بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

  • ۔۔۔۔گستاخانہ خاکوںکا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا درست فیصلہ
    ۔۔۔۔عمران خان نے ٹھیک کہا کہ اوآئی سی کو مشترکہ موقف اختیار کرنا ہوگا
  • ۔۔۔۔مسلم دنیا اپنے زوال کے اسباب دور کرنا تو درکنار تاحال انھیںسمجھنے سے بھی قاصرہے
  • ۔۔۔۔بعض مذہبی سیاسی جماعتوں کو مذکورہ معاملہ لے کر روزمرہ زندگی میں خلل ڈالنے سے باز رہنا ہوگا

وزیر اعظم کا گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا فیصلہ یقینا ان کروڈوں پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کررہا جو حضور نبی کریِم ﷺ سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ اس میں شک شبہ نہیںہونا چاہے کہ وہ شخص کسی طور پر مسلمان کہلانے کا حقدار نہیں جو خاتم النبین ﷺ پر دل وجان سے ایمان نہیں رکھتا۔ خالق کائنات کی پہچان کروانے والی ہستی کا مقام ومرتبہ کیا ہے اسے شائد ہی لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔شاہ محدث الحق دہلوی نے خوب کہا کہ
لایمکن الثناءکماکان حقہ
بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
یعنی کہ۔۔۔ آپ ﷺ کی ثناءکا حق ادا کرنے ممکن ہی نہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپﷺ ہی بزرگ ہیں۔۔
عمران خان نے درست کہا کہ اس معاملہ میں اوآئی سی کا کردار غیر تسلی بخش ہے۔ بلاشبہ جب درجنوں مسلمان ملکوں کا نمائندہ ہی ان کے جذبات درست انداز میں مغربی دنیا کے سامنے پیش نہ کرسکے تو اسے سوائے ناکامی کے کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ
تقدیر کہ قاضی کا فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
چونکہ مسلم دنیا جدید علوم وفنوں سے محروم ہے لہذا وہ عصر حاضر میں عالمی برداری میں سر کے اٹھا نہیں بات نہیں کرسکتی۔ اس سچائی سے بھی منہ نہیں موڈا جاسکتا کہ آج کسی مسلمان ملک میںایک بھی ایسی یونیورسٹی نہیں جو بین الاقوامی سطح پر اہل اسلام کی علم دوستی کا برملا ثبوت دے سکے۔ ہم مسلمانوں کے اہل مذہب ہوں یا اہل سیاست کوئی بھی ان چیلجز کا مقابلہ نہیں کرپارہا جو جدید دور میں پیش آرہے۔ چنانچہ ایسے میں یہ توقع رکھنا خلاف حقیقت ہوگا کہ مغرب کی جانب سے کسی بھی حملے کا بھرپور طور پر جواب دیا جاسکے۔
تاریخی طور پر مسلمان پر ایک ہزار سال تک کراہ ارض پر حکمران رہنے کے بعد زوال کا شکار ہیں۔ اس ضمن میں تشویش کا پہلو یہ ہے کہ ہم بطور قوم مسلہ حل کرنا تو کجا ہم اس کی درست نشاندہی کرنے میں بھی ناکام ہورہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بطور مسلمان ہم تاحال نہیں جان پائے کہ اس پستی میں گرنے کی وجوہات ہیں کیا اور اس سے نکلنے کا باوقار راستہ کون سا ہے۔ حقیقت میں ہم محکوم ہیں مگر حاکمیت کی نفسیات میں جی رہے ہیں۔ اس ضمن میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عام آدمی تو دور خود اہل دانش کی اکثریت بھی مسائل کا درست طور پر ادراک کرنے میں ناکام ثابت ہورہے۔ کون ہوشمند انکار کریگا کہ مسلمان معاشرے ان مسلمہ اخلاقی قدروں سے بھی محروم ہیںجن کو دین اسلام پورے اہتمام کے ساتھ پیش کرچکا اور جدید دنیا کے سب ہی ممالک میں ان اصولوں کی پاسداری حقیقت بن چکی۔ مثلا انصاف کی یکساں فراہمی ، تعلیم کا فروغ، انسانی جان کی حرمت ، قانون کی بالادستی ، کمزور طبقات کے لیے ترقی کے یکساں مواقع، عورتوں کو برابر کا شہری تسلیم کرنا ، ایک دوسرے کی رائے کا احترام یا صاف ستھرے معاشرے کا قیام ۔ مذکورہ معاملات میں شائد ہی کچھ ایسا ہو جو اسلام کی بنیادی تعیلمات سے متصادم کہلائے مگر ایک دو کو چھوڈ کر کسی بھی مسلمان ملک میںمذکورہ سنہری اصولوں پر عمل نہیںہورہا۔
ترقی پذیر ملک ہونے کی حثیثت سے پاکستان میں حالات کسی طور پر مثالی نہیں۔ہمیں نہیں بھولنا چاہے کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد دہشت گردی کے ہزاروں واقعات میں کم وبیش ستر ہزار مرد وخواتین اپنی زندگیوں سے محروم کردئیے گے۔انسانیت سوز کاروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں معذور ہوکر عمر بھر کے لیے محتاج ہوگے۔ چنانچہ ایسے معاشرے میں توقع رکھنا کہ طاقتور مغربی ممالک کی کسی سچی جھوٹی سازش کا باوقار انداز میں باآسانی مقابلہ کیا جاسکتا یقینا آسان نہیں۔
سینٹ میں عمران خان کی تقدیر بلاشبہ حقیقت پسندانہ تھی۔ وزیر اعظم پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کے معاملہ کو درست انداز میں ہولو کاسٹ سے موازنہ کے طور پر پیش کیا۔ اس ضمن میںاہل مغرب سے تصادم کی بجائے مکالمہ کی روش اختیار کرنا ہوگی۔او آئی سی جیسے پلیٹ فارم سے یورپ کو سمجھانا ہوگا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا ہرگز اظہار خیال کی آزادی نہیں۔ مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ حضرت عیسیؑ سمیت سب ہی نبی اور رسول ان کے لیے قابل احترام ہیں چنانچہ ایک مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں کہلا سکتا جب تک وہ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں پر ایمان نہ لے آئے۔
وطن عزیز میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ سامنے آتے ہی توقع کی جارہی تھی کہ بعض مذہبی جماعتیںاس ایشو کو اٹھا کر احتجاجی پروگرام ترتیب دے سکتی ہیں۔ یقینا ملک میں جمہوریت ہے ہر شخص کو اظہار خیال کی آزادی ہے مگر زھن نشین رہے کہ کوئی بھی گروہ اس انداز میں احتجاج کرنے سے باز رہے جس کے نتیجے میں نظام زندگی معطل ہوکر رہ جائے ۔ بلاشبہ روزمرہ زندگی میںخلل ڈالنا نہ تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور نہ ہی مسلمہ اخلاقی اصول اس کی حمایت کرتے ہیں۔

Scroll To Top