برساتی دھوپ چھاو¿ں جیسی ”متحد“ منتشر اپوزیشن ، حکومت کے لئے خیر مستور

  • ۔۔۔۔۔تبدیلی کے علمبرداروں کی دو روزہ کارگزاری، حریفوں کی صفوں میں کھلبلی
  • ۔۔۔۔۔سوشل میڈیا پر عمران خان کی کردار کشی عوام نے مسترد کردی
  • ۔۔۔۔۔اپوزیشن پی ٹی آئی کو سو دنوں میں فری ہینڈ دینے کو ہرگز تیار نہیں
  • ۔۔۔۔۔عمران خان پُرعزم، یکسوئی اور درست حکمتِ عملی کامیابی کی مستند ضمانت

gulzar-afaqi
حریفوں کی ذہنی پسماندگی کے حوالے سے بعض حلقے عمران خان سے ہمدری کا اظہار کر تے ہیں، میرے خیال میں مگر صورت حال کے اس پہلو میں کپتان کے لئے اللہ پاک کی طرف سے خیر مستور کا عنصر موجود ہے۔
ذرا غور فرمایئے ،18سے 23اگست، 6دن،4تعطیلات، میسر آنے والے ایام کار صرف2، مگر کپتان اور اس کی ٹیم نے ان دونوں سمیت تعطیلات میں بھی اپنے ایجنڈے کی ایسی مہورت دکھا دی کہ حریفوں کے استھانوں میں گویا بھونچال کی سی کیفیت پید اہوگئی۔
غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے
کون سا شعبہ زندگی ہے جس بابت عمرانی حکومت نے کرداری و جوہری تبدیلی کے اشارے سے زیادہ ارادے ظاہر کر دیئے۔
داخلی محاذ پر کرپشن، لوٹ مار ، ٹیکس چوری اور کک بیکس کی مرکوبی کے عزم اور حکمتِ عملی کا اعلان ، سرکار دربار کی سطح پر مالیاتی طیاشیوں کا خاتمہ اور وزیر اعظم سے لے کر عام اہلکارتک کفائت شعاری پر عمل درآمد ، گھریلوں دستکاریوں سے لے کر صنعتی پیداوار میں فروغ، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی سکیمیں، قومی دولت کی لوٹ کھوسٹ کے بڑے مجرموں نواز شریف اینڈ فیملی کے ای سی ایل میں نامزدگی جبکہ مفرور لڑکوں اور سمدھی اسحق ڈار کی بذریعہ ریڈ وارنٹ گرفتاری اور ملک واپسی کا ریجنڈا اور مزدوروں کسانوں اور سفید پوش طبقوں کے لئے روزمرہ معاملات میں آسانیوں کی فراہمی، اور اس ضمن میں دو اہم محکموں پولیس اور پٹوار میں بنیادی اصلاحات کا اغاز۔
عمرانی حکومت کی اس تہلکہ خیز پیش رفت نے پاکستان کے معروف طبقہ بدمعاشیہ کی صفوں میں کھلبلی مچا کر رکھ دی۔ جس کی تصویر کشی شاعر بے مثل محمد اظہار الحق صاحب کے اوپر درج شعر کے ذریعے بھی واضح دکھائی دیتی ہے۔
یہی وہ صورت حال ہے جس نے شکست خوردہ پارٹیوں نون لیگ، پیپلز پارٹی، جمعیت، جماعت اور ایم ایم اے کی باقیات کو اعصاب شکنی کے تکلیف دہ عارضے میں جکڑ رکر دکھ دیا ہے۔ انہیں سب سے زیادہ یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ اگر عمران خان کو اس کے ایجنڈے پر کام کے لئے فری ہینڈ دے دیا گیا اور آنے والے دنوں میں لوگوں میں اس کی کارکردگی کی دھاک بیٹھ گئی تو ان پارٹیوں کی تو ہمیشہ کیلئے چھٹی ہو جائے گی اور ان کی مفاداتی سیاست کی ساری دکانداری کا بولو رام ہو کر رہ جائے گا۔
اس صورت حال کے تدارک اور عمران خان کو ہنی مون کے پہلے سو دنوں میں فری ہینڈ نہ دینے کی غرض سے بلاول ہاو¿س اور جاتی عمرہ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو عوام کی نظروں میں گندا کرنے کے لئے اس پر ہر قسم کے گھٹیا الزامات کی بوچھاڑ کر دی جائے۔ اور اس سلسلے میں مذہب، خاندان ، نجی معاملات، چادر اور چار دیوری کے تقدس کو بھی پامال کرتے ہوئے عمران خان کی بھرپور کردار کشی کی جائے۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پلانٹ کئے گئے اپنے کرایے کے منشیوں کے ذریعے عمران خان اور اس کی خاندانی و ازواجی زندگی کے حوالے سے من گھڑت رام کہانیاں سنائی جائیں اور زرداری و نواز شریف کے کرداروں کو مثبت اور تعمیری انداز میں اجاگرکرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جائے۔ (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر26
عمراں خان کے کیمپ میں حریفوں کی ان تمام ترمنفی سکیموں کے باوجود مکمل سکون ہے اور وہاں موجود ذمہ داران کا مل یکسوئی کے ساتھ کم سے کم مدت میں اپنے ایجنڈے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے میں محوکار ہیں۔ عمران خان نے اپنے رفعائے کار کو جتلا دیا ہے کہ ان کے پاس اپنی بقا کا ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ ہے عوام کو آسانیاں اور عزتیں دینے کا مشن۔ وہ اپنے اللہ سوہنے پر توکل رکھتے ہوئے اس میں جت جائیں تو انہیں حریفوں کی تمام تر ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے باوجو دآخری فتح میسر آکر رہے گی۔
یہی وہ صورت حال ہے جس نے حکمران طبقہ بدمعاشیہ بشمول نون لیگ،پیپلز پارٹی اور ان کے گماشتوں کو آنے والے دنوں کی بد بختی کے تصور سے ہی لرزہ براندام کر کے رکھ دیا ہے۔ چنانچہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس منجدھار سے کیونکر باہر نکلیں۔ زرداری ٹولہ اس ضمن میں زیادہ پریشان ہے۔ نون غنوں کے پورے ٹبر کی قیدو بند اور فرار کے پیشِ نظر اور زرداری کے معروف فرنٹ مین انور مجید کی گرفتاری اور خود زرداری اور اس کی بہن فریال کی ایف آئی اے میں پیشیوں اور نیب کی طرف سے زرداری کے وارنٹ گرفتاری کے اجراءاور ان دنوں ضمانت پر ”رہائی “ نے مل جل کر اس ٹولے کو عجب مخمصے میں الجھا کر رکھا دیا ہے۔ وہ اپنے بچاو¿ کے لئے گاہے نون غنوں سے اتحاد کا پیغام دیتا ہے اور گاہے اپنی کھال بچانے کے لئے ”سرپرستی کے دیگر امکانات“ سے تعلقات استوار کرنے کے جتن کرتا ہے۔ مگر اس تمام تر بھاگ دوڑ کے باوجود اسے کسی کل چین نہیں۔
سیاسی مبصرین کا ایک اہم حصہ اس صورت حال کو عمران خان کے لئے مشکلات اور چینلجز سمجھتا ہے اور اس سے ہمدری کا اظہار بھی کرتا ہے مگر میرے لئے اس میں عمران خان اور اس کی پارٹی کے لئے خیر مستور کا پہلو موجود ہے۔اس کے تمام حریفوں کی صفوں میں بپا اودھم اور اتحاد و انتشار کی برساتی دھوپ چھاو¿ں اس مرد ِ میدان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ حریف اپنی ہر سازش اور ریشہ دوانی میں ناکام ہوتے آئے ہیں اور یہی ان کا آئندہ مقدر ہے۔ جبکہ آخری فتح عمران خان کے لئے نوشتہ دیوار ہے۔
یکسوئی اور کامل یقین محکم کے ساتھ ایک سو دنوں کے ہدف پر گامزن ہو چکا ہے۔ اگر کوئی بڑا طوفان نہ آگیا تو یقین ہے کہ اللہ کی رحمت کے بھرتے اور اپنے مقصدکے اخلاص اور بہتر حکمتِ عملی کے ذریعے وہ آئندہ سودنوں میں عوام کے لئے ایسی آسانیاں فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا کہ مخالفین کا ہمیشہ کیلئے دھڑن تختہ ناگزیر ہوگا۔

Scroll To Top