ایل این جی معاہدے، ٹرمینل کرپشن: نیب کو تحقیقات تیز کرنے کی سفارش

  • سینٹ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے آئل ریفائنریز کو گزشتہ پانچ سال میں دی جانیوالی سب سبسڈیز کی تفصیلات طلب کرلیں، 290 ارب روپے کے کیسز پرآڈیٹر جنرل آف پاکستان اور نیب حکام کی طلبی
  • پی ایس او حکام قطر کےساتھ ایل این جی معاہدے کو خفیہ رکھنے کا جواز پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام ،معاہدے سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ، سینیٹر محسن عزیز

LNGایل این جیاسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے اور کراچی میں ایل این جی ٹرمینل میں ہونے والی کرپشن پر نیب کو تحقیقات تیز کرنے کی سفارش کردی ہے‘ کمیٹی نے آئل ریفائنریز کو گزشتہ پانچ سال میں دی جانے والی سب سبسڈی کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلی ہیں اور 290 ارب روپے کے کیسز پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور نیب حکام کو طلب کرلیا‘ کمیٹی نے او جی ڈی سی ایل کی طرف سے بلوچستان میں آئل اینڈ گیس کی دریافت کیلئے دیئے جانے والے تمام لائسنسز کا ہر چار ماہ بعد جائزہ لینے سفارش کی ہے‘ کمیٹی میں پی ایس او حکام قطر کے ساتھ ایل این جی کا ہونے والے معاہدے کو خفیہ رکھنے کا جواز پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز سینیٹر محسن عزیز کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں اکثریتی ممبران نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ایس او حکام کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ہم قطر کے ساتھ ہونے والے ایل این جی کے معاہدے کو اوپن نہیں کر سکتے۔ اس میں ایسی کیا چیز تھی جس کی وجہ سے اس کو خفیہ رکھا گیا اور یہ معاہدہ پندرہ سال کیلئے کیوں کیا گیا آئل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں انہوں نے کہا کہ کیا کسی دوسرے ملک کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو بھی خفیہ رکھا جائے گا۔ اس معاہدے سے عوام کا اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور یہ معاہدہ کم مدت کیلئے بھی تو ہوسکتا تھا۔ کراچی ٹرمینل 13 بلین ڈالر سے شروع ہوا جو 200 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 ءمیں آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور نیب کے پاس 290 ارب روپے کے کرپشن کے کیسز ہیں ہم اس حوالے سے نیب اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے بریفنگ لیں گے۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم غلام سرور خان نے کہا کہ ایل این جی معاہدہ کے حوالے سے نیب میں انکوائری چل رہی ہے اس حوالے سے اور کراچی ٹرمینل میں ہونے والی کرپشن کے حوالے سے نیب کو تحقیقات تیز کرنی چاہیں۔ ایل پی جی اور ایل این جی میں جو مافیا کا تاثر ہے ہم ان کو دور کریں گے یہ ہمارے 100 دن کے منصوبے میں شامل ہے وزیراعظم پاکستان نے اس حوالے سے دو دن بعد میٹنگ بلائی ہے بلوچستان میں او جی ڈی سی ایل کی طرف سے جتنے لائسنس دیئے گئے ہیں ہم اس کا ہر چار ماہ بعد جائزہ لیا کریں گے۔ اور آئل کی مصنوعات پر جو ٹیکسز لگائے گئے ہیں ان کو بھی دیکھا جائے گا۔ ایل این جی معاہدے میں دونوں ممالک کی طرف سے معاہدے میں ایسی کلاز رکھی گئی ہیں کہ اس کو راز میں رکھا جائے۔ سینیٹر سلیم مانڈووی والا نے کہا کہ انڈیا نے اپنے کئے گئے معاہدوں پر دوبارہ سے بات چیت کی ہے کیا ہم بھی اس معاہدے پر کوئی بات چیت کر سکتے ہیں اور یہ معاہدہ پندرہ سال کیلئے کیوں کیا گیا اور اسے خفیہ کیوں رکھا گیا۔ پی ایس او حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قطر کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ 2015 ءمیں طے پایا اور یہ معاہدہ قطر گیس آپریٹرنگ کمپنی اور پی ایس او کے درمیان ہوا تھا اور اس معاہدے کو دونوں کمپنیاں پبلک کرنے کی مجاز نہیں ہیں معاہدے کے تحت اگر کوئی اس کو پبلک کرتا ہے تو وہ دوسری کمپنی کو بتائے گا۔ او جی دی سی ایل حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں ڈسٹرکٹ کوہلو میں 7 بلاک ہیں ذن بلاک میں گیس دریافت ہوئی لیکن اس کا پریشر بہت کم تھا اور جندران میں بھی گیس دریافت ہوئی۔ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آئل پر کسٹم ڈیوٹی اورلیوی ایف بی آر کی طرف سے لگائی جاتی ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے حکام نے بتایا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمت وزارت طے کرتی ہے جبکہ اس پر عملدآمد اوگرا کی طرف سے کروایا جاتا ہے۔ بائیس ممالک میں قیمت ایک جیسی رہتی ہے اس پر جی ایس ٹی بی ایف بی آر کی طرف سے طے کیا جاتا ہے۔ سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل کی طرف سے 1991 ءمیں گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری کئے تھے جس کو ستائیس سال ہوگئے ہیں بلوچستان میں جو وسائل ہیں ان کا حصہ بلوچستان کی عوام کو نہیں مل رہا ۔ بلوچستان کو دو فیصد حصہ دینا جانا ہوتا ہے لیکن وہ بھی نہیں مل رہا۔ جبکہ دوسرا صوبوں کو ساڑھے بارہ فیصد حصہ مل رہا ہے۔ جہاں سے گیس نکل رہی ہوتی ہے وہاں کے لوگوں کو گیس نہیں مل رہی آئین کے آرٹیکل 172 کے تحت جہاں سے آئل اور گیس نکالی جائے پچاس فیصدی حصہ اس صوبے کو ملنا چاہیے

Scroll To Top