کشمیری نوجوان کو ڈھال بنانے والا بھارتی میجر سری نگر ہوٹل کیس میں مجرم قرار

m

میجر گوگی کو سری نگر کے ایک ہوٹل سے نوجوان لڑکی کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ فوٹو : فائل

 سری نگر: فوجی عدالت نے سری نگر کے ایک ہوٹل سے نوجوان لڑکی کے ساتھ گرفتار ہونے والے بھارتی میجر نتن گوگی کومجرم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

کشمیری میڈیا کے مطابق آرمی کورٹ آف انکوائری نے میجر نتن گوگی کو سری نگر ہوٹل کیس میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ فوجی عدالت نے میجر گوگی کی فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

فوجی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ میجر گوگی نے مقامی افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا رشتہ قائم کرنے سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کی اور وہ حراست کے وقت اپنی ڈیوٹی کے مقام سے دور پائے گئے تھے جب کہ علاقے میں فوجی آپریشن بھی جاری تھا۔ یہ نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم پر بھارتی فوج کے حکام  میجر نتن گوگی کے خلاف سزا کا تعین کرسکتے ہیں جس میں انہیں ملازمت سے جبری ریٹائرڈ بھی کیا جاسکتا ہے یا پھر میجر نتن گوگی کا کورٹ مارشل بھی کیا جاسکتا ہے۔

رواں سال 30 مئی کو میجر گوگی سری نگر کے ایک ہوٹل میں نوجوان لڑکی کے ہمراہ پائے گئے تھے جس پر مقامی افراد نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا تھا تاہم ایس پی شمالی سری نگر نے مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر کے میجر گوگی اور لڑکی کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں میجر گوگی کو اُن کے یونٹ کے حوالے کردیا گیا تھا جہاں اُن کا ٹرائل کیا گیا۔

واضح رہے کہ میجر نتن گوگی مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے دستے  راشٹریہ ریفل کی 53 بٹالین کے متنازع ترین فوجی افسر ہیں۔ میجر گوگی نے گزشتہ برس اپریل میں ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال بنایا تھا۔ اس قبیح فعل کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی تاہم بھارتی فوج نے تادیبی ایکشن لینے کے بجائے میجر گوگی کو فوجی اعزاز سے نوازا تھا۔

Scroll To Top