یوم آزادی نہ منانے، انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنیوالے مولانا فضل الرحمن صدارتی امیدوار!

  • پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان متفقہ صدارتی امیدوار کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمن بالآخر خود امیدوار بن کر سامنے آ گئے
  • پی پی پی شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نہ صرف مولانا کی حمایت سے صاف انکار کر دیا ہے بلکہ انہیںاس عہدے کیلئے غیر موزوں بھی قرار دیا ہے

فضل الرحمناسلام آباد( الاخبا ر سپیشل رپورٹ) پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان متفقہ صدارتی امیدوار کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمن بالآخر خود امیدوار بن کر سامنے آ گئے۔ جو اپنے سیاسی کردار کے حوالے سے عوامی حلقوں میں بہت زیادہ پسندیدہ شخصیت کے طور پر نہیں جانے جاتے مولانا فضل الرحمن کی بطور صدر نامزدگی پر سوالات ا±ٹھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی چند روز پہلے یوم آزاد کے موقع پر انہوں نے برملا کہا کہ وہ یوم آزادی نہیں منائیں گے بلکہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور اس میں مبنیہ طور پر کچھ قومی اداروں کی مبینہ ملی بھگت کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کے اس بیان پر عوام کی اکثریت نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک میں بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ان کی اپنی اتحادی جماعتوں نے بھی ان کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا جو کہ ان کی سبکی کا باعث بنا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملکی یوم آزادی نہ منانے کا کھلم کھلا اعلان کرنے والا شخص کیا صدر پاکستان کے عہدے کا امیدوار ہو سکتاہے
حدتو یہ ہے کہ ن لیگ جو کہ خود کو پاکستان کی خالق جماعت کہلاتے نہیں تھکتی وہ بھی مولانا فضل الرحمن کی حمایت میں اور پاکستان تحریک انصاف اور بالخصوص عمران خان کی مخالفت میں ان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے جو کہ سیا سی حلقوں میں مناسب فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا یاد رہے کہ یہ وہی مولانا فضل الرحمن ہیں جنہوں نے حالیہ انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ان کے فیصلوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھااور اپنے اتحادیوں کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ وہ حلف اٹھانے سے گریز کریں لیکن ان کی اس تجویز کو اتحادیوں نے رد کرتے ہوئے نہ صرف حلف اٹھایا بلکہ دیگر تمام سیاسی سر گرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔۔۔ مولانا فضل الرحمنٰ کے یوم آزادی نہ منانے کے اعلان پر ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا جبکہ مولانا کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔مسلم لیگ ن سمیت کچھ جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا تو مولانا نے خود کی کہی دھاندلی زدہ حکومت کا صدر بننے کی فوری حامی بھرلی اور اسی حکومت کا صدر بننے کیلئے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرا دیئے ہیں۔ اب مولانا فضل الرحمان اسی ملک کا صدر بننے کے خواہاں ہے جس کا یوم آزادی منانے سے انکار کیا تھا۔مولانا کا اختلاف اور خواہشات اپنی جگہ مگر اب عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یوم آزادی نہ منانے کا اعلان کرنے والا پاکستان کا صدر بن سکتا ہے ؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ن لیگ سمیت اپوزیشن جماعتوں نے ایک متنازعہ شخص کو صدر کا ا±میدوار کیوں نامزد کیا؟

Scroll To Top