غلام اکبر ٹوئیٹر کالم 25-08-2018

twitter-logoٹویٹر لوگو ٹویٹ لوگو

ایک گفتگو کے دوران میرے بیٹے آفتاب نے کہا کہ ابو جن دانشوروں کا روناآپ روتے رہتے ہیں ان کا مسئلہ صرف خدا اور فوج سے ہے۔۔اگر انہیں مائنس کر دیا جائے تو ان کی رائے میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔پرابلم یہ ہے کہ پاکستان بنا حاکمیت خداوندی کے لئے تھا اوراس کی حفاظت اس کی فوج کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر شخص کو اپنی رائے اور اپنی جماعتی وفاداریاں رکھنے کا حق ہے۔یہ حق تجزیہ کار اور تمام صحافی بھی رکھتے ہیں۔مگر میری رائے میں کسی کو بھی اپنی فکری اور جماعتی شناخت چھپانی نہیں چاہئے۔اس طرح سننے اور پڑھنے والے بھی گمراہ نہیں ہونگے۔ اور کسی پر لفافہ جرنلزم کا الزام بھی نہیں لگے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
عارف بھٹی صاحب آپ بہت خوش نیت اور نیک دل صحافی ہیں مگر آپ کو ایک راز کی بات بتا رہا ہوں کپتان کے خیال میں اگر پاکستان نے ریاست مدینہ بننا ہے تو وزارت داخلہ اور پنجاب دونوں پر انہیں خود اپنا کنٹرول رکھنا ہو گا۔اسی لئے وہ کوئ” ماہر” اور “مشاق” وزیر اعلی سامنے نہیں لائے۔
۔۔۔۔۔۔۔
فتح مکہ کے بعد قبول اسلام کرنے والوں میں پہلا نام جناب صالح ظافر کا ہے۔انصار عباسی اور نواز رضا جیسے جید سردار کب ایسا کرتے ہیں انتظار رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
5ماہ قبل کپتان نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ سال ہمارا ہے انشا اللہ اس سال ہم ریاست مدینہ کی طرف سفر شروع کریں گے۔میں نے کہا تھا انشا اللہ مگر شایدمیں یہ منزل دیکھ نہ پاو¿ں۔اپنے پہلے خطاب میں یہی الفاظ وزیر اعظم عمران نے کہے۔ سفر شروع ہو چکا ہے۔دعا ہے کپتان اپنی جدوجہد کا ثمرضرور دیکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

Scroll To Top