آئی ایم ایف اور پانامہ لیکس کی تحقیقات کا مطالبہ

آئی ایم ایف کا پانامہ لیکس اور بہاماس پیپرز کی تحقیقات کا مطالبہ یقینا حکومت کے لیے خفت اور شرمندگی کا باعث بنا ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لوگارڈ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کرپشن کی حقیقت یا تاثر دونوں کو ختم کرکے شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ بدعنوانی کے حوالے سے پوچھے گے سوال کے جواب میں آئی ایم ایف کی سربراہ کا موقف تھا کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور معلومات تک رسائی کی وجہ سے اب چھپنا اور راہ فرار اختیار کرنا ممکن نہیں رہا۔ان کا کہنا تھا کہ احتساب اور شفافیت کی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔ مذید یہ کہ پاکستان کو ٹیکس کلیشن میں مذید بہتری لانا ہوگی۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا موقف تھا کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معشیت کو نقصان پہنچا ۔ پانامہ لیکس کا معاملہ عدالت عظمی میں جانے کے بعد کسی نئے دھرنے کا جواز نہیں بنتا۔ “
وطن عزیز میں بدعنوانی ملکی تعمیر وترقی کی راہ میں جتنی بڑی رکاوٹ ہے ارباب اختیار اسے اتینی ہی کم اہمیت دینے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ محض زبانی جمع خرچ کے زریعہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشیش کی جاتی ہے کہ سرکار نہ صرف بدعنوانی کے خلاف سینہ سپر ہے بلکہ خود اس کے ہاتھ بھی صاف ہیں۔ پانامہ لیکس کا سامنے آنا اور عمران خان کا اس معاملہ پر پوری قوت سے احتجاج کرنا قومی سیاست میں ہلچل پیدا کرگیا۔ بظاہر مسلم لیگ ن کی حکمت عملی یہی ہے کہ اس عالمی سیکنڈل کی شفاف تحقیقات کرنے کی بجائے اسے مسلسل طول دیا جائے۔بظاہر اس سلسلے میں اسے پاکستان پیپلزپارٹی، جمیت علماءاسلام ف، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت بعض چھوٹی سیاسی جماعتوں کی درپردہ حمایت حاصل ہے۔ ملکی سیاست کا ہر طالب علم آگاہ ہے کہ بدعنوانی کے تدراک کے لیے نہ تو ہمارے ہاں سیاسی عزم ہے اور نہ ہی اس کے لیے اب تک کوئی ٹھوس پالیسی مرتب کی جاسکی جو نتیجہ خیز کہلائے۔
کہنے کو ملک میں قومی احتسیاب بیورو، فیڈرل بورڈ آف روینو،احستاب عدالتیں بھی موجود ہیں مگر ان کی فعالیت کے بارے اکثریت کی رائے کسی طور پر مثبت نہیں۔ملکی قانون بارے یہ تاثر عام ہے کہ یہ کمزور کے لیے تو پوری قوت سے متحرک ہوتا ہے مگر طاقتور کے سامنے اسے فعال ہونے کی جرات نہیں ہوتی۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں ملک کی دونمایاں سیاسی جماعتوں نے لندن میں مثیاق جمہورت کے نام سے جو خوشنما عہدوپیماں کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے مشترکہ طور پر ٹھوس اور قابل عمل اقدمات اٹھائیں جائیں گے مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے اپنے ہاں نمایاں شخصیت پر لگنے والے بدعنوانی کے مقدمات کی اہمیت اس طرح کم کی کہ حکومتی سطح پر ان کی پیروی ہی نہ ہوئی ۔ عملا یہ تاثر مضبوط ہوا کہ سیاسی مفاہمت دراصل مک مکا کی ایسی شکل ہے جو بدعنوانی ختم کرنے کی بجائے اسے تحفظ دینے میں معاون ثابت ہورہی۔ بادی النظر میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا یہ دعوی سچ ہوتانظر آرہا کہ قومی سیاست کے نمایاں کھلاڑی کرپشن ختم نہیں بلکہ اسے بڑھانے اور تحفظ دینے پر کاربند ہیں۔ سٹیس کو کا مطلب یہ لیا جارہا کہ سرکاری سطح پر بدعنوانی ختم نہ ہونے کا رجحان جاری وساری رہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے پانامہ لیکس کے معاملے پرجو دوٹوک رویہ اختیار کیا وہ دراصل پاکستان تحریک انصاف کے اس موقف کو تقویت بخش رہا کہ جس کی بنیاد بنا کر وہ دو نومبر کو احتجاج کرنے جارہی۔ کرسٹین لوگارڈ نے درست کہا کہ احتساب اور شفافیت ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسا تو وہی چاہے گا جس کے اپنے ہاتھ صاف ہوں۔ حکمران جماعت عالمی مالیاتی اداروں سے تھوک کے حساب سے جس طرح قرض پر قرض لے رہی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب آئی ایم ایف تک میں تشویش پیدا ہورہی۔ وفاقی وزیر خزانہ کے ہمراہ عالمی مالیاتی ادارے کی سربراہ کی پریس کانفرنس دراصل واضح پیغام ہے کہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو مذید اقدمات اٹھانے ہونگے۔
پانامہ لیکس جیسے مالیاتی سیکنڈل کو منطقی انجام تک پہنچانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان دولت مند بااثر افراد کو پیغام دیا جائے کہ پاکستان سے پیسے باہر منتقل کرنے کا رججان اب مذید برداشت نہیںہوگا۔ ایک طرف ملکی معیشت کی حالت دگرگوں ہے تو دوسری جانب بااثر افراد اپنا کاروبار دیارغیر میں پھیلانے اور مستحکم کرنے کی پالیسی پر عمل پیراءہیں۔ اس میں شک نہیں ہونا چاہے کہ آج نہیں تو کل اس حکومت نے نہیں تو کسی اور حکمران کو بہرکیف فیصلہ کن اقدمات اٹھانے ہیں۔ ملکی سیاست میں بدعنوانی کا بطور ایشو بننا بہتری کی نشانی ہے۔پاکستان کا باشعور شہری سمجھتا ہے کہ اس کے مسائل کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہاں کی اشرافیہ ایک طرف کالے دھن کو سفید کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے تو دوسری جانب کسی طور پر ٹیکس نیٹ ورک میں آنے کو تیار نہیں۔ اس پر ستم یہ کہ رائج نظام ان دولت مند افراد کے ہاتھوں میں یرغمال بن کررہ گیا جو سیاست اور کاروبار دونوں پر دسترس رکھتے ہیں۔ دونومبر کے دھرنے سے محض چند روز قبل آئی ایم ایف کی سربراہ کا پانامہ لیکس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ عام پاکستان کے لیے بدعنوانی کے خاتمہ کی اہمیت دوچند کرگیا۔

Scroll To Top