صدارتی انتخاب:اپوزیشن بدستور تقسیم: عارف علوی کی کامیابی یقینی

  • ڈاکٹر عارف علوی، اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمن میدان میں، اپوزیشن اتحاد کی طرف سے متفقہ امیدوار سامنے لانے میں ناکامی کے باعث حکومتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی کامیابی کے امکانات روشن
  • ہم حکمران نہیں خدمت گارہیں، کامیابی کی بھرپور امید ہے، ڈاکٹر عارف علوی، دو امیدواروں کے باعث اپوزیشن کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے، مولانا فضل الرحمن، اپوزیشن کے دو امیدواروں کے باعث ڈاکٹر عارف علوی کی کامیابی یقینی ہے، اعتزاز احسن کا اعتراف

عارف علوی کی کامیابی یقینیاسلام آباد(ریاض ملک سے)الیکشن کمیشن نے صدارتی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی جس کے مطابق 4 ستمبر کو ڈاکٹر عارف علوی، اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ملک بھر سے جمع کرائے گئے 12 امیدواروں میں سے 4 کے کاغذات نامزدگی گزشتہ روز منظور کیے گئے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کا جمعرات کو آخری روز تھا ،صدارتی الیکشن کے قواعد کے مطابق کاغذات نامزدگی واپس نہ لینے والے امیدواروں کے نام بیلٹ پیپر پر چھاپے جائیں گے اور یوں صدارتی الیکشن کی دوڑ میں اپوزیشن جماعتوں کے دو امیدوار میدان میں ہوں گے۔ یاد رہے کہ اپوزیشن کی تقسیم سے تحریک انصاف کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی فتح کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے اعتزاز احسن، ڈاکٹر عارف علوی، مولانا فضل الرحمان اور امیر مقام کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیے تھے۔یاد رہے کہ 4 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کےلئے مشترکہ امیدوار لانے میں اپوزیشن جماعتیں ناکام رہیں، پیپلز پارٹی اپنے امیدوار اعتزاز احسن کے نام پر ڈٹ گئی تاہم مسلم لیگ (ن) کو اعتزاز کے نام پر شدید تحفظات ہیں۔چند روز قبل جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آصف زرداری سے بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے صدارتی الیکشن کےلئے اعتزاز احسن کو دستبردار کرنے اوراپوزیشن کا مشترکہ امیدوار لانے کی درخواست کی تھی جس پر سابق صدر نے کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت نے اس حوالے سے اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کیا اور صدارتی امیدوار کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا تاہم انہوں نے بھی اعتزاز احسن کے نام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا۔دریں اثناءپی ٹی آئی کے نامزد صدارتی امیدوار عارف علوی بھاری اکثریت سے کامیابی کیلئے پر امید ہے، ان کا کہنا ہے ہم حکمران نہیں خدمت گارہیں،عوام نے اسی لیے ہمیں منتخب کیا، آئینی حدود میں رہ کر کام کروں گا،چین سے نہیں بیٹھوں گا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے نامزد صدارتی امیدوارعارف علوی نے خیبر پختنونخوا کے ارکان اسمبلی سے ملاقات کی، اس موقع پر عارف علوی نے کہا بھاری اکثریت سے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوں گے، تحریک انصاف کی حکومت نے کے پی میں کارکردگی دکھائی، ہماری کامیابی ہے، اسی لیے کے پی کے عوام نے دوبارہ منتخب کیا۔ ادھر جمعیت علمائے اسلام کے امیر اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے صدارت کے امیدوار مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ آصف زرداری دوستی کے تقاضوں پر پورا اتریں گے۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں سابق صدر ا?صف علی زرداری کو مسلسل پیغام بھیج رہا ہوں، دو امیدواروں سے اپوزیشن کو نقصان ہو گا، میں ان سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے کا احترام کریں، مجھے ان سے توقع ہے کہ وہ دوستی کے تقاضوں پر پورا اتریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تحریکِ انصاف اکثریتی جماعت نہیں بلکہ بڑا گروپ ہے، اگر وزیرِاعظم کے انتخاب کے وقت پیپلز پارٹی اپنا ووٹ استعمال کرتی تو شہباز شریف کی کامیابی یقینی تھی، یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی کے انٹرویو میں واضح کیا کہ اگرچہ مولانا فضل الرحمان نہایت کی قابل احترام ہیں لیکن وہ اس عہدے کے لئے بالکل موزوں نہیں ہیں یہ کہ ان کے حق میں دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے تسلیم کیا کہ حکومتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی موجودہ صورتحال میں کامیابی یقینی ہے ۔

Scroll To Top