سیف اللہ نیازی کی دوسری شادی

25اکتوبر کو تحریک انصاف کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سیف اللہ نیازی کا ولیمہ تھا۔ اور اس میں شریک ہونے کے لئے میں بطور ِ خاص لاہور سے اسلام آباد آیا۔ سیف اللہ نیازی کے لئے ’ ’ سابق“ کا لفظ لکھنا مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ وہ ایک عرصے تک تحریک انصاف کے روح رواں رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ اگر وہ روحِ رواں نہ ہوتے تو ان کے ولیمے میں تحریک انصاف کے ہزاروں فعال کا رکن شریک نہ ہوتے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ سینکڑوں کارکن اور لیڈر صرف اِس ولیمے میں شرکت کے لئے دور افتادہ مقامات سے آئے۔
کپتان عمران خان کے لئے بڑا مصروف دن تھا۔ انہیں سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے وہاں بھی جانا پڑا۔ اس کے باوجود وہ ولیمے میں شریک ہوئے۔
میں نے یہ ساری تمہید اس لئے باندھی ہے کہ ایک تو میں اپنے دوست سیف اللہ نیازی کو اُن کی دوسری شادی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ اور اس کے علاوہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کے سربراہ کی حیثیت سے ان پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کی تکمیل کے لئے انہیں سیف اللہ نیازی کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔۔۔ سیف اللہ نیازی کی وفاداریاں کپتان اور تحریک انصاف کے ساتھ بہت پرانی ہیں۔ پارٹی کے تمام پرانے کارکنوں کے ساتھ سیف اللہ نیازی کا لگاﺅ بہت گہرا ہے۔ یہ بات تحریک انصاف کے مفاد میں نہیں ہوگی کہ اس کا تنظیمی ڈھانچہ گروہ بندی کا شکار رہے۔ عمران خان نے سیف اللہ نیازی کا استعفیٰ خوشدلی سے قبول نہیں کیا ہوگا۔ ان کے اِس اقدام کے پیچھے یقینا یہ اصول ہوگا کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی بہتر متبادل حل تلاش کیا جاسکتا تھا لیکن سیاسی جماعتوں کے اندر بھی اقتدار کی جنگ اُسی طرح چلتی رہتی ہے جس طرح سیاسی جماعتوں کے درمیان چلتی ہے۔اس ضمن میں مجھے ایڈولف ہٹلر کے پرسنل سیکرٹری مارٹن بورمین کی ایک بات یاد آرہی ہے جو اس نے اپنی ڈائری میں تحریر کی تھی۔
” ہماری پارٹی میں ایک عرصے تک فیوہرر کے حقیقی نائب کے طور پر اپنی حیثیت منوانے کے لئے ہملر`گوئرنگ ` روئیم اور چند دوسروں کے درمیان کشمکش رہی۔ اس کشمکش کا کبھی کوئی واضح نتیجہ نہ نکلا کیوں کہ فیوہرر کا اعتماد کبھی کسی کو اور کبھی کسی کو زیادہ حاصل رہتا تھا۔“
اقتدار کی طلب انسان کی ایک بنیادی جبلّت ہے۔ برٹرنیڈرسل نے اس موضوع پر ایک کتانچہ تحریرکرڈالا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا۔ ” بھوک انسان کو صرف تب تک ستاتی ہے جب تک اس کا پیٹ خالی ہوتی ہے۔ سیکس بھی چند لمحوں کا کھیل ہوتا ہے۔ یہ اقتدار یا ” پاور“ ہے جس کی طلب ہرآدمی کو اپنے دائرے میں ہمیشہ دوڑاتی رہتی ہے۔۔۔“
اِس طلب سے تحریک انصاف کے لیڈروں میں سے کوئی بھی مبرا نہیں ہوگا۔ 2012ءتک پارٹی کے ساتھ میرا براہ راست گہرا تعلق رہا۔ اور میں نے بھانپ لیا کہ پارٹی کے اندر پرانے لوگوں اور نئے لوگوں کے درمیان عمران خان کے زیادہ قریب ہونے اور رہنے کا مقابلہ سخت سے سخت تر ہوتا چلا جائے گا۔
مجھے یاد ہے کہ اسی زمانے میں عمران خان نے ایک ” اندرونی تقریب“ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
” میرا سیاسی سفر بڑا سخت امتحان طلب اور صبر آزما رہا ہے۔ مگر مشکل سے مشکل حالات میں بھی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھاتو سیف اللہ کو ساتھ پایا۔۔۔“
میں نے اوپر لکھا ہے کہ یہ سیف اللہ نیازی کی دوسری شادی ہے۔
سیف اللہ کی پہلی شادی تحریک انصاف کے ساتھ ہوئی تھی۔۔۔۔

Scroll To Top