جعلی بینک اکاﺅنٹس رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش :ایف آئی اے نے تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کردی

  • 9 رکنی تحقیقاتی ٹیم کیلئے نام تجویز ،ایم آئی اور آئی ایس آئی کے بریگیڈئر لیول کے افسران بھی شامل کرنیکی تجویز ، ٹیم کو دو کروڑ روپے کی رقم تحقیقات کے لیے فراہم کرنے کی استدعا
  • انور مجید ،عبدالغنی مجید کو اپنے دفاع میں ثبوت پیش کرنے کا بھرپورموقع دیا گیا، ملزمان تین ہزار ایک سوبائیس ملین کے ڈیپازٹس اور چار ہزار چودہ ملین کی ٹرانزیکشنز بارے تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے

سپریم کورٹاسلام آباد(آن لائن)ایف آئی اے نے جعلی بینک اکانوٹس منی لانڈرنگ سکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے نو رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نام تجویز کردیئے ، میگا سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے جس میں اومنی گروپ کہ دوبئی میں کراون ٹریڈنگ کمپنی کا انکشاف ہوا ہے۔ منگل کو جعلی بینک اکاونٹس منی لانڈرنگ سکینڈ میں ایف آئی اے نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کردی ہے جبکہ ایک مرتبہ پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی استدعا کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے نے مجوزہ نو رکنی تحقیقاتی ٹیم کے نام عدالت کو تجویز کردیئے ہیں ، ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو تجوویز کیا ہے کہ مشترکہ ٹیم میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر لیول کے افسران شامل کیے جائیں اور ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے کی سر براہی میں ٹیم تشکیل دی جائے ،ٹیم میں ایف بی آر کے آفیسر بدد الدین، سیکورٹی اسٹیٹ بنک سے ماجد حسین اور نیب ست نعمان اسلم کو شامل کیا جائے،ٹیم میں ایک آڈیٹر اور کارپوریٹ قانون دان کو شامل کیا جائے،ٹیم میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن سے ڈائریکٹر لیول کا افسر شامل کیا جائے ڈی جی ایف آئی اے نے مشترکہ ٹیم کو دو کروڑ روپیہ کی رقم تحقیقات کے لیے فراہم کرنے کی استدعا بھی کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق جعلی اکاونٹس کی تحقیقات کے دوران اومنی گروپ کہ دوبئی میں کراون ٹریڈنگ کمپنی کا انکشاف ہوا ہے ہے کمپنی کا لائسنس نازلی مجید ،نورنمر مجید،اور منہال مجید کے نام ہے، کمپنی کے دو فارن بنک اکاونٹس کا علم عبدالغنی مجید کے دفتر سے ہوا جبکہ دوبئی کے فارن اکاﺅنٹس سے برطانیہ میں جائیداد خریدنے کے لئے رقم منتقل کی گئی تاہم ابھی یو اے ای حکومت سے کام کراون کمپنی کے بزنس کے بارے میں تفصیلات درکارہیں،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انور مجید ،عبدالغنی مجید کو اپنے دفاع میں ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا گیا، دونوں ملزم تین ہزار ایک سوبائیس ملین ڈیپازٹ اور چار ہزار چودہ ملین کی رقم ٹرانزیکشنز بارے مطمئن نہیں کر سکے۔رپورٹ کے مطابق کھوسکی شگرمل بدین سے اہضم دستاویز حاصل کی گئی ہیں ،کھوسکی شگر مل پر رینجرز کے ساتھ مل کر چھاپہ مارا لیکن اہم ریکارڈ ایف آئی اے کے چھاپے سے پہلے جلا دیا گیا جلائے گئے ریکارڈ کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں کھوسکی شگرمل سے اسلحہ اور 27 ہارڈ ڈسک بھی قبضے میں لی گئیں ،ھارڈ ڈسک فرانزک تجزے کے لئے بھیج دی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انور مجید اور محمد عارف خان کے اثاثہ جات منجمند کرنے کے لئے کارروائی ایف آئی اے ایکٹ کے تحت شروع کر دی گئی ہے لیکن اومنی گروپ کے ٹیکس رٹرن کی تفصیلات بارے میں ایف بی ار کے کے جواب کا انتظار ہے ،دوران تفتیش عبدالغنی مجید نے صرف محمد عمیر کو پہچانا ہے کہ وہ اومنی گروپ کا ملازم ہے۔ عبدالغنی مجید نے دوسرے اکاﺅنٹ ہولڈرز کو پہچانے سے انکار کر دیا ہے، یونس کدوائی کے ساتھ بزنس رلیشن ہونے کااعتراف عبدالغنی مجید نے کیا ہے،یونس کدوائی ربیکن بلڈرزاور ڈویلپرز کا ڈائریکٹر ہے۔ عبدالغنی مجید کے مالک ایچ ایچ ایکسچینج کمپنی حاجی ہارون سے روابط تھے،عبدالغنی مجید نے ایچ ایچ کمپنی تعلق کا اعتراف کیا ،ایچ ایچ کمپنی نے اسی سے سو ملین کے غیر قانونی طریقے سے امریکن ڈالر خریدے، رپورٹ کے مطابق دوران تفتیش اومنی گروپ کی دو مزید کمپنیاں سامنے آئی ہیں ،دونوں کمپنیوں کے نام عمیر ایسو سی ایٹس اور پلاٹینم ایل پی جی ہیں ،ان کی تفتیش جاری ہے،نورین سلطان۔کرن امان اور اقبال نوری نے تفتیش جوائن کی ہے،نورین سلطان۔کرن امان۔عدیل شاہ راشدی۔محمد اشرف۔قاسم علی۔شھزاد جتوئی ضمانت قبل از گرفتاری پرہے جعلی بنک اکاﺅنٹس میں بصیر عبداللہ لوطا،اسلم مسعود،عارف عدنان جاوید،عمیر،اقبال آرائیں،اعظم وزیر خان ،نمرمجید اور مصطفی زوالقرنین مجید بھاگے ہوئے ہیں۔

Scroll To Top