اپوزیشن اس بار بھی ناکام رہے گی!

zaheer-babar-logo

پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتیںایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ڈاکر عارف علوی کو صدارت کے منصب پرفائز ہونے سے روکنے کے لیے حزب اختلاف اپنے طور پر کوشاں ہے ۔ مگر آثار یہی ہیں کہ ایسا ممکن دیکھائی نہیں دیتا کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این کسی ایک صدارتی امیدار پر متفق ہوجائیں۔ آخری اطلاعات تک معاملہ اس پر رکا رہا کہ مسلم لیگ ن کسی طور پر اعتزاز احسن کو صدراتی امیدوار قبول کرنے کو تیار نہیں جبکہ پی پی پی یہ دعوی کر رہی کہ وہ ہرگز اپنا نام واپس نہ لے گی۔ یہ بھی کہا جارہا کہ مسلم لیگ ن نے رضا ربانی اور سید یوسف رضا گیلانی کے نام بھی پیش کیے ہیںکہ اگر پی پی پی ان میں سے کسی کو امیدوار نامزد کرتی ہے تو وہ اس کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
بادی النظر میں الیکشن میںدھاندلی کا شور شور مچاتے اپوزیشن جماعتیں خود ایک دوسرے کے خلاف صف آراءہوچکیں۔ مبصرین کے خیال میں اس کی نمایاںوجہ یہ کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ دونوں جماعتوں کے اندرونی مسائل انھیں کسی طور ایک دوسرے کی اندھا دھند حمایت پر آمادہ نہیں کررہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی مشکل یہ ہے کہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات اس کی قیادت کے خواب چکنا چور ہوچکے ۔پانامہ لیکس کے سامنے آنے سے قبل تک سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اور ان کی جماعت کے اکثر اراکین یہ یقین کیے ہوئے تھے کہ وہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں وہ باآسانی جیت جائیں گے ۔ ان دنوں ن لیگ کے کسی بھی چھوٹے بڑے لیڈر کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والے دنوں میں منی لائنڈرنگ کے کیس میں میاں نوازشریف عدالتوں سے نہ صرف اپنے عہدے سے محروم ہوجائیں گے بلکہ جیل کی سلاخوں کے پچھے بھی ہونگے۔ یقینا شریف فیملی جس طرح قانونی مسائل میں گھر ہوچکی مسقبل قریب میں اس سے ان کی جان خلاصی ہوتی نظر نہیںآرہی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ کے پہلے ہی اجلاس میں میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کا نام ای سی ایل میں ڈال کر واضح پیغام دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سابق وزیر اعظم کو حکومت کوئی ریلیف دینے کو تیار نہیں۔
ادھر پی پی پی کے شریک چیرمین اور ان کی بہن منی لائنڈرنگ کے مقدمہ میں ضمانت پر ہیں۔اربوں روپے جعلی اکاونٹ کے زریعے بیرون ملک منتقل کرنے کی تحقیقات مسلسل جاری ہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے جاری چھان بین کے نتیجے میں مذید انکشافات ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی جو کسی طور پر سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے نیک شگون نہیں۔ سابق صدر کے قریبی ساتھیوں سے مسلسل تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں ان کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ ممکن نظر نہیںآتا کہ پی پی پی مسلم لیگ ن کے اشاروں پر اس طرح ناچے کہ اپنا نقصان کر بیٹھے۔ بتایا جارہا کہ پی پی پی سندھ پر پوری توجہ مبذول کرنا چاہتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں موثر سیاسی قوت کے طورپر سامنے آئی ۔ پی ٹی آئی اب اعلانیہ کہہ رہی کہ وہ2023کے عام انتخابات میں سندھ میں پوری تیاری کے ساتھ جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
درج بالاحقائق یہ بتانے کے لیے بہت کافی ہیں کہ یہ معجزہ ہونا مشکل ہے کہ اپوزیشن جماعتیں نہ صرف کسی ایک صدراتی امیدوار پر متفق ہوجائیں بلکہ وہ شخصیات کامیاب ہوکر ایوان صدر میںجا بسے ۔ ادھر
وطن عزیز میں جمہوری عمل مرحہ وار اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے ۔ صوبوں میں بھی حکومتیں نہ صرف قائم ہوچکیں بلکہ انھوںنے فرائض منصبی بھی ادا کرنا شروع کردئیے ۔ یقینا پاکستان تحریک انصاف سمیت سب ہی سیاسی جماعتوں کے لیے بڑا چیلج یہی ہے کہ کب اور کیسے وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں۔ آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان جیسا نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے طرزسیاست نے خبیر تا کراچی عوام کو باور کروا دیا کہ وہ کارکردگی اور صرف کارکردگی کی بنا پر ووٹ دیں۔ بدعنوانی کے خلاف عمران خان کی انتھک جدوجہد جہاں انھٰیں وزارت عظمی کے منصب پر لے گی وہی دیگر قائدین کے لیے کے لیے مشکلات کئی گنا بڑھ چکیں۔ وزیر اعظم پاکستان مسلسل ایسے اقدمات اٹھارہے جس کے نتیجے میں سرکاری شخصیات قومی خزانے پر کم سے کم بوجھ بنیں۔ درحقیقت عمران خان نے اسی بنیاد پر ملک بھر میں اپنی حمایت میں اضافہ کیا کہ وہ ایک تبدیل شدہ پاکستان بنائیں گے ۔ حالیہ انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کی انتخابی مہم میں دو نہیںایک پاکستان کا نعرہ پوری قوت سے لگایا جاتا رہا۔ خواص اور عام میں فرق ختم کرنا پاکستان تحریک انصاف کے لیے بڑا چیلج بن چکا جس سے عمران خان بھرپور انداز میں نمٹ رہے۔
قوی امکان ہے کہ ڈاکڑعارف علوی کی شکل میں پاکستان تحریک انصاف صدراتی انتخاب بھی جیت جائیں گی جس کے بعد پی ٹی آئی کے تمام زمہ دار اپنی پوری توجہ لوگوں کی مشکلات حل کرنے پر صرف کریں گے۔ یہ سمجھ لینا چاہے کہ داخلہ اور خارجہ محاذ پر وطن عزیز بہت سارے مسائل کا شکار ہے جس میںکامیابی کے ساتھ قابو پانے کے لیے ہر سطح پر اتفاق واتحاد سے کام لینا لازم ہے۔

Scroll To Top