مائیک پومپیو عمران خان ٹیفلیفونک گفتگو، امریکی اعلامیہ حقیقت کے برعکس ہے، مسترد کرتے ہیں، وزیر خارجہ

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایک تصفیہ طلب مسئلہ ہے ، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی،مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کا رویہ ہمیشہ سے مثبت رہا ہے، معذرت خواہانہ رویہ رکھا اور نہ آئندہ ہوگا
  • ایرانی وزیر خارجہ30 اگست ، چینی وزیر خارجہ 8 ستمبر اور امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو 5 ستمبر کو اسلام آباد آئیں گے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

shah-mehmood-qureshi
اسلام آباد(الاخبار نیوز) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، ہمارا رویہ پڑوسی ممالک کے ساتھ معذرت خواہانہ ہے اور نہ ہی ہوگا،پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایک مسئلہ تھا اور رہے گا، چین، جاپان، امریکا اور ایران کے ورائے خارجہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 7 برس بعد دوبارہ وزارتِ خارجہ ۔ کے دفتر آیا، آج امریکا سے تعلقات ماضی جیسے نہیں ہیں البتہ ہم اس کی اہمیت سے بھی غافل نہیں ہیں۔ا±ن کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکی ضروریات کو سمجھنا اور امریکا کو پاکستان کے تقاضے سمجھنے ہوں گے، امریکی وزیرخارجہ کا 6 ستمبر کو پاکستان پہنچیں گے ا±ن کا دورہ بہت اہم ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی یونین سے فائدہ نہیں اٹھا سکا مگر ہم چین سے تعلقات مزید بہتر بنائیں گے، پاکستان گرے لسٹ میں ہے کوئی نہیں چاہتا کہ بلیک لسٹ میں جائے۔ا±ن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان آج وزارت خارجہ تشریف لائے انہیں بریفنگ دی کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کن چیلنجز کا سامنا ہے، آج کی دنیا بہت تبدیل ہوچکی اور تعلقات بھی اثر انداز ہوئے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان آج کی دنیامیں ایک منفردمقام رکھتاہے جس کی کئی وجوہات ہیں،نئےحالات میں مذاکرات کاراستہ اہمیت حاصل کرچکا ہے، امن اوراستحکام ہماری ضرورت ہے اور ہمیں معاشی ترقی درکاہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اورمعاشی حالات تبدیل ہورہےہیں، ہم دنیا بھر میں پاکستان کی مو¿ثرترجمانی کریں گے، رائزنگ اسلامو فوبیانئی صورتحال سےدوچار ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد وجود میں آنے والا لبرل ازم آج تناو¿ میں ہے۔ا±ن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں، پاک بھارت مذاکرات میں تعطل تھا مگر اب یہ دیکھنا ہے کہ افہام و تفہیم سے معاملے کو آگے کس طرح بڑھایا جائے کیونکہ وزیر اعظم نے اپنے پہلے خطاب میں واضح کردیا ایک قدم وہ آگے بڑھیں گے تو دو قدم ہم بڑھائیں گے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرخارجہ نےمبارکبادپیش کی ان کا شکر گزار ہوں، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی،مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کا رویہ ہمیشہ سے مثبت رہا ہے مگر ہم نے معذرت خواہانہ رویہ رکھا اور نہ آئندہ ہوگا۔افغانستان امن سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان امن اور استحکام پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے، صدر اشرف غنی نےایک مثبت سااشارہ دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک کی کس طرح سے مدد کرسکتا ہے، ہم امریکا اور ایران کےدرمیان کشیدگی سےواقف ہیں، ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور ہم پر امن سرحدکے خواہشمند ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرخارجہ کاپیغام ملا کہ وہ 30 اور 31 اگست کوپاکستان آناچاہتے ہیں۔ پاک چین تعلقات پر ا±ن کا کہنا تھا کہ سی پیک اہم پیشرفت ہے پاک چین حکام نے گفتگو اس پروجیکٹ سے کیسے مستفیدہوسکتے ہیں کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان سمیت خطےکےمفادمیں ہے۔ا±ن کا کہنا تھا کہ چین اورپاکستان کی دوستی مثالی ہےاوررہےگی، چینی وزیر خارجہ 8 اور 9 ستمبر کو پاکستان آئیں گے، چینی وزیرخارجہ سےملنےکااشتیاق ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزیدوسعت دیا جائے۔امریکا سے تعلقات اور کشیدگی پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا سے ہمارے تعلقات آج کل ویسےنہیں جیسے ماضی میں تھے، تعلقات کوواپس سطح پرلانےکے لیے امریکی ضروریات سمجھنےکی ضرورت ہے، اسی طرح امریکا کو بھی پاکستان کے تقاضے سمجھنے ہوں گے۔،ایرانی وزیر خارجہ 30 اور 31 اگست کو پاکستان ا?ئیں گے،چینی وزیر خارجہ 8 اور 9 ستمبر کو پاکستان ا?ئیں گےامریکا کے سیکریٹری خارجہ پومپیو 5 ستمبر کو ایک روزہ دورے پر اسلام ا?باد پہنچیں گے ،وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 5 ستمبر کو امریکا کے سیکریٹری خارجہ پومپیو کا دورہ پاکستان متوقع ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس دورے اور ملاقات سے نئی راہیں کھلیں گی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان گرےلسٹ میں ہے اور پہلےبھی رہا ، توقع کی جارہی ہے کہ ہم گرے لسٹ سے باہر نکلیں، اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کے گورنر شمشاد اختر سے ا?گاہی حاصل کروں گا کیونکہ میں یا حکومت ہرگز نہیں چاہتی کہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جائے۔اووسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں میں آج خوشی کی لہرہے کیونکہ ا±ن کا دیرینہ مطالبہ حقیقت کا روپ دھار رہا ہے، ووٹ کا حق ملنےکےبعد بیرون ملک پاکستانیوں کا احساس محرومی ختم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ملاقات کی خواہش ہے، اگر کبھی باہر جاو¿ں گا تو فائیو اسٹار ہوٹلزمیں نہیں رہوں گا، کوشش ہوگی جہاں سفارتخانوں میں گنجائش ہوگی وہاں رہوں گا، میرےبیرون ملک دوروں میں قومی خزانے پرکم بوجھ ڈالا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے وزیراعظم عمران خان اورپومپیوکی گفتگوپر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ امریکاکی جانب سے جوبیان دیاگیا ہے وہ حقیقت کے برعکس ہے، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا ٹیلی فون گفتگوپربیان حقیقت پرمبنی نہیں ہے کیونکہ سیکریٹری خارجہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ نئی پاکستانی حکومت کےساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور جہاں امریکا کے مفاد ہیں انہیں ترجیح دیں گے۔پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں سےمتعلق بیان غلط ہے، حکومت بیرونی چیلنجز سے غافل نہیں ہم صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں، امریکا سے رشتہ یکطرفہ نہیں دونوں طرف سے ہیں، ہم سمجھیں اور سمجھائیں گے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کو امریکی وزیر خارجہ کی ٹیلی فونک گفتگو پرامریکہ نے کہا ہے کہ وہ مائیک پومپیو اور پاکستانی وزیراعظم کی بات چیت سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہے جبکہ پاکستان نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق جاری کردہ امریکی بیان مسترد کردیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس کے دوران انہوں نے پاکستان میں سرگرم تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے فیصلہ کن کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔امریکا کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کو بڑھاوا دینے میں پاکستان کا اہم کردارہے تاہم پاکستان نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق جاری کردہ امریکی بیان کو حقائق کے منافی قرار دےکر مسترد کردیا تھا۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان پاکستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، لہذا اسے درست کیا جانا چاہیے۔ترجمان نے کہاکہ امریکی محکمہ خارجہ حقائق کے منافی بات نہ کرے۔

Scroll To Top