منی لانڈرنگ کیس: مزید 15 مشکوک اکاﺅنٹس کا انکشاف

 

 

  • مشکوک اکاونٹس کی تعداد 33 ، رقم 41ارب روپے ہوگئی ،حسین لوائی، انور مجید ، عبدالغنی مجید جیل میں ہیں

زرداری تالپورکراچی ( این این آئی)ایف آئی اے حکام نے کہاہے کہ اب منی لانڈرنگ میں استعمال ہونے والے اکاونٹس کی تعداد 33 ، رقم 41ارب روپے ہوگئی ہے ، سامنے آنے والے مزید 11اکاونٹس کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں جعلی و بے نامی اکاونٹس کی تعداد 33ہوگئی ہے، منی لانڈرنگ کیس کی اب تک رقم 35سے بڑھ کر 41ارب ہوگئی ہے۔یہ چار اکاونٹس بھی سمٹ، یو بی ایل اور سندھ بنک کے ہیں جبکہ پچھلے 29اکاونٹس بھی انھی بنکس کے تھے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق بتاتے ہیں کہ ان چار اکاونٹس میں 6ارب روپے کی رقم آئی بھی اور گئی بھی ، حکام کے مطابق نئے انکشاف شدہ 4اکاونٹس میں سے کچھ مزید اومنی گروپ کے ہیں ۔سامنے آنے والے نئے 11اکاونٹس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ، یہ نئے اکاونٹس منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے دوران سامنے آئے ہیں۔حکام کے مطابق ان اکاونٹس سے زرداری گروپ کے اکاﺅنٹ میں 9کروڑ کی رقم کی ترسیل ہوئی ،زرداری گروپ کو 9 کروڑ کی ترسیل دو کمپنیوں کے جعلی یا بےنامی اکاونٹ سے ہوئی۔پہلے سے درج منی لانڈرنگ کے مقدمے اور نئی انکوائری میں زرداری گروپ کو 12کروڑکی ترسیل سامنے آئی ہے۔ اس پیشرفت پر حکام کا کہنا ہے کہ نئے سامنے آنے والے اکاونٹس کی ٹھوس تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، ایف بی آر سے ان اکاونٹس کے مالکان کا ڈیٹا مانگا گیا ہے اور پھر انھیں نوٹسز دے کر طلب کیا جائےگا۔واضح رہے کہ جعلی بینک اکاو¿نٹس اور منی لانڈرنگ کیسز کی سماعت سپریم کورٹ اور بینکنگ کورٹ کراچی میں جاری ہیں جب کہ اس کیس میں حسین لوائی، اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور عبدالغنی مجید عدالتی ریمانڈ پر جیل پر ہیں۔سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے اس کیس میں حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے۔

Scroll To Top