کے مسلہ کو حل کرنے کے لیے اپنا کوئی کردار ادا کرے۔
مسلم لیگ ن کی حکومت کا مسلہ یہ رہا کہ وہ کم وبیش چار سال تک ایک مکمل وزیر خارجہ کاتقرر عمل میں نہیں لاسکی۔ وزارت خارجہ کا قلمدان سابق وزیر اعظم نوازشریف کے پاس رہا جو کئی دیگر اہم شعبوں کی طرح اس پر بھی توجہ مرکوز نہ کرسکے۔ عالمی سطح پر تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسا مشکل مشکل تر ہورہا کہ امریکہ باآسانی اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کرلے۔ ادھر خطے میں چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ بھی طاقت کا توازن تبدیل کررہا۔ پاکستان کو اس صورت حال میں کئی اہم موقعہ دکھائی دے رہے۔ عمران خان حکومت اگر اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر بنا لیتی ہے تو بلاشبہ اس کا اثر اندرونی صورت حال پربھی پڑے گا جس کے نتیجے میں ملکی اہم مسائل میںکمی آنے کی توقع ہے۔

Scroll To Top