ہمیں کسی جھوٹ پر ایمان نہیں لانا چاہئے خواہ وہ جھوٹ ہم خود بول رہے ہوں ! 26-10-2013

kal-ki-baat
سیاسیات سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے شخص کو بھی اندازہ ہوگا کہ ڈپلومیسی کے میدان میں جھوٹ بڑی کثرت کے ساتھ بولے جاتے ہیں۔ یہ سارے جھوٹ مصلحت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ دو ملکوں کے درمیان جب مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ جھوٹ شہ سرخیوں کے سانچے میں ڈھل کرسامنے آتے ہیں۔ جو لوگ سیاسیات کے اسرار و رموز سے شناسائی رکھتے ہیں انہیں یہ شہ سرخیاں متاثر نہیں کرتیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بیانات کے پیچھے سچ کتنا ہوتا ہے اور جھوٹ کتنا۔ وہ اس بات کا پورا ادراک رکھتے ہیں کہ بیانات سچائیوں کے نہیں مفادات کے مظہر ہوا کرتے ہیں۔
حال ہی میں واشنگٹن میں پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف اور امریکہ صدر اوباما کے درمیان جو ملاقات ہوئی ہے اسے اسی حقیقت کی روشنی میں پرکھنا چاہئے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ افغانستان پر لشکر کشی اور قبضے کی مہم پر امریکہ ہزاروں بلین ڈالر غرق کرچکا ہے۔ یہ بھاری رقم امریکہ نے حق سچ اور اصولوں کاپرچم بلندکرنے پر خرچ نہیں کی۔ اس نے اپنے مالی وسائل کا بے دریغ ” اتلاف “ اپنے اُن مفادات کے حصول کے لئے کیا ہے جو اس کے حکمت سازوں نے ایک عرصے سے متعین کررکھے ہیں۔ اگر وہ اتنے بھاری وسائل ضائع کرنے کے باوجود متذکرہ مفادات حاصل نہیں کرسکا تو اس ناکامی کو اپنے عوام اور تاریخ کی نظروں سے چھپا نے کے لئے یقیناً اسے ایک سے ایک بڑے جھوٹ کا سہارا لینا پڑے گا۔
ہمارا کام یہ ہے کہ امریکہ کے کسی بھی جھوٹ کو سنجیدگی سے نہ لیں۔ ہم صرف اپنے مفادات کا خیال رکھیں۔ ظاہر ہے کہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے جھوٹ ہمیں بھی بولنے پڑ رہے ہیں۔ اگر ہم سچ بولنے کے چکر میں پڑ گئے تو اسے میں اپنے مفادات سے غداری سمجھوں گا۔
ایک بات ہمیں البتہ یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ہم جو بھی جھوٹ بولیں اس کی صداقت پر ہم خود یقین نہ کربیٹھیں۔ مثال یہاں میں یہ دوں گا کہ جب بھی ہم کہیں کہ بھارت کے ساتھ دوستی کے بغیر ہمارا ملک ترقی اور خوشحالی کی پٹڑی پر نہیں چڑھ سکتا ¾ تو ہم یہ ضروریاد رکھیں کہ یہ بیان ہم امریکہ کی خوشنودی کے لئے دے رہے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا وجود بھی اس وقت تک قائم ہے جب تک ہم یاد رکھتے ہیں کہ بھارت کو ہمارا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا۔۔۔۔

Scroll To Top