35-A کو ختم کرنے کی کوشش

zaheer-babar-logo

مقبوضہ وادی کے حوالے سے بی جے پی حکومت کی دیرینہ خواہش ہے کہ اپنے فائدے کے لیے ایسا کچھ کر دیکھایا جائے جس کی نظیر بھارت کی سیاسی تاریخ میںملنی مشکل ہے۔ مودی سرکار کی کوشش تو یہی رہی کہ وہ دور اقتدار میں پاکستان کو اس حد تک کمزور کردے کہ اس کے پاس بھارت کی بالادستی قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہ جائے مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا الٹا اثر یہ ہوا کہ پوری کشمیر ی قوم باہم تنازعات کو بھلا کر اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے میدان عمل میں کود پڑی۔ حزب الماجدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت نے اہل کشمیر میں ایسا جوش ولولہ پیدا کرچکی جو تاحال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
تازہ پیش رفت یہ کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی آئین کی شق 35Aکو ہٹانے کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت شروع کی جائیگی ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس اعلان کو بنیاد بناتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میںیہ تاثر پھیلا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب وادی کی خصوصی آئینی حثیثت ختم کرکے عملا اس پر قبضہ کرنے کے منصوبہ پر عمل درآمد کرنے جارہی۔ یاد رہے کہ 35A کا نفاذ 1920میں ہوا جس کی وجہ یہ بنی کہ کشمیر کے مہاراجہ کے پاس جموںکے ہندو ڈوگرے اور ہندو پنڈت یہ مطالبہ لے کرگے کہ پنجاب اور دوسری شمالی ریاستوں سے لوگ آکر کشمیر میں نوکریاں حاصل کررہے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کی حق تلفی ہورہی لہذا ایسا قانون بنایا جائے جو غیر کشمیریوں کو اس رجحان سے روکے۔ اس پر مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیریوں کے لیے قانون شہریت پاس کیا جس کی رو سے کسی بھی غیر کشمیری کو ملازمت یا کاروبار کرنے سے روک دیا گیا ۔ دفعہ 35A میں اسی قانون کی توثیق کی گی بعدازاں اسے ریاستی اسمبلی نے بھی منظور کرلیا۔
اب بھارتی سپریم کورٹ میںاس اہم مقدمہ کی سماعت 31اگست کو ہونے جارہی دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی سب ہی حریت پسند جماعتوں نے 30اگست سے ہی دو روز کے احتجاج کی کال دے دی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اندرون خانہ دفعہ 35A کو ختم کرنے کا تہیہ کرچکی لہذا عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر جلد ہی کوئی بڑا فیصلہ ہوجاناحیران کن نہیںہوگا۔
بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حثیثت کو ختم کرنے کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں مقبوضہ وادی عملا بھارت کا حصہ بن جائیگی لہذا یہ کام جتنی جلد ممکن ہو کرلینا چاہے۔ دوسری جانب کشمیر میں جاری تحریک آزادی پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس سے اہل کشمیر کے غم وغصہ میں مذید اضافہ ہوگا یعنی مسلح جدوجہد میں تیزی آنے کا امکان ہے۔
اس ضمن میںپاکستان کو بھی الرٹ رہنا ہوگا۔ آج عمران خان وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہیںلہذا اہل کشمیر کی جانب سے یہ توقع رکھنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پوری قوت کے ساتھ مقبوضہ وادی کے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کریںگی ۔ افسوس ماضی میں اس محاذ پر مجرمانہ خاموشی چھائی رہی۔ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیرمین بنایا گیا جو بظاہر تحریک آزادی کے بنیادی فلسفہ سے ہی متفق نظر نہیںآتے ۔ یہی سبب ہے کہ حریت کانفرنس کے سنیر رہنما سید علی گیلانی کو اعلانیہ کہنا پڑا کہ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ خارجہ محاذ پر جہاں بھارت سے اچھے تعلقات کی بحالی کے لیے کوشش جاری رکھنا ہوگی وہی کشمیر میں جاری ظلم وستم سے عالمی برداری کو روشناس کروانے کے لیے بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ پاکستان بھارت سے تصادم نہیں چاہتا حقیقت یہ بھی ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیںمگر پڑوسی نہیں۔ چنانچہ ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ بھارت میں ان حلقوں سے بھرپور رابطے رکھنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے جو کشمیر میں جاری ظلم وستم کے خلاف مسلسل آواز بلند کررہے۔ سمجھ لینا چاہے کہ بھارت مقبوضہ وادی میںطاقت کا اندھا استمال کرکے بھی دیکھ چکا۔ بھارتیہ جنت پارٹی کے سنجیدہ حلقے آگاہ ہیںکہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ یہ معاملہ صرف اور صرف بات چیت کے زریعہ ہی حل ہونا ممکن ہے۔دو ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں کے درمیاں مسلسل کشیدگی کسی طور پر خوش آئند نہیں۔ نئی دہلی خوب جانتا ہے کہ آج نہیںتو کل تنازعہ کشمیر کسی نہ کسی صورت میں حل کرنا ہوگا۔ بھارت کا علاقائی یا عالمی طاقت بننے کا خواب بھی اسی وقت پورا ہوگا جب پاکستان کے ساتھ مسائل کو بات چیت کے زریعہ حل کرنے پر آمادہ ہوجائے۔
آنے والے دن یقینا اہم ہیں ۔ ایک طرف بھارتی سپریم کورٹ میں 35A کو ختم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے آئینی بحث شروع ہونے جارہی تو دوسری جانب کشمیری حریت پسند بھی اپنی بھرپور موجودگی ثابت کرنے کے لیے پوری طاقت سے متحرک ہونے جارہے۔ چنانچہ بھارت کو باور کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ درپیش حالات پر آنکھیں بند کرنے کی بجائے باوقار انداز میں آگے بڑھے ۔ بلاشبہ اس کا امکان نہیں کہ فوری طور پر بھارت کشمیر میں جاری تحریک کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار ہوجائے ۔ اس کے برعکس ماضی کی طرح چانکیہ سیاست کے پیروکار ایسے حربے استمال کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں اقوام عالم کی توجہ اس اہم مسلہ سے ایک بار پھر ہٹ جائے۔

Scroll To Top