پی ٹی آئی فعال بلدیاتی نظام لارہی !

zaheer-babar-logo

وطن عزیز میں حقیقی جمہوری نظام کے قیام کے لیے بلدیاتی نظام کا بھرپور انداز میں فعال ہونا لازم ہے ۔دنیا میں جہاںجہاں عوامی جذبات کی آئینہ دار حکومت بنی وہی لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے پہلی فرصت میں لوکل باڈیز کو ہی اولیت دی گی ۔بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ہاںباجوہ ایسا نہیںہوسکا۔جمہوریت کی دعویدار جماعتیں صبح وشام عوامی ہونے کی دہائی تو دیتی رہیں مگر عملا وہ ایسا اقدمات اٹھانے سے ہچکچاہٹ کا شکار رہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہو۔
عمران خان اپوزیشن رہنما کے طور پر بار بار اس عزم کا اظہار کرتے رہے کہ وہ حکومت میں آکر مقامی حکومتوں کو ایسا نظام لائیں گے جو حقیقت میں لوگوں کے دکھوں کا مدوا کرے چنانچہ وزیر اعظم پاکستان نے قوم سے خطاب میں بھی ایک بار یہ وعدہ کیا کہ وہ جلد مقامی حکومتوں کو اختیارات اورفنڈز دونوں دیں گے تاکہ عام آدمی کے مسائل کم ہوسکیں۔ اس پس منظر میں پنجاب کے سنئیر وزیر علیم خان کا کہنا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے لیے سفارشات تیار کرلی گئیں ہیں جو یکم ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان کو پیش کردی جائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں علیم خان کا کہنا تھا کہ نئے نظام میں جہاں چیک اینڈ بیلنس ہوگا وہی بلدیاتی نمائندوںکو انتظامی اور مالی اختیارات بھی دئیے جائیں گے ۔ کسی شاعر نے خوب کہا کہ
ہرچارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لادوا نہ تھے
یقینا وطن عزیز کے مسائل ایسے نہیں جو حل نہ ہوسکیں۔ کم وبیش 22 کروڈ کی آبادی میں ہر شعبہ میں مثالی اہلیت رکھنے والے لوگ باآسانی مل جاسکتے ہیںمگر جس کی چیز کی کمی ہے وہ اہل اقتدار کے ایسے اخلاص کی جو ذاتی اور گروہی مفادات کی بجائے قومی تقاضوں کو اہمیت دے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ کچھ کر گزرنے کے جذبہ سے سرشار ہے۔عمران خان نے قومی سیاست میں جگہ بنانے کے لیے جس طرح انتھک جدوجہد کی وہ بھی ان کے حامیوں کے ساتھ ساتھ مخالفین سے بھی مخفی نہیں لہذا گماں یہی ہے کہ وہ اب منزل پر پہنچ کر وہ اپنی اس محنت کوکسی طور پر رائیگاں نہیں کریں گے جو وہ کئی دہائیوں سے کرتے چلے آرہے۔
وطن عزیز ہر گزرتے دن کے ساتھ عام شہریوںمیںیہ احساس فروغ پذیر ہے کہ سرکاری حکام کا کام عیاشیاں کرنا نہیں بلکہ ان کا فرض ہے کہ وہ آئین کے اعتبار سے اس انداز میں اپنی زمہ داریاں نبھائیں کہ اس کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو پہنچے ۔یہ بھی سچ ہے کہ ریاست عوام کے لیے ہوا کرتی ہے ناکہ عوام ریاست کے لیے ۔ مطلب یہ کہ حکومت کے ہر شعبہ کو اپنی کارکردگی اس طرح بہتر بنانی چاہے کہ لوگوں کو اس کازیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔
دنیا کا ہر جمہوری ملک اسی اصول پر چل رہا ہے ۔ عوامی فلاح وبہبود کو مقدم رکھنے کے نتیجے میں ہی ریاست بھی فلاحی مملکت کی شکل اختیار کرتی ہے۔ بلاشبہ تیسری دنیا کے کسی بھی ملک کی جمہوریت کے لیے بے شمار مسائل ہوسکتے ہیں مگر ان پر کامیابی کے ساتھ اسی وقت قابوہ پایا جاسکتا ہے جب نظام جاری وساری رہے۔ ٹھیک کہا گیا کہ جمہوریت کی ناکامی کا مطلب ہے اور جمہوریت ۔ تاریخ میں عوام کو جب جب یہ احساس ہوا کہ صرف اور صرف وہی ان ہی ووٹ کی طاقت سے حکومتوں نے آنا جانا ہے تو کئی گنا عام آدمی کی نظام میں دلچیسپی بڑھ گی ۔
بلدیاتی نظام میں تبدیلیوں کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کا تعاون ناگزیر ہے چنانچہ اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کیسے حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں بہتر بلدیاتی نظام کے نفاز میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ یہ بھی زھن نشین رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی دس دس سال تک صوبوں میں حکومت کرنے کے باوجود متحرک لوکل باڈیز سسٹم کے نفاذ میں ناکام رہیں۔ دونوں جماعتیں یہ عذر پیش کرتی رہیں کہ ان کے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین رضامند نہیں کہ ان سے اختیار اور فنڈذ لے کر مقامی حکومتوںکو دئیے جائیں۔
پاکستان تحریک انصاف لوکل باڈیز سسٹم لاکر عملا ان فرسودہ سیاسی روایات کو ختم کرسکتی ہے جس کی محافظ پی ایم ایل این اور پی پی پی طویل عرصہ سے رہیں۔ شائد یہی وجہ کہ حالیہ انتخاب میں ملک بھر کے شہری اور دیہی علاقوں کے رہنے والے پاکستان تحریک انصاف کو اس کامیاب کروانے میں پیش پیش رہے کہ وہ ان کے لیے دور رس اقدمات اٹھائے۔اہل پنجاب کو جان لینا چاہے کہ کوئی بھی نظام فوری طور پر سودمند ثابت نہیں ہوا کرتا بلکہ اس میں بہتری بتدریج آیا کرتی ہے ۔ چنانچہ پنجاب کے سنئیر وزیر علیم خان یکم ستمبر کو لوکل باڈیز کے حوالے سے جو سفارشات عمران خان کو پیش کرنے جارہے اس میں بہتری کی گنجائش بہرکیف موجود ہو گی۔ پی ٹی آئی کے لیے ایک مشکل یہ ہے کہ اگرچہ اسے حکومت میں آئے ہوئے چند روز ہی ہوئے ہیں مگر عوامی توقعات بدستور بڑھ رہیں۔ خبیر تا کراچی لوگ تبدیلی کے خواہشمند ہیں چنانچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بے چینی واضطراب کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا۔ شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے حامیوں اور مخالفین دونوں کو ہی عمران خان کو مناسب وقت دینا چاہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے 100دن کے پروگرام کا وعدہ کیا گیا مگر ا س کے لیے 100دن گزر جانے کا انتظار بہرکیف کرنا ہوگا۔

Scroll To Top