درست سمت میں درست قدم

zaheer-babar-logoعمران خان نے وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں صدر مملکت ، وزیر اعظم اور اراکین قومی اسمبلی کے صوابیدی فنڈز ختم کردئیے ہیں۔ کابینہ اجلاس بارے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے صوابیدی فنڈز سے 21 ارب روپے، صدر مملکت نے 8سے 9کروڈ روپے جبکہ گذشتہ اسمبلی اراکین نے 30ارب روپے استمال کیے۔ “
وطن عزیز میں یہ حیران کن نہیںکہ قومی دولت مال مفت دل بے رحم کی صورت میں استمال کیاجائے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بدترین رجحان میں وہی لوگ ملوث رہے جن کی زمہ داری ہی قوم کے ٹیکسوں کے پیسے خوب چھان بین کرکے خرچ کرنا تھی۔ اس رحجان کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں محافظ ہی چوری کرتے رہے۔ عمران خان بطور اپوزیشن لیڈر ایسے رجحانات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔کپتان کو موقف یہ رہا کہ جو پیسے عوام کی فلاح وبہبود پرخرچ ہونا چاہے وہ طاقتور لوگ اپنی ذات یا پھر من پسند لوگوں پر خرچ کرتے ہیں۔اب حکومت میںآکر عمران خان جو اقدامات اٹھا رہے قوم ان سے یہی توقع کررہی تھی۔ پاکستان کے عام شہریوں کی اکثریت بدستور یقین رکھتی ہے کہ عمران خان اپنے تبدیلی کے وعدے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ہرگز کسی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں گے۔
کابینہ کے دوسرے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عمران خان سرکاری جہاز استمال نہیںکریں گے بلکہ بیرون ملک دورے پر جانے کے لیے کمرشل فلائٹ میںسفر کریں گے یعنی وہ غیر ملکی دوروں کے لیے فرسٹ کلاس نہیں بلکہ کلب کلاس میں سفر کریں گے ۔وفاقی کابینہ نے پنجاب اور خبیر پختونخوا میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے فرانزک آڈٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے ملتان ، اسلام آباد ، لاہور میڑو کے علاوہ اورنج ٹرین لائن منصوبوں کی بھی فرانزک آڈٹ کرانے کی منظوری دی گی۔“
مسلم لیگ ن کی حکومت بارے عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ میگا پراجیکٹ اسی لیے بناتی ہے تاکہ اس میںبڑا مال بنایا جائے۔ یہ بات کہاں تک سچ یا جھوٹ ہے یقین سے کہنا مشکل ہے مگر آج سپریم کورٹ میں ماضی کی پنجاب اور وفاقی حکومت کے کئی میگا سیکنڈل زیر سماعت ہیں۔ پنجاب کی 56کپمنیوں بارے قومی احتساب بیورو مسلسل تحقیقات کررہا جس میںشہباز شریف ہی نہیں ان کے داماد اور مسلم لیگ ن کے کئی زمہ داروں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا۔
اس میں دوآراءنہیں کہ عصر حاضر کی شائد ہی کوئی ریاست ہوجہاں کرپشن کسی نہ کسی شکل میں نہ موجود ہو مگر سوال یہ ہے کہ بدعنوانی کو کس حد تک گوارہ کیا جائے ۔ ہم جانتے ہیں کہ جب طاقتور لوگ کرپشن کے میگا سکینڈلز میں ملوث پائے جائیں تو وہاںمجرموں کو سزا دینا آسان نہیں ہوا کرتا۔ دنیا کے حقیقی جمہوری ملکوں میں عوامی عہدوں پر براجمان لوگوں کے لیے سخت قوانین کا نفاذ اسی لیے کیا جاتا ہے کہ ان کو کسی طور پر قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کی جرات نہ ہو۔ ترقی پذیر ملکوں کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ افسر شاہی کو ساتھ مل کر کرپشن کا بازار اس طرح گرم کرتاہے کہ پکڑے جانے کا امکان کم سے کم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی پذیر ریاستوں کے حکمران ہی نہیں ، اعلی سرکاری عہدوں پر براجمان حضرات بھی لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک رکھنے کو ترجٰیح دیتے ہیں۔ اکژ وبشیتر کے کاروبار، اولاد حتی کہ گھر بار بھی دیگر ملکوں میں ہوا کرتا ہے تاکہ پکڑے جانے کا امکان کم سے کم ہو۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس ضمن میں مغرب کا دوہرا معیار ہے مغربی ملک اپنے ہاتھ تو ایسے قوانین کا نفاذ کرنے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیںکرتے جس کے نتیجے میں ان کی ریاست کو خطرات لاحق ہوجائیں مگر دیگر ملکوں کے بدعنوان عناصر کو اپنے ہاں غیر معمولی مراعات دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی۔
عمران خان نے جو قوم سے وعدے کیے ہیں ان کی تکمیل کے لیے عمران خان کو بعض ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے جس کے نتیجے میں ان کی سیاسی مشکلات میںاضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے بقراط ہونا ضروری نہیں کہ بدعنوان عناصر گینگ کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ درجنوں کرپٹ طاقتور شخصیات کے مفاد کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں لہذا باہمی تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں کی جاتی۔چنانچہ مخصوص حوالوں سے کہا جاسکتا ہے وزیر اعظم پاکستان میں کے لیے بااثر افراد حالات خراب کرسکتے ہیں۔
عمران خان کے خلاف جس طرح آج اپوزیشن جماعتیںاکھٹی ہوچکی کل بڑے تاجر یا سرمایہ دار بھی سامنے آسکتے ہیں۔ بابو شاہی کی طاقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب کئی دہائیوں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے عادی افراد کا روزگار خطرے میں پڑے گا تو وہ کسی قسم چال چلنے می ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیںکریں گے۔ صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ ارض وطن کو مشکلات سے نکالنے والی قوتیں باہم متفق ومتحد ہوجائیں ۔ پاکستان کے دشمنوں کے خلاف اتفاق واتحاد ہی کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ عمران خان حکومت کے لیے ملک کے اندر اور باہر مسائل بہت ہیں ۔ کپتان ان حالات میں کیسے کامیابی حاصل کرتے ہیں اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے البتہ وزیر اعظم پاکستان کو درست سمت درست قدم اٹھانے کا سلسلہ جاری وساری رکھنا ہوگا چاہے جس قدر مشکلات ان کے راستے میں حائل ہوجائیں۔

Scroll To Top