چھانگا مانگا ۔2 آج بھی باہمی آویزشوں اور ریشہ دوانیوں کی بھینٹ چڑھا رہا

  • ۔۔۔امریکی سفیر کے روبرو وزارت عظمیٰ کی بھیک مانگنے والا اب کھیلنے کو صدارت مانگے ہے
  • ۔۔۔عمران خان کی کردار کشی پر مامور مہرے جیالوں اور متوالوں کو تگنی کا ناچ نچوا رہے ہیں
  • ۔۔۔چوک چوبارے اور کوچہ بازار میں نون غنے عوامی تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں
  • ۔۔۔اپوزیشن کی ساری جماعتیں ایک دوسرے کو سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں الجھائے ہوئے ہیں

وکی لیکس میں درج ایک واقعے کی صدائے بازگشت آج بھی اسلام آباد کے دامن کوہ میں سنائی دیتی ہے۔
سابق امریکی سفیر این پیٹرسن کے روبرو وزارت عظمیٰ کی بھیک مانگنے والا ملا فضل کی رال آج ایک بار پھر منصب صدارت کے لئے ٹپک رہی ہے۔ پون درجن سیٹوں کے ساتھ حرص و ہوس میں غرق یہ سیاسی آڑھتی ہمیشہ منقسم ایوان کا آرزو مند رہا ہے کہ صرف اسی حالت میں وہ پاسنگ کا ایسا باٹ بنتا ہے جو جس پلڑے میں بھی دھرا جائے وہی مسند اقتدار تک رسائی پاجاتا ہے۔
اور ان دنوں کہ ایک معین معانی میں نون غنے اور جیلاے ایک ہوتے ہوئے بھی کھینچا تانی اور آپس کی ریشہ دوانیوں میں مبتلا ہیں، نمبر گیم کے حوالے سے ملا جی کی لاٹری نکلی ہوئی ہے۔ کیا نون غنے اور کیا جیالے مفاداتی لڑائی کے ایک خاصے درجے تک ” میں نہ مانوں“ کی ہٹ پر قائم رہنے کا طے کر چکے ہیں۔ چنانچہ زرداری گروپ اپنے نامزد کردہ صدارتی امیدوار چوہدری اعتزاز احسن پر پکا ڈٹا ہوا ہے۔ جبکہ نونیوں کا اصرار ہے کہ یہ نام صرف اسی صورت میں قبول ہو سکتا ہے جب اعتزاز احسن اڈیالہ جیل جا کر نواز شریف سے معافتی تلافی کا پروانہ حاصل کر لیں۔ سینیٹر پرویز رشید کے ان الفاظ پر جب زرداری گروپ کا شدید ردِ عمل آیا اور اندر کے بھید یوں نے نواز ناشریف اور شہباز شوباز کے کانوں تک یہ حقیقت ڈالی کہ حضورہتھ ہولا رکھو، چوک چوبارے اور کوچہ و بازار میں آپ کی عوامی تائید کا گراف بہت گرچکا ہے ۔ پٹوار پولیس کے ذریعے اور بریانی وپانچ سو سے ہزار روپے تک کی دہاڑی پر لائے گئے نواز شریف کے احتجاجی جلسوں کے احتجاجیوں کا ابال تحلیل ہوچکا ہے۔ اب اگر زرداری کو آنکھیں دکھائیں تو آٹے دال کے بھاو¿ کا لگ پتہ جائے گا۔ دیگر آزاد ذرائع سے بھی جب نون لیگ کے خلاف اس پست صورت حال کی تصدیق ہوچکی تب نواز شریف نے خواجہ آصف اور کسی ایک ملاقاتی کے ذریعے شہباز شریف تک یہ بات پہنچائی کہ سینیٹر اعتزاز احسن کی بابت ہتھ ہولا رکھیں، اسی کے بعد تو نونی قیادت نے یوٹرن لیتے ہوئے پی پی پی کے صدارتی امیدوار بابت پینترا بدل لیا اور ارشاد ہوا کہ پرویز رشید کا اعتزاز احسن بابت بیان ان کی ذاتی رائے پر مبنی تھا اس کا نون لیگ کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ اس مرحلے پر زرداریوں نے بھی نونیوں بابت اپنے ہاں کوئی زم گوشہ پیدا کر لیا ہے۔
”میرا جواب ہے ہرگز نہیں“ یہ زرداری کی دوہری چال ہے اور نونیوں کی طرف سے بھی سانپ اور سیڑھی کا کھیل۔ دونوں فریق اندر خانے عمران خان کے ہوے سے ڈرتے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر عمرانی کو ڑا چل نکل تو ان دونوں کی حرام پائیوں کا بھڑکس نکل جائے گا۔ دونوں پارٹیوں کے ہاں عمران خان کی قوت اور مقبولیت جانچنے کے اپنے معیار ہیں۔ دونوں نے ہی پی ٹی آئی کے چیئرمین اور ملک کے وزیر اعظم کی کردار کشی کے لئے اپنے اپنے مہرے میدان میں اتارے ہوئے ہیں یہ سب جب اپنے اپنے آقائے و لی نعمت کو ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹیں دیتے ہیں اور ” ثابت“ کرنے کے جتن کرتے ہیں کہ لوگ عمران سے ” دوری اختیار“ کرنے لگے ہیں تو نونی اور جیالا کیمپ ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت لیتے ہیں یہ صورت حال آج اتوار کو بھی مری میں جاری چھانگا مانگا 2کے اے پی سی ناٹک میں سامنے آئی۔ جب نونی جیالوں کو یہ جتاتے رہے کہ پچھلے روز یہ اصولی فیصلہ ہوگیا تھا کہ اپوزیشن پارٹیاں ایک متفقہ صدارتی امیدوار سامنے لائیں گی اور یہ تبھی ممکن ہے کہ پی پی پی اعتزاز احسن کا نام واپس لے لے۔ مگر یہاں پیپلز پارٹی نے سرے سے ہی نونیوں کو ٹھینگا دکھا دیا۔
قریب تھا کہ دوپہرکا بھوجن معدوں میں اتارنے کے ساتھ ہی چھانگا مانگا2کا بولا رام ہو جائے گا۔ کہ اس مرحلے پر ملا فضل نے اپنا پتہ پھینک دیا شرکائے کانفرنس کو یاد دلایا گیا کہ ملا جی سربراہی میں ایک تین رکنی پینل موجود ہے دونوں بڑے فریق اپنے اپنے امیدوار کا نام اسے دینے کے پابند ہیں۔ مگر پی پی پی نے ملا فضل کو غچہ دے دیا اور اپنے امیدوار کا نام براہ راست بذریعہ فون شہباز شریف کے حوالے کر دیا۔ نام وہی تھا یعنی چوہدری اعتزاز احسن اور ساتھ یہ شرط بھی تھی کہ ہمارا صدارتی امیدوار یہی ہے جس کا جی چاہے اسے ووٹ دے جس کا چاہے نہ دے۔ اس پر شوباز شریف پر تو گویا اوس ہی پڑ گئی۔
اس مرحلے پر ملا فضل نے اپنے دوستوں کے ذریعے دونوں بڑی پارٹیوں کی حاضر قیادتوں کو اپنا نام برائے صدارتی امیدوار پیش کر دیا ۔ ان کا ارشاد تھا کہ بڑی پارٹیوں کے مابین جاری موجود ہ آویزش کے خاتمے اور وسیع تر ملکی مفاد میں مناسب ہے کہ اس بار ان جیسی” صاحب علم“ شخصیت کو بطور صدر مملکت خدمت کا موقع دیا جائے۔ ملا جی کی اس پیشکش کا انجام کیا ہوا اس کا احوال میں آئندہ پیش خدمت کروں گا۔

Scroll To Top