” اس حمام میں سب ننگے ہیں”

gulzar-afaqi-logo
یہ پچاس کی دہائی کا وسط تھا
کراچی کے ایک بڑے عالم اس وقت کے صدر مملکت میجر جنرل سکندر مرزا سے فروغ اسلام کے سلسلے میں ملاقات کے متمنی تھے۔ بہت تگ و دو کے بعد ان کی ایوان صدرتک رسائی ہوگئی۔
یہ شام کا سماں تھا۔ صدر صاحب اپنے محل کے سبززار میں ”ہارڈ ڈرنگ“ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ مولانا صاحب کو دیکھ کر ان کی رگ ظرافت پھڑکی۔ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا جام اوپر اچھالتے ہوئے بولے۔” حضرت کیلئے کیا حکم ہے اس مشروب کی بابت؟“
”حضورشراب طہورہ تو کوئی مضائقہ نہیں۔“مولانا صاحب نے تُرت جواب دیا۔
اس کے بعد عالم دین نے فروغ اسلام بابت اپنی فائل صدر مملکت کی طرف بڑھا دی۔ انہوں نے مولانا کی اس بے تکلفی پر ناک بھوں چڑھاتے ہوئے خفگی سے اپنے اے ڈی سی کو گھورا ، جس نے فی الفور آگے بڑھ کر مولانا سے فائل لے لی۔ اس کے بعد مولانا نے فدویانہ انداز میں دونوں ہاتھ باندھ لئے اور آگے جھکتے ہوئے نہائت ملتجیانہ لہجے میں سکندر مرزا کے روبرو فروغ اسلام کی اپنی سکیم کے بعض لوازمات کا تذکرہ کیا۔ صدر مملکت نے ” شراب طہورہ“ کا ایک بڑا سا جُرعہ حلق میں انڈھیلا اور کہا۔
”جایئے مولانا آپ کا کام ہو جائے گا۔“
اور واقعی مولانا صاحب کا کام ہو گیا۔ انہیں تولیہ سازی کے لئے دھاگے کا پرمٹ جاری ہو گیا تھا۔
میجر جنرل سکندر مرزا کے بعد خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور شروع ہوتا ہے۔ ایک سہانی صبح ایک بڑے پیر صاحب ایوان صدر پہنچے۔ طے شدہ وقت پر ملٹری سیکرٹری نے انہیں ” داخل دفتر“ کر دیا۔
پیر صاحب قبلہ نے بھی صدر مملکت کے روبرو فروغ اسلام اور خدمت دین کے سلسلے میں اپنے کار ہائے نمایاں کا تذکرہ فرمایا پھر انہوں نے سابقہ خد کتابت کی نقول سے مرصع فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے صدر مملکت کے دیدار کے متمنی ہیں۔ جواب میں صدر صاحب نے بھی پیر صاحب کی خدمات کو سراہا۔ اس پر پیر صاحب دل کی بابت نوک زبان پر لے آئے۔ اور التجا کی کہ صدر ان کے لئے چند مربعے نہری اراضی الاٹ کردیں تو وہ زیادہ یکسوئی سے دین کی خدمات انجام دے سکیں گے۔
پیر صاحب کی خدمت دین اور حصول زمین کی آرزو پوری کر دی گئی یا نہیں، اس بابت راوی چپ سادھے رہا۔ ہاں البتہ انہیں ایوان صدر سے ” عنایات خسروانہ“ کے پروانے مسلسل موصل ہوتے رہے۔
میں نے دیگ میں سے صرف یہ دو دانے ہی چُنے ہیں۔ ورنہ میں جانتا ہوں دین کے لئے بے غرض خدمات انجام دینے والے انتہائی لائق تحسین علمائے حق کے استثنا کے ساتھ ہمارے ہاں ایسے حریص اور لالچی عناصر کی کوئی کمی نہیں جو دین کے نام پر روپیہ پیسہ سمیٹنے اور جائیداد دیں ہڑپ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔میں ایسی عباو¿ں اور قباو¿ں سے شناسا ہوں جو مہنگی ترین لگژری گاڑیوں میں گھومتی ہیں مگر انہوں نے ٹیکس سے بچنے کے لئے ان گاڑیوں کی رجسٹریشن پسماندگی میں ڈوبے ہوئے شمالی علاقہ جات کے کسی ڈسٹرکٹ سے حاصل کر رکھی ہے۔کوئی تحقیق کرے تو ایسے بیسیوں کیس مل جائیں گے۔ مقامی انتظامیہ چونکہ خود بھتہ خور ہے اس لئے کسی نے یہ پرکھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ایک پسماندہ علاقے میں انتہائی مہنگی لگژری گاڑیاں کیسے رجسٹرڈ ہو سکتی ہیں۔ جبکہ انتی مہنگی گاڑیاں رکھنے والوں کا ان علاقوں میں کوئی گھر بار ہوتا ہے نا ہی کاروبار وغیرہ۔
دین کے نام پر مال بٹورنے ہارس ٹریڈنگ یعنی گھوڑوں کی تجارت یعنی وفاداریوں کی خریدو فروخت کا دھندہ ہماری سیاسی دنیا کا بھی معمول رہا ہے۔ جب کبھی پارلیمانی انتخابات ہوتے ہیں اور بالعموم منقسم نتائج کے باعث اسمبلیاں اور سینٹ بھی منقسم ہی رہتے ہ یں ۔ ایسے حالات میں آزاد اور اقلیتی پارٹیوں کے ارکان اپنی وفاداریوں کی بولیاں خوب بڑھ چڑھ کر لگواتے ہیں۔ اور اس معاملے میں شائد ہی کوئی سیاسی مبرا ہو۔ مذہبی لبادے ہیں مال و زر کی حرص رکھنے والی پارٹیوں میں ملا فضل اور بعض مسلکی ، علاقائی اور لسانی جماعتوں کا ریکارڈ حد درجہ پراگندہ ہے ماضی قریب میں تو سینٹ کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدواروں پر بھی ووٹوں کی خریدو فروخت کی تہمت لگتی رہی ہے۔ اور ایک بات تو جماعت نے اپنی/اپنے ایک ایسے ہی رکن کی خوب گوشمالی بھی کی تھی۔
مذہب اور سیاست جسیے دو شعبوں میں ہمارے ہاں حرص و ہوس کا دائرہ روز بروز بڑھتا پھیلتا جا رہا ہے۔ بسا اوقات یہ دائرہ انڈے بچے بھی دینا ہے۔ اور یہ گاہے ایک دوسرے کے ساجھے دار بن جاتے ہیں اور گاہے ایک دوسرے کے وجود کو کاٹتے ہیں۔ خاص طور پر جہاں معاملہ غیر ملکی فنڈنگ کا آتا ہے وہاں حریص عناصر کی ریشہ دوانیاں اور پھرتیاں چالاکیاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ سماجی بہبود کے شعبوں میں کام کرنے والی این جی اوز اور ملکی تقسیم سے جڑے ہوئے مدرسوں کے منتظمین نے اس باب میں بہت گند ڈال رکھا ہے۔
ماضی قریب کا قصہ ہے ۔ صحافتی فرائض کا تنوع مجھے زندگی کے ہمہ جہتی میدان کا ر زار کے مشاہدات و تجربات سے سرفراز کرتا رہا۔ ایک بار میرا ٹاکرا ایسی شخصیت سے ہوا جو ظاہری سطح پر ایک معقول دینی تشخص رکھتی تھی۔ نشست و برخاست اور زبان وبیان کے آداب یکتا، سیاست ، معاشرت، معیشت، ثقافت اور فنون لطیفہ کے سبھی شعبوں میں علمی دسترس کی حامل اس شخصیت کا دھندہ یہ نکلا کہ وہ اپنے وسیع تر تجربے، مشاہدے اور مطالعے کے بھرتے اور تعلقات کی وسعت کے بل بوتے پر مختلف مسلکی مدرسوں ، این جی اوز اور دیگر رفاہی اداروں کے لئے ملکی وغیرہ ملکی سطح پر فنڈنگ کا بندوبست کرتی تھی۔ مجھے یہ جان کر تب بے پناہ حیرت ہوئی جب اس شخصیت نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی ان خدمات کے بدلے میں موصول ہونے والے فنڈز کا پچاس فیصد حصہ خود رکھتی ہے۔
”ارے آپ بھی!“ میں چونگ پڑا۔ وہ باریش آڑھتی تربت بولا: ” اس حمام میں سب ننگے ہیں“ بھائی۔۔

Scroll To Top