ان کا نشانہ مسجدیں اور نمازی کیوں ہیں ؟ 05-12-2009

یہ لوگ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں یا کہاں سے بھیجے جاتے ہیں جن کا نشانہ مسجدیں ہیں ` نمازی ہیں اور خدائے بزرگ و برتر کے حضور سجدہ ریز ہونے والے معصوم کلمہ گو ہیں۔؟
ہمارے مغربی دوست ` اور ہمارے اپنے روشن خیال دانشور ایک عرصے سے ہمیں باور کرا رہے ہیں کہ یہ سب انتہا پسند اسلامسٹ ہیں جنہیں ” اللہ کی راہ میں “ جہاد کرنے اور ” دشمنان اسلام “ کا خون بہانے کی تربیت دے کر ” کفر کی قوتوں“ کے خلاف چھوڑ دیا جاتا ہے۔لیکن کوئی بھی ذی ہوش مسلمان اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ اسلام سے ذرا سا بھی لگاﺅ خدا کا ذرا سا بھی خوف اور رحمت الالعالمین کی تعلیمات سے ذرا سی بھی آگہی رکھنے والا کوئی بھی شخص یوں مسجدوں ` نمازیوں اور خدا کے خلاف اعلان جنگ کرسکتا ہے ۔
اب اس امر میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قوتوں نے ہمارے معاشرے میں بڑی موثر کمین گاہیں بنالی ہیں۔ ہماری صفوں کے اندر مورچہ بند ہوجانے کے لئے ہمارے دشمنوں کا یہ اعلان کردینا ہی کافی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے آئے ہیں۔ میں کسی ” را“ کسی ” موساد“ کسی ” سی آئی اے“ یا کسی بلیک واٹر کا نام نہیں لے رہا۔ لیکن کوئی نہ کوئی قوت تو ایسی ضرور ہے جو ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی ہے۔ ایک مقصد (اس گھناﺅنے کھیل کا )اسلام کے ” تصور جہاد و شہادت“ کو تضحیک کا نشانہ بنانا اور یوں اسلام کا نام لینے والوں کو دیوار سے لگانا ہے۔ اور دوسرا مقصد ” اسلامی انتہا پسندی “ کے خاتمے کے لئے جنگ کے دائرے کو وسیع تر کرنے کا جواز پیدا کرنا ہے۔
امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اگر اربوں ڈالر آگ میں جھونک سکتا ہے تو چند سو ملین ڈالر خرچ کرکے چند سو ضمیر (اور جانیں)بھی خرید سکتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہم ایک ایسے میدان جنگ میں اترچکے ہیں جہاں کچھ دشمن تو ہمیں اپنی نظروں کے سامنے صاف نظر آرہے ہیں مگر کچھ ہمارے پیچھے چھپے کھڑے ہیں۔
یہ جنگ ہم پھر بھی جیتیں گے ۔
اس لئے جیتیں گے کہ ہمارے دشمنوں کی یہ جنگ صرف ہمارے نہیں ہمارے دین کے خلاف بھی ہے۔

Scroll To Top