سپریم کورٹ این آر او کیس: زرداری، مشرف کے 10 سالہ اثاثوں اور اکاو¿نٹس کی تفصیلات طلب

  • آصف زرداری کی جانب سے اثاثوں بارے جمع کرائے گئے بیان حلفی پر اظہار عدم اطمینان ،2007 کے بعد سے اثاثوں کی تفصیلات طلب
  • عدالت سے کچھ نہیں چھپائیں گے، وکیل پرویز مشرف، عدالت آپ کو کچھ چھپانے بھی نہیں دے گی، چیف جسٹس کا مکالمہ

سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری کی 10 سالہ اثاثوں کی تفصیلات اور اندرون و بیرون ملک اکاو¿نٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں این آر او کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت نے پرویز مشرف کے پاکستان میں موجود اثاثوں کی تفصیلات طلب کیں، اس پر پرویز مشرف کے وکیل نے مو¿قف اپنایا کہ عدالت سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت آپ کو کچھ چھپانے بھی نہیں دے گی، پرویز مشرف اپنی اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیل بھی دس دن میں دیں، سنا ہے پرویز مشرف کو سعودی عرب سے تحائف ملے۔سابق صدر کے وکیل نے بتایا کہ مشرف کے ایک اکاو¿نٹ میں 92 ہزار درہم ہیں، ان کے پاس جیپ اور مرسڈیز سمیت تین گاڑیاں ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف ساری زندگی کی تنخواہ سے بھی فلیٹ لے سکتے تھے، ان سے کہیں عدالت آ کر خود وضاحت دیں۔پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مو¿کل کے غیر ملکی اثاثے صدارت چھوڑنے کے بعد کے ہیںاس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا لیکچر دینے کے اتنے پیسے ملتے ہیں؟ کیوں نہ میں بھی ریٹارمنٹ کے بعد لیکچر دوں۔سماعت کے دوران عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے اثاثوں سے متعلق جمع کرائے گئے بیان حلفی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ان کے 2007 کے بعد سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔اس موقع پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ آصف زرداری 9 سال جیل میں رہے کچھ ثابت نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے فاروق نائیک سوال کیا کہ کیا آصف زرداری کاسوئٹزرلینڈ میں اکاو¿نٹ تھا؟ کیا بے نظیر شہید یا بچوں کے نام پر اکاو¿نٹ تھا؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آصف زرداری بیان حلفی میں بتائیں انہوں نے کوئی ٹرسٹ بنایا ہے یا نہیں، وہ باہر جاتے ہیں وہاں ان کی دیکھ بھال ان کے دوست کرتے ہوں گے۔عدالت نے سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری کی 10 سالہ اثاثوں اور 10 سالہ اندرون و بیرون ملک اکاو¿نٹ کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔بعدازاں عدالت نے حکم دیا کہ تفصیلی بیان حلفی 15 دن میں داخل کیے جائیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ این آر او کیس میں پرویز مشرف اور آصف زرداری کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرچکی ہے۔یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 کو قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا جسے این آر او کہا جاتا ہے، 7 دفعات پر مشتمل اس آرڈیننس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا جبکہ اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں جبکہ اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی واپسی بھی ممکن ہوسکی تھی۔این آر او کو اس کے اجرا کے تقریباً دو سال بعد 16 دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے کالعدم قرار دیا اور اس قانون کے تحت ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

Scroll To Top