صوابدیدی فنڈز کا بے دریغ استعمال:شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب 17لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پر خرچ کیے

  • بلٹ پروف گاڑیوں پر 21 ملین ، ڈبل کیبن گاڑیوں کی خرید پر 24 ملین جبکہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں 8.5 بلین روپے ترقیاتی کاموں کے نام پر خرچ کرنیکا انکشاف
  • ہیلی کاپٹر کے کرائے کی مد میں وفاق کو 120 ملین ادا کئے گئے، جب کہ جاتی امرا کی سیکیورٹی پر اضافی 15 ملین روپے خرچ کر ڈالے

شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی اجلاسلاہور (الاخبار نیوز) میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اپنی حکومت کے آخری 17ماہ میں صوابدیدی فنڈز کا بے دریغ استعمال کیا۔اس دوران شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب 17لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پر خرچ کیے۔بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے 21 ملین جب کہ ڈبل کیبن گاڑیوں کے لیے 24 ملین روپے خرچ کیے گئے۔این اے 120کے ضمنی انتخابات میں 8.5 بلین ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے گئے تھے تا کہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔2 وکلا کو فیس کی مد میں 80 لاکھ ادا کیے گئے۔جب کہ پنجاب حکومت نے ہیلی کاپٹر کے کرائے کی مد میں وفاق کو 120 ملین روپے ادا کیے۔جب کہ جاتی امرا کی سیکیورٹی کے لیے اضافی 15 ملین خرچ کیے گئے۔

یاد رہے وفاقی کابینہ نے صدر، وزیراعظم اور ایم این ایز کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہاہے کہ وفاقی کابینہ نے سب سے اہم فیصلہ صوابدیدی فنڈ ختم کرنے کا کیا ہے جو تاریخی اقدام ہے۔ وزیر اطلاعا ت نے کہا کہ اگرصوابدیدی فنڈز کے خاتمے کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت پڑی تو کرینگے۔انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 21 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈ استعمال کیے، اس کے ساتھ 30 ارب روپے کے فنڈ ایم این ایز کو دیے گئے، ایک سال میں 51 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈ استعال کئے گئے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ نواز شریف جلسوں میں کہتے تھے کہ میں نے یہ پیسے ا?پ پر وار دیے، پچھلی حکومت نے سرکاری خزانے کا بے دردی سے استعمال کیا لیکن یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے جسے اس طرح سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت جن کا بظاہر کوئی ا?ئینی کردار نہیں رہا، انہوں نے بھی 8 سے 9 کروڑ روپے کا صوابدیدی فنڈ استعمال کیا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم،،، صدر اور ایم این ایز کے صوابدیدی فنڈ ختم کر دیے گئے، کسی منصوبے پر رقم استعمال ہونی ہے تو وہ پارلیمانی کمیٹی میں زیر بحث آئے گا اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے تفصیلی جائزے کے بعد فنڈ دیئے جائیں گے۔

Scroll To Top