نکاح پڑھانے گئے اپنا نکاح پڑھوا کر آگئے

  • قائد اعظم کی وراثت کے دعویداروں نے یوم آزادی پاکستان کے منکر کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا
  • بہت جلد سیاست کے سارے گندے انڈے ایک ہی ٹوکری میں جمع ہونے والے ہیں
  • زرداری پسِ منظر ہیں، بلاول پیش منظر ہیں۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی ضرورتوں اور سہولتوں کا ملاپ؟

ایک نہیں بار بار تُف ہے ان نون غُنی سیاسی سوداگروں پر جو قائد اعظم کی وراثت مسلم لیگ پر براجمان ہونے کے دعویدار ہیں، جنہوںنے مگر جدی پُشتی طور پر پاکستان کے مخالفین کی آل اولاد مملکتِ خداداد پاکستان کی صدارت کے منصب کے لئے ایک ایسے مردود مخلوق شخص کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جو چند روز پہلے تک یوم آزادی پاکستان منانے سے منکر تھا اور جو علی الاعلان موجودہ منتخب اسمبلیوںکے بائیکاٹ کی بڑھکیں مارنے میں پیش پیش رہا اور جو حالیہ عام انتخابات میں اپنی دونوں سیٹوں پر پی ٹی آئی کے نسبتاً غیر معروف کارکنوں سے بری طرح ہار چکا ہے ۔ مگر یہ مسلم لیگ نون کے فیصلہ ساز ہیں جنہوں نے فکر اقبال و قائد سے محبت و شفیتگی کے زبانی دعوو¿ں کے سراسر برعکس فیصلہ کرتے ہوئے ہارے ہوئے جواریے کی ذہنیت رکھنے والے ملا فضل کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ۔ گویا یہ اس حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ یہ جماعت پچھلے ستر سال سے بالعموم اور تیس سال سے بالخصوص اس خطے پر حکمرانی کے باوجود کوئی صاحب ضمیر ، باکردار اور نظریہ پاکستان کے ساتھ عقلی اور جذباتی رشتہ و تعلق اور وابستگی رکھنے والا ایک فرد بھی تیار نہ کر سکی جو صدارت کے عہدہ جلیلہ کے لئے حسب حال ہوتا۔
عہدہ صدارت کے لئے مسلم لیگ کی جانب سے نامزدگی کے پس پردہ بھی کچھ مضحکہ خیز پہلو پائے جاتے ہیں۔ ہوایوں کہ جب پی ٹی آئی کے مقابلے میں درجن بھر زیادہ چھوٹی بڑی جماعتوں کا اتحاد اپنے پلیٹ فارم سے کوئی متفقہ امیدوار نامزد نہ کر سکا تو دو بڑی جماعتوں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ایماءپر ایک تین رکنی ثالثی گروپ تشکیل دے دیا گیا جس کی سربراہی ملا فضل کو سونپ دی گئی۔
اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام ارکان اپوزیشن اپنی تجاویز کے ساتھ اس گروپ سے رجوع کرتے مگر ہوا یہ کہ بھان متی کے اس کنبے کے ہر رکن نے اپنے لئے ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کے جتن شروع کر دیئے۔ حد تو یہ کہ ثالث حضور یعنی ملا فضل بھی اس روش میں بہہ گئے ۔ آئے تھے نکاح پڑھانے خود اپنا نکاح پڑھوا لے گئے۔ یعنی اپنے دائرہ کار سے ماورا ہو کر کسی ایک متفقہ امیدوار کا نام اپوزیشن قیادت کے روبرو پیش کرنے کی بجائے اپنے تئیں خود ہی دولہا میں بن کر بیٹھ گئے شکست خوردہ نون لیگ پہلے سے ہی ہر ہتھیار چھوڑے بیٹھی تھی اس نے بھاگتے چور کی لنگوٹی پر ہی اکتفا کرنے میں اپنی بھلائی محسوس کر لی۔ اور یوں ہنگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھے کا چوکھا کے مصداق کشمیر کمیٹی کے کروڑ روپے پچھلے تیرہ سال میں کھا کھا کر ڈکار مارے بغیر ہڑپ کرنے والا شکست خوردہ ملا فضل منصب صدارت کا امیدوار بن گیا۔ پچھلے روز وہ اپنی حمائت میں سعت ڈالنے کی غرض سے جب دیگر پارٹیوں سے رابطوں کے بعد بلاول ہاو¿س پہنچے تو زرداری میاں ان کے لئے لینے کو تیار بیٹھے تھے۔
ملا فضل سمجھتے تھے کہ ماضی میں ہر برے بھلے وقت پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی ڈولتی کشتی کو سہارا دینے میں حصہ ڈالا تھا اب جواب میں زرداری انہیں مایوس نہیں کریں گے۔مگر ایک زرداری جو اندر سے پیکر مکاری سے کم نہیں ترت حملہ آور ہوا ” حضور ہم نے تو آپ کو نکاح پڑھانے پر مامور کیا تھا آپ خود اپنا ہی نکاح پڑھوا بیٹھے۔ ملا فضل اپنی نشست پر کسمساتا رہا مگر کمرہ زرداری کے اس جملے سے گونجتا رہا:” نہیں نہیں مولانا صاحب آپ نے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ “ جب ملا جی نے ڈھیٹ پن کی حد کردی تب زرداری ہولے سے بولے ”ٹھیک ہے حضور آپ اب جاکر آرام فرمائیے ہم دیکھیں گے موجودہ حالات میں کیا ہو سکتا ہے۔“
اور ہونا کیا ہے؟
ہونا صرف یہ ہے کہ زرداری ڈبل کراس میں جتا ہوا ہے ۔ وہ نونیوں سے بھی فلرٹ کر رہا ہے اور پی ٹی آئی کی صفوں میں بھی اپنے حامی تلاش کر رہا ہے اور یہ سارا دھندہ بڑی رازداری سے کیا جا رہا ہے۔ آنے والے ایام میں زرداری اپنی ہمیشرہ فریال تالپور کے ہمراہ فقط تھانے کچہری تک محدود ہو جائیگا اور بہت ممکن ہے سیاست اور کرپشن کے ساتے گندے انڈے ایک ہی ٹوکری ( اڈیالہ جیل) میں جمع کردیئے جائیں۔ اپنے برعکس زرداری نے بلاول کے لئے ایک جداگانہ تشخص سوچ رکھا ہے۔یاد رہے کاغذوں کی حد تک اس وقت بھی ملک میں پیپلز پارٹی کے نام سے دو جماعتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک تین بار انگریزی حرف Pوالی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری چار بار انگریزی حرف Pوالی یعنی پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین: زرداری تین Pوالی جبکہ بلاول چار بی والی پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں اور انتخاب لڑنے اور ہار جیت سے دوچار ہونے والی پارٹی بلاول والی ہے۔ چنانچہ زرداری اپنے نئے وضع کردہ ایجنڈے کے ساتھ اپنے صاحبزادے کو عمران خان کے لئے کسی نہ کسی درجے پر قابل قبول بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ یاد رہے تحریک انصاف کے سربراہ زرداری کی کرپشن کے سخت خلاف ہیں جبکہ بلاول کا کا دامن ہنوز اس گند سے صاف ہے۔ سمجھایہ جا رہا ہے کہ موجودہ عبوری دور میں جبکہ عمران خان مثالیت پسندی(IDEALISM)اور عملیت پسندی (PRAGMATISM) کے دوراہے سے گزر رہے ہیں اور اس ناطے انہوں نے بے شمار راندہ درگاہ عناصر کو پارٹی میں قبول کر لیا ہے تو اس حوالے سے اگر بلاول بھی ان کی طرف دست تعاون بڑھائیں گے تو عمران خان اسے اپنی عملیت پسندی کے تحت قبول کر لیں گے۔ وہ یقینا جانتے ہوں گے کہ انہیں ہمہ گیر تبدیلی کے اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے نمبر گیم کی ضرورت ہوگی اور بلاول اس ضمن میں ان کے کام آسکتا ہے۔(جاری ہے)

Scroll To Top