کیا آنے والے ایام میں ”گھوڑوں کی تجارت“ کا بازار ایک بار پھر آراستہ ہوگا؟

  • پی ٹی آئی کو کھلے دروازے کی پالیسی کے ساتھ نووار دان کی نظریاتی تربیت کا اہتمام بھی کرنا ہوگا۔
  • بعض سیاستدانوں کے لئے پارٹی بدلنا ایسے ہی ہے جیسے بنیان بدل لی جائے۔
  • تہہ در تہہ گھپ اندھیروں میں جگنو کی نحیف روشنی بھی کسی نعمت سے کم نہیں

raftar-e-alamرفتار عالم گلزار آفاقی

پہاڑ جیسے کام اور رکاوٹیں ہیںجن کا پی ٹی آئی اور عمران خان کو سامنا ہے۔ سال ہا سال سے ظالمانہ بنیاد پر قائم سٹیشن کو بدلنے اور اس کی جگہ ایک منصفیانہ نظامِ حیات کو روبہ عمل لانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔
صدیوں سے مجھے جمائے تصورات توھمات اور ترجیحات ترک کرنا اور بطور خاص ایک ایسے نیم خواندہ معاشرے میں جہاں ظلم زیادتی ٹھگی اور بے ایمانی کو زندگی کا وطیرہ سمجھ لیا گیا ہو نئے معاشرے کی تعمیر کی نوید ایسے ہی ہے جیسے تہہ در تہہ گھپ اندھیروں میں ایک جگنو کی ٹمٹمائی ہوئی نحیف سی روشنی۔
اس عظیم کام کے لئے جہاں سیاسی وقت ارادی اور متحرک، موثر اور مربوط تنظیم اور پرجوش و باہمت کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں فکری و مادی وسائل کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔
بلاشبہ عمران خان اخلاص نیت، عزم محکم اور جسمانی و ذہنی توانائیوں سے مالا مال شخصیت ہیں تا ہم اس حقیقت کا اعترا ف بھی جگہ ہے کہ ان کی پارٹی کے متعدد گوشے ان گنت تنظیمی کمزوریوں، فکری پسماندگی اور قحط اخلاص سے عاری ہیں۔ اس ضمن میں حالیہ انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی ” کھلے دروازے کی پالیسی“ نے بھی اپنا کام دکھایا، جس کے تحت مثالیت پسندی،IDEALISMاور PRAGMATISMعملیت پسندی کا ایک متزاج تیار کیا گیا اور بہتر انتخابی نتائج حاصل کرنے کی غرض سے ” الیکٹ ایبلز“ کو ”مشرف بہ انصاف“ کیا گیا۔ نئے آنے والوں کی ایک غالب تعداد عمران خان کے وژن سے قطعی نا آشناتھی ان کے لئے پارٹی بدلنا ایسے ہی ہے گویا ایک بنیان اتار کر دوسری پہن لی۔ ستم ظریفی کہ ان نوواردان الیکٹ ایبلز میں سے متعدد انتخابی معرکے میں پٹ کر رہ گئے۔ جو باقی ہیں وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کے ساتھ ساتھ دوسری ہم عصر جماعتوں سے بھی راہ و رسم رکھے ہوئے ہیں ، سیاسی مطلب برکی مکروہ وارداتیں ان دنوں عام ہیں۔ صدارتی انتخاب کا معرکہ سر پر کھڑا ہے۔ 4ستمبر فیصلے کا دن ہے۔ اور یوں جانئے کہ اگلے چند دن ”گھوڑوں کا جمعہ بازار“ آراستہ ہوگا۔ بھاو¿ تاو¿ اور مول تول کا دھندہ عروج پکڑے گا۔اور بعض ضمیر فروش ارکان پارلیمنٹ اپنے ووٹ کی قیمت وصول کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیں گے۔ اس ضمن میں پی پی پی اور نون غنہ پارٹیوں نے اپنی اربوں کی لوٹ کھسوٹ کی کمائی داو¿ پر لگا دی ہے۔ میرے ممدوح چوہدری اعتزاز احسن نے ایسے ہی تو نہیں کہہ دیا کہ مشکل حالات کے باوجود صدارتی انتخاب کے نتائج حیران کن بھی ہو سکتے ہیں انہوں نے زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کے بیشتر لوگ مجھے ووٹ دیں گے۔ ایسی ہی چہ مگوئیاں ماڈل ٹاو¿ن اور جاتی عمرہ سے بھی صفائی دے رہی ہیں۔ بنی گالہ کے وابستگان اس صورت حال سے کس حد تک اگاہ میں اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پارٹی ہدائت کی پیروی میں چھٹیوں پر لندن گئے ہوئے جہانگیر ترین بنی گالہ کی ایک ہی کال پر فوراً اسلام آباد پہنچ گئے۔ انہوں نے یہاں نہ صرف پارٹی کے اندر چھپی کالی بھیڑوں کی گوشمالی کی اور ان کی بے راہ روی کے آگے پل باندھ دیا بلکہ وہ صدارتی انتخاب کے حلقہ نیابت سے رابطے کے لئے ملک کے چاروں صوبائی ہیڈ کوارٹرز اور اسلام آباد میں قومی اسمبلی و سینٹ کے ارکان اور بطور خاص آزاد ارکان کے گروپوں سے بھی رابطے موثر کر رہے ہیں۔ یہی وہ خود اعتمادی اور بہتر ہوم ورک کا پسِ منظرہے جس کے بھرتے پر پی ٹی آئی قیادت، جہانگیر ترین اور صدارتی امیدوار عارف علوی اطمینان اور وثوق رکھتے ہیں کہ وہ درپیش صدارتی انتخابی معرکہ بڑی آسانی اور سہولت سے جیت جائیں گے
ادھر زمینی حقائق کا ایک پہلو پارلیمانی نمبر گیم سے جڑا ہوا ہے۔
جیسا کہ میرے متحرم قارئین باخبر ہونگے کہ صدارتی انتخاب کا حلقہ نیابت پارلیمنٹ کے دو ایوانوں یعنی سینٹ اور قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے۔ ان اداروں میں منتخب نمائندگان کی تعداد1174ہے۔ یعنی یہی تعداد ووٹرز میں بد ل جاتی ہے۔ تا ہم چونکہ صدر مملکت وفاق کی یک جہتی کا علمبردار اور علامتی منصب ہوتا ہے لہٰذا اس کے انتخاب میں مساوات اور یک جہتی کے عامل کو نمایاں رکھنے کی غرض سے تمام صوبائی اسمبلیوں کے ووٹ بلوچستان اسمبلی، جو نمبر گیم میں سب سے چھوٹی ہے، کے مساوی رکھے گئے ہیں اور ایک ریاضیاتی فارمولے کے تحت کل1174ووٹوں کو 706ووٹوں میں بدل دیا گیا۔ اب 706کے انتخابی حلقہ نیابت میں پارٹی پوزیشن کچھ یوں ہے۔ پی ٹی آئی اتحاد کے پاس میں346ووٹ جبکہ ( متحد ہونے کی صورت میں) اپوزیشن کے پاس ہوں گے320ووٹ۔ آزاد ارکان کی تعداد23ہے۔ اس معرکے میں آزاد ارکان بہت اہم اور موثر کردار ادا کریں گے اور اسی طرح مختلف پارٹیوں میں” وفاداریاں بدلنے والے بھی“۔
ادھر صدارتی امیدواروں کے حوالے سے تادم تحریر صورت حال یہ ہے کہ میدان کار زار میں سب سے مضبوط امیدوار پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن اور نون غنے اپنے اپنے امیدواروں کو کسی طور دستبردار کرتے نظر نہیں آتے۔ اگر یہی صورت حال 4ستمبر تک برقرار رہتی ہے تو یوں جانئے کہ منتشر اپوزیشن کے ووٹ بھی منتشر ہو جائیں گے اور پہلے سے ہی عددی بر تری رکھنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی بآسانی صدر مملکت کے منصب جلیلہ کے لئے منتخب ہو جائیں گے۔

Scroll To Top