ہم طوقِ غلامی کو اپنا مقدر نہیں بنا سکتے !

aaj-ki-baat-new

ہم سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت پر یہ الزام درست بھی مان لیں کہ اس نے امریکی دباﺅ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر قومی خود مختاری کا سودا کیا تھا` اور اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کرلیں کہ جنرل موصوف کی حکومت کے خاتمے پر جو اصحاب اسلام آباد پر قابض ہوئے وہ بھی امریکی خوشنودی کی خاطر بڑے سے بڑے قومی مفاد سے دستبردار ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے ` تو بھی ہم مستقل بنیادوں پر ان حقوق سے دستبرداری کا طوق اپنے گلے میں ڈالے نہیں رکھ سکتے جو ایک آزاد اور خود مختار قوم کی پہچان ہیں۔ جنرل (ر)پرویز مشرف کے دور کا خاتمہ فروری2008ءکے عام انتخابات کے ساتھ ہوچکا۔ قوم نے بھاری اکثریت کے ساتھ جنرل (ر)موصوف کی سوچ اور پالیسیوں کو مسترد کردیا۔ صدر زرداری کاعہدِ خرابی بھی مئی 2013ءکے عام انتخابات میں اپنے منطقی کو پہنچا دیا گیا۔ ان انتخابات میں عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ اپنا فیصلہ اپنی آزادی اور وطنِ عزیز کی خود مختاری کے حق میں دے دیا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن)اور تحریکِ انصاف کی حمایت میں قوم کا ووٹ امریکی عزائم کے خلاف ڈٹ جانے کا فیصلہ تھا۔
اگر اس فیصلے کا احترام نہ کیا گیا تو پاکستان کے سیاست دان ملک پر حکومت کرنے کا اخلاقی جواز خود بخود کھو بیٹھیں گے۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے پاکستان کا ہر ذی شعور شخص جان چکا ہے کہ وہ امریکہ کے نشانے پر ہے ` اور اپنی اور اپنے ملک کی سلامتی اور سا لمیت کی جنگ لڑ رہی ہے۔
(یہ کالم 05-11-2013کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top