حل“ ہماری نظروں کے سامنے کھڑا ہے ! 02-11-2013

kal-ki-baat
امریکہ نے ”واشنگٹن مذاکرات “ کے فوراً ہی بعد میران شاہ میں ڈرون حملہ کرکے دنیا بھر کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص ایک واضح پیغام دیا ہے ۔ اور وہ پیغام یہ ہے کہ اسے نہ تو عالمی رائے عامہ کی پروا ہ ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کے کسی احتجاج کو کوئی اہمیت دیتا ہے۔
یہ ضرب المثل غالباً پاکستان کے لئے ہی بنائی گئی تھی کہ Beggars are not choosers (بھکاریوں کو بھیک میں کیا ملنا چاہئے اس کا فیصلہ کرنے کا حق یا اختیار بھکاریوں کو نہیں ہوتا)
امریکی صدر اوباما نے میاںنوازشریف کو کیا دیا اس کا علم پوری دنیا کو حالیہ ڈرون حملے کی بدولت ہوگیا ہے۔
اس حملے کے ساتھ ہی لندن سے میاںنوازشریف کا یہ بیان آگیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کردیئے گئے ہیں۔ اس بیان سے پہلے یہ خبر بھی سامنے آچکی ہے کہ طالبان کے نام سے کام کرنے والی تنظیموں کی تعداد کم ازکم تیس کے لگ بھگ ہے۔ غیر سرکاری طور پر یہ تعداد ساٹھ کے قریب ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنی ساری تنظیموں کے ساتھ مذاکرات نہ تو کئے جاسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں ایسے مذاکرات کے فیصلوں کا پابند بنایاجاسکتا ہے جن میں شریک ہی نہ ہوں۔
پھراس معاملے کا حل کیا ہے ؟
اگر آنکھیں اور کان بند رکھنے کی پالیسی ترک کردی جائے تو ” حل “ بالکل سامنے کھڑا نظرآئے گا۔ ہمیں فساد کی جڑ تک پہنچنا چاہئے۔ اور ان ” قوتوں “ تک پہنچا چاہئے جو ” طالبان “ کو اسلحہ اورسرمایہ فراہم کرتی ہیں۔ اگرچہ اب بھی اُن حلقوں کی آواز خاصی بلند ہے جن کا موقف یہ ہے کہ یہ سارے خون آشام طالبان دراصل ” اسلام “ نافذ کرنے اور اس مقصد کے لئے ” جہاد “ کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں ` لیکن اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آرہی ہے کہ یہ جنگ ” اسلام “ نافذ کنے کے لئے نہیں پاکستان کی بنیادیں ہلانے کے لئے ہے۔
جو قوتیں بھی اس گھناﺅنے مقصد کی تکمیل کے لئے اِن ” دشمنانِ پاکستان “ کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کررہی ہیں ` حقیقی ” مذاکرات “ ہمارے اُن کے ساتھ ہونے چاہئیں۔۔۔

Scroll To Top