صدارتی انتخاب بھی اپوزیشن کے گلے میں ہڈی بن کر پھنس گیا

  • ۔۔۔مری اے پی سی چھانگا مانگا ۔2سمجھی جا رہی ہے
    ۔۔۔چھوٹی بڑی ساری انگلیاں دسترخوان پر مساوی ہو جاتی ہیں
    ۔۔۔اگر اپوزیشن کے یہی لچھن رہے تو پی ٹی آئی صدارتی انتخاب بھی آسانی سے جیت لے گی

سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اب صدارتی انتخاب کا مرحلہ۔۔، نام نہاد متحدہ مگر در حقیقت منتشر اپوزیشن کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ کہنے کو یہ درجن بھر سے بھی زیادہ جماعتوں پر مشتمل بھان متی کا کنبہ ہے جس کی کوئی ایک کل بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتی، ہر ایک کا لگ قبلہ، الگ امام، الگ مطلب، سال ہا سال سے قومی مسائل کے حوالے سے ان میں جوتیوں میں دال بٹتی چلی آرہی ہے۔ مگر عمران خان کے غیر معمولی اصلاحاتی ایجنڈے سے خوف زدہ ہو کر یہ سب یکجا ہونے لگے ہیں۔ مگر اس طرح کہ رات اتحاد کا پیمان باندھ کر سوتے ہیں تو صبح انتشار کا ورد ان کے لبوں پر ہوتا ہے۔
سپیکر کے انتخاب کی حد تک دونوں بڑی جماعتیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی متفق ثابت ہوئیں مگر وزیر اعظم کے انتخابی مرحلے پر ان میں ٹھن گئی اور پیپلز پارٹی نونی امیدوار شہباز شریف کے سوال پر انتخابی عمل سے الگ تھلگ ہو کر بیٹھی رہی۔
اب کہ صدارتی انتخاب کا معاملہ درپیش ہے۔ پیپلز پارٹی نے پیش قدمی کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن کو اس منصب کے لئے اپنا امیدوار بنا کر اپوزیشن کو راضی کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ نونی قیادت نے پیپلزپارٹی کی اس چال کو اپنے اکثریتی حق پر ڈاکہ سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت شروع کردی اور اپوزیشن میں موجود چھوٹی موٹی پارٹیوں کو رام کرنا شروع کر دیا۔
پچھلے روز جب نونیوں کی احساس ہوا کہ ان کے پاس نمبر گیم خاطر خواہ حد تک سازگار ہو چکا ہے تو انہوں نے اپنے کچھ کارڈ پیپلز پارٹی کو دکھانے شروع کر دیئے۔ مگر زرداری گروپ کو اپنے ذرائع سے اصل حقیقت کا علم ہوا تو اس نے جاتی عمرہ کو آئینہ دکھا دیا۔ یوں دونوں پہلوان اپنی طاقت کے دعوو¿ں سمیت ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے۔ اس مرحلے پر جمعہ کے روز ایک وقت ایسا آیا جب نونیوں نے جیالوں کے کورٹ میں گیند پھینک دیا۔ اڈیالہ جیل کے باہر گاڑی کی اگلی سیٹ پر فردکش پرویز رشید سے جب میڈیا نے سوال کیا کہ کیا آپ صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار چوہدری اعتزاز احسن کو ووٹ دیں گے تو انہوں نے ترنگ میں جواب دیا، ” اگر وہ یعنی اعتزاز احسن اڈیالہ جیل آکر نواز شریف سے معافی مانگ لیں تو اس پر سوچا جا سکتا ہے“۔
پیپلز پارٹی کا ترت جواب تھا” نہیں ہرگز نہیں“۔ چنانچہ جو صورت حال کل وزیر اعظم کے انتخاب کے مرحلے پر شہباز شریف کے ساتھ جڑی ہوئی تھی آج وہی کہانی پیپلز پارٹی کے امیدوار کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی نون لیگ نے ایک اور دھوبی پٹرا مارتے ہوئے مری میں ایک اے پی سی کا بندوبست کر لیا۔ چنانچہ اس وقت جب یہ سطریں قلم بند کی جارہی ہیںمری میں کشمیر پوائنٹ کے مقام پر نواز شریف کے محل نما بنگلے میں اے پی سی کا اجلاس جاری تھا اندر خانے مبصرین جسے چھانگا مانگا 2سے تعبیر کر رہے ہیں کی خبریں یہ ہیں کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں یعنی پی پی پی اور نون لیگ کے بڑے ایک دوسرے کو آئینے دکھا رہے ہیں، طعنہ زنی اور کوسنوں کا تبادلہ جاری رہا۔ البتہ کچھ لمحے پہلے انواع و اقسام کے کھانوں اور کھا بوں کے دسترخوان پر چھوٹی بڑی ساری انگلیاں ایک ہوگئیں۔ اور جونہی شکم پرستی کا عمل مکمل ہوا توتو میں میں کا دور پھر سے شروع ہوگیاکھانے کے دوران جب ہر طرف سے اپوزیشن کے متفقہ صدارتی امیدوار کا غلغلہ سنائی دینے لگا تھا۔ وہ ماند پڑ چکا ہے اور اب طے یہ ہوا کہ کل دوبارہ اے پی سی کے اجلاس میں مطلب مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مبصرین کے نزیک اگر منتشر اپوزیشن کا یہی حال رہا تو پی ٹی آئی صدارتی انتخاب بھی آسانی سے جیت جائے گی۔

Scroll To Top