گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، عمران خان

  • ایسے خاکوں کا بار بار شائع ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، معاملے پر او آئی سی کو متحرک کرنا ہوگا، ایسی حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی جیسی یورپ میں ہولو کاسٹ پر ہے، مغربی ذہنیت کو میں سمجھتا ہوں انہیں معلوم ہی نہیں کہ مسلمان اپنے نبیﷺ سے کس حد تک محبت کرتے ہیں انہیں اس کا احساس دلانے کی ضرورت ہے
  • ملک کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے اس پر فوکس کررہے ہیں، ایف بی آرمیں اصلاحات لارہے ہیں، ٹیکس کلیکشن کا معاملہ دونوں ایوانوں میں رکھیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں ، وزیراعظم ہاو¿س کی گاڑیوں کی نیلامی کریں گے،گورننس ٹھیک کریں گے ،ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے، وزیر اعظم کا سینیٹ میں اظہار خیال
اسلام آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان ایوان بالامیں خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان ایوان بالامیں خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کا بار بار شائع ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کو متحرک کرنا ہوگا،اسلامی ممالک کے اتحاد کو ایک ایسی حکمت عملی بنانی چاہئے جیسی یورپ میں ہولو کاسٹ پر بنی ہوئی ہے، عوام کا ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہئے، ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے،ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے اس پر فوکس کررہے ہیں، ایف بی آرمیں اصلاحات کررہے ہیں، ٹیکس کلیکشن کا معاملہ دونوں ایوانوں میں رکھیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں ،گورننس ٹھیک کریں گے تاکہ وہ پیسہ بھیجیں، ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے اور ٹیکس لیں گے،قرضوں پر گزارا کرنیوالی قومیں اپنی عزت اور آزادی کھو بیٹھتی ہیں، پوری کوشش ہے قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں۔پیر کو سینیٹ میں اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں پر اسلامی ممالک کے اتحاد کو ایک حکمت عملی بنانی چاہئے جیسی یورپ میں ہولو کاسٹ پر بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہولوکاسٹ پراگر کوئی بات کرے تو چار یورپی ممالک میں جیل ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کی عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی وہ آزادی اظہار کے نام پر اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، عوام کی بڑی تعداد کو پتا ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبیکےلئے کتنا پیار ہے، انہیں نہیں پتا کہ وہ ہمیں کس قدر تکلیف دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ا±س معاشرے میں فتنہ اور جذبات بھڑکانا بہت آسان ہے، مغرب میں وہ لوگ جو مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں ان کےلئے یہ بہت آسان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حکومت میں کوشش کریں گے کہ او آئی سی کو اس پر متفق کریں، اس چیز کا بار بار ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کو متحرک کرنا ہوگا اور اس پر او آئی سی کو پالیسی بنانی چاہئے تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی ناکامی ہے ،مسلمان پہلے خود ایک چیز پر متحد ہوں ، پھر دنیا کو اپنی تکلیف بتائیں ۔ پاکستان کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم پر 28 ہزار ارب قرضہ چڑھ چکا ہے، قرضوں پر سود واپس دینے کےلئے قرضے لے رہے ہیں، ہمارے انسانوں کا حل یہ ہے کہ برصغیر میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں جس بحران میں آج پاکستان ہے جب تک ہم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک اللہ ہماری حالت نہیں بدلے گا لہٰذا ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کا ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے، صاحب اقتدار اپنی مثال سے عوام کو دکھائیں جو ٹیکس کا پیسہ ہے وہ شاہانہ طرز زندگی کےلئے نہیں ہے، وہ ہمارے بچوں کےلئے ہے جو ہمارا مستقبل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاو¿س کی گاڑیوں کی نیلامی کریں گے، اس سے ہماری بچت تو کم ہے لیکن ٹیکس دینے والوں کو پیغام جائےگا کہ ان کا پیسہ انہی پر خرچ ہورہاہے، ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے کیونکہ عوام کا مائنڈ سیٹ ہے کہ حکومت ہماری نہیں ہے، جب تک عوام حکومت کو اپنا نہیں سمجھے گی وہ ٹیکس نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام ٹیکس تب دے گی جب اسے احساس ہو گا کہ ان کے ٹیکس سے ان کی بہتری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںایسی فضا بنارہے ہیں کہ خرچے کم کرکے آمدنی بڑھائیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کا بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے اس پر فوکس کررہے ہیں، ایف بی آرمیں اصلاحات کررہے ہیں، ٹیکس کلیکشن کا معاملہ دونوں ایوانوں میں رکھیں گے، ہمارے پاس بہت پراپرٹیز پڑی ہیں جنہیں ہم قرض اتارنے کےلئے استعمال کرسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں ان کےلئے گورننس ٹھیک کریں گے تاکہ وہ پیسہ بھیجیں، یہ سب پلان ایک ہفتے تک ایوان کے سامنے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے، ٹیکس لیں گے اور ادارے مضبوط کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم سے زیادہ مشکل صورتحال سے دنیا نکل چکی ہے، وہ 5 ،10 سال میں اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے، انہوں نے خرچے کم کئے اور آمدنی بڑھائی لہٰذا سینیٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس صورتحال سے نکلیں گے اور اپنے پیر پر کھڑے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بہت لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں اقوام متحدہ جانا چاہیے، بیرونی دورے جب کرینگے جب گورننس سسٹم بہتر کریں اور اپنا گھر ٹھیک کریں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے جو قومیں قرضوں پر گزارا کرنا چاہیں وہ عزت اور آزادی کھو بیٹھتی ہیں، اس لئے پوری کوشش ہے قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں ۔

Scroll To Top