بات کڑوی گولی نگلنے کی صلاحیت کی 22-10-2013

kal-ki-baat

لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزیوںکا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ دلچسپ بات اس ضمن میں یہ ہے کہ ایک طرف تو پاک بھارتی مذاکرات کو پیس پروسیس کی کامیابی کے لئے ضروری قرار دیاجارہا ہے اوردوسری طرف لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج سنگین نوعیت کی خلاف ورزیاں پورے تسلسل کے ساتھ کررہی ہے۔ دونوں معاملات کا ساتھ ساتھ چلنا اگر محض ایک اتفاق ہے تو تشویش کی کوئی بات نہیں ۔ لیکن اگر یہ ایک طے شدہ حکمت عملی کا حصہ ہے تو پھرجب مذاکرات کی نوبت آئے گی تو گفتگو کے ایجنڈے میں لائن آف کنٹرول پر پائی جانے والی کشیدگی کا معاملہ سر فہرست ہوگا۔مذاکرات کااختتام اس خوشگوار اعلان کے ساتھ ہوگا کہ لائن آف کنٹرول پر پُر امن ماحول پیدا کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔
” امن کی آشا “ کے مصنف اور ہدایت کار اس اعلان کو امن کی فتح قرار دیں گے۔
جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے بھارت کے نیتا یہ موقف اختیار کریں گے کہ شملہ سمجھوتے میں یہ مسئلہ طے کردیا گیا تھا۔ میاں نوازشریف جواب میں کیا کہیں گے یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ وہ بار بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تعلقات کے بغیر ہمارا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں میاں صاحب کے نئے مشیر انہیں یہ مشورہ دینا شروع کردیں کہ ” کشمیر پاکستان کی شہ رگ سہی لیکن اس شہ رگ کی خاطر ضروری تو نہیں کہ ہم امن کی گردن پر چھری رکھے رہیں۔ “
پھر شاید وہ وقت بھی آجائے جب اسلام آباد سے یہ اعلامیہ جاری ہو کہ ” ہم امن کی خاطر کشمیر کو فراموش کرنے کی کڑوی گولی بھی نگلنے کے لئے تیار ہیں۔“

Scroll To Top