وزیراعظم کا قوم سے خطاب: ملک کو فلاحی ریاست بنانے کیلئے انقلابی اقدامات کا اعلان

  • لوٹی ہوئی دولت بیرون ممالک سے واپس لانے کا عزم
  • حکومتی خرچے کم کرنے کیلئے ٹاسک فورس کا قیام
  • ایف بی آر ، ایف آئی اے کی اصلاح، نیب کوطاقتور بنانا
  • انصاف کی یکساں فراہمی ،پولیس اصلاات اور کرپشن کا خاتمہ
  • تعلیمی اصلاحات، نوجوانوں کیلئے نوکریاں ،سود سے پاک قرضے
  • نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانا ، سول سروسز ریفارمز
  • چھوٹے اور درمیانے درجے کی انڈسٹری سمیت سیاحت کا فروغ
  • اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کے مواقعوں کی فراہمی
  • ڈیمز کی تعمیر،کسانو ں کی حالت بہتر بنانا ، فضائی آلودگی کا خاتمہ
  • جنوبی صوبہ پنجا ب کا قیام، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد
  • غیر ممالک سے دوستانہ تعلقات کا فروغ
  • ہسپتالوں کی اصلاح، ہیلتھ انشورنس کارڈز کا ملک میں اجرا
  • سیاست کو کیریئر نہیں بناﺅں گا،قوم کو عظیم بنائیں گے، وزیر اعظم ہاﺅس کی گاڑیو ں کی آکشن کریں گے، وزیر اعظم ہاﺅس کو اعلیٰ درجے کی یورنیورسٹی بنائےں گے، حکومتی خرچے کم کریں گے ،گورنر ہاﺅسز میں ہمارے گورنرز نہیں رہیں گے ، صرف دو ملازم رکھوں گا اور دو گاڑیاں استعمال کروں گا، وزیر اعظم عمران خان کے دبنگ فیصلے
اسلا م آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان قوم سے پہلا خطاب کر رہے ہیں

اسلا م آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان قوم سے پہلا خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ گھبرانے والے نہیں ، اب یا تو ملک بچے گا یا کرپٹ افراد بچیںگے ، پیسہ واپس لانے کےلئے ٹاسک فورس بنائینگے ، کرپشن روکیں گے ،کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالیں گے تو یہ چیخیں گے ، کرپشن کی نشاندہی کر نے والے کو انعام دیا جائیگا ،کفایت شعاری کےلئے  ٹاسک فور بنائی جائیگی ، ایف بی آر ٹھیک کرینگے ، سرمایہ کاری اور بر آمدات بڑھائیں گے ، بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی اپنا پیسہ واپس لائیں ، عدالتی نظام میں اصلاحات کرینگے ، چیف جسٹس سے ملاقات کرونگا ، تعلیم کا نظام ٹھیک کرینگے ، چاہتا ہوں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچے بھی آگے چل کر ڈاکٹر، انجینئر بنیں ، پورے ملک کےلئے ہیلتھ کارڈ جاری کرینگے ، نیا بلدیاتی نظام لائیں گے ، نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرینگے ، وزیر اعظم ہاﺅس کو یونیورسٹی بنائینگے ، دو گاڑیاں اور دو ملازم رکھونگا ، اس وقت ڈیم بنانا ناگزیر ہے ، سول سروس میں اصلاحات لائینگے ، جنوبی صوبہ بنائینگے ، اقتدار میں رہتے ہوئے کوئی کاروبار نہیں کرونگا ،ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ۔ ٹیلی ویژن اورریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ میں سب سے پہلے اپنے تمام کارکنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں جنہوںنے میرا ساتھ دیا ،ان لوگوں نے تحریک اور جہاد میں میرا ساتھ دیا تھا ۔عمرا ن خان نے کہاکہ بائیس سال پہلے سیاست میں آیا آج ان ساتھیوں کو یاد کررہا ہوں جو شروع سے میرے ساتھ تھے ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، انہوںنے کہاکہ بائیس سال پہلے جن لوگوں نے میرا ساتھ دیا لوگ ان کامذاق اڑاتے تھے ۔عمران خان نے کہا کہ آج ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں پاکستان کو وہ ملک بناناچاہتے ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا ، مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں مدینہ کے فلاحی ریاست میں قبیلے تھے ، تھوڑے لوگ تھے اور بٹے ہوئے تھے اللہ کے نبی نے ان کو اکٹھا کیا ۔ عمران خان نے کہاکہ آج ہم کدھر ہیں ، پاکستان میں کونسے مسئلے مسائل ہیں ، ہمارے اوپر کس طرح کے چیلنجز ہیںاور ان کا حل کیا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے معاشی حالات خراب نہیں تھے جتنے آج ہیں ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان اس وقت 28 ہزار ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے ،10 سال قبل پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا جو کہ 2013 میں بڑھ کر 15 ہزار ارب اور اب یہ 28 ہزار ارب روپے ہوچکا ہے۔ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار اس ملک میں ایسے رہتے ہیں جیسے انگریز یہاں رہتے تھے جب ہم ان کے غلام تھے۔انہوںنے کہاکہ یہ پیسہ کدھر گیا ؟انشاءاللہ اس معاملے کو بھی دیکھیں گے انہوںنے کہاکہ ہم قرضوں کے سود کے اوپر قرضے لے رہے ہیں ، پیپلز پارٹی کا بیرون ممالک کا سالانہ قرضہ دو ارب ڈالر تھا پچھلے سال سے ہر دو ماہ دو ارب ڈالر روپے کا قرضہ لینا پڑ رہا ہے انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی گئی تو یہ 60ارب ڈالر اور آج 95ارب ڈالرہیں ،بیرون ممالک کے قرضے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آج روپے کے اوپر پریشر ہے تاہم گھبرانے کی بات نہیں اس کا حل بتاﺅنگا ۔وزیر اعظم نے کہاکہ یو این ڈی پی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمارے بچے پانچ سال کی عمر سے کم مرتے ہیں ،گندا پانی پینے سے مرتے ہیں پاکستان ان پانچ ملکوں میں شامل ہے جن میں سب سے زیادہ عورتیں ڈلیوری کے وقت مرتی ہیں ہم بد قسمتی سے ان پانچ ملکوں میں ہیں کہ ایک بیماری ایسی ہے جس سے بچوں کو خوراک پوری نہیں ملتی جس کے باعث ان کا دماغ بڑھتا ہے اور یہ پینتالیس فیصد بچے ہیں یعنی ہر دوسرے بچے کوغذا پوری نہیں مل رہی ہے ، وہ 21ویں صدی میں آگے نہیں جاسکتے ہیں ،ان کے ماں باپ کے اوپر کیا گزرتی ہوگی اور انشاءاللہ ہم راستہ بدلیں گے ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس اپنے بچوں پر خرچ کر نے کےلئے پیسہ نہیں ہے ،کسانوںکی مدد کےلئے پیسہ نہیں ہے ، اپنے لوگوں کوروز گار ، صاف پانی نہیں دے سکتے ہیں قرضے بڑھتے جارہے ہیں ۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان کے وزیر اعظم کے 524ملازم ہیں ،وزیر اعظم پاکستان کے پاس 80گاڑیاں ہیں ، 33بلٹ پروف گاڑیاں ہیں جن میں ایک گاڑی کی قیمت پانچ کروڑ سے زائد ہے ۔پاکستان کے اندر گورنر ہاﺅسز ہیں ، چیف منسٹر ہاﺅسز ہیں ان کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہیں ، سیکرٹریوں کے پاس تین تین گاڑیاں ہیں ، ڈی سی ، کمشنرز کے بڑے بڑے گھر ہیں ،ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار اس ملک میں ایسے رہتے ہیں ،جیسے انگریز یہاں رہتے تھے جب ہم ان کے غلام تھے ، ہم لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتے ہیں ، گزشتہ دور حکومت میں 75 کروڑ روپیہ بیرونی دوروں پر خرچ کیا گیا ،سپیکر کا بجٹ 16کروڑ روپے تھا آٹھ کروڑ روپے دوروں پر خرچ کیا ہے یہ باہر کیا کر نے جاتے ہیں ،اگر ہم نے اپنا رخ نہ بدلنا تو ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں ،ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی ، طور طریقے بدلنے پڑے یں گے ہمیں اپنے دل میں رحم پیدا کر نا پڑے گا جب تک ہم نے اپنی سوچ نہیں بدلی تو صورتحال ٹھیک نہیں ہوسکتی۔انہوںنے کہاکہ سوا دو کروڑ بچہ سکولوں سے باہر ہے ، اگر آبادی بڑھتی گئی اور تعلیم نہیں دےنگے تو بہتری نہیں آئےگی ، آگے کیسے بڑھےں گے ، پانی کا مسئلہ کون حل کریگا ؟آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے نبی دنیا کے عظیم لیڈر تھے ، چالیس سال میں قوم کو عظیم بنایا ۔وزیر اعظم نے کہاکہ سب سے پہلے قانون کی بالادستی آتی ہے ، اس کے بغیر قوم نہیں اٹھ سکتی ۔ اللہ نے نبی نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی قانون توڑے گی تو اسے سزا دونگا ، حضرت عمر اور حضرت علی عدالت میں گئے ،حضرت علی یہودی شہری سے کیس ہار جاتے ہیں ، خلیفہ بھی قانون کے نیچے ہے ،اقلیتیں بھی برابر کے شہری ہیں ۔ اللہ کے نبی نے زکواة کا نظام قائم کیا، اسے پروگریسیو ٹیکسیشن کہتے ہیں، آج مغرب اس پر عمل کررہا ہے، سوئیڈن، ناروے وغیرہ میں ایسا ہی نظام قائم ہے۔انہوںنے کہاکہ جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہوگا اس پر اتنی زیادہ ذمہ داری ہوگی ،یہ آج مغرب کے اندر ہے ،ٹیکسوں سے نیچے طبقے کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں ،بے روز گاروں کو پیسے ملتے ہیں ، عدالت میں جائیں تو حکومت وکیل کر کے دیتی ہے ، زکواة کے پیسے سے یتیموں ،بیواﺅں کی مدد کی جاتی ہے ، حضرت عمر کہتے تھے کہ کتا بھی مرے تو میں ذمہ دار ہوں ، صرف انسانوں کی نہیںبلکہ جانوروں کی بھی ذمہ داری تھی ، مغرب میں بھی جانور بھوکے نہیں سوتے ، ان کےلئے بھی ہسپتال ہیں آج ہمارے انسانوں کا حال ہے ا ن سے بدترہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مغرب میں بہترین میرٹ کا نظام ہے ، خالد بن ولید کو میرٹ پر سپہ سالار بنایا گیا ، اللہ کے نبی کی ساری چیزیں مغرب میں ہیں یہاں نہیں ہے جو ملک کا خلیفہ اور سربراہ تھا سب سے پہلے صادق اور امین ہوتا تھا ،برطانیہ کا وزیر اعظم جھوٹ بولنے پر نکالا گیا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حضرت عمر ؓنے بھی عوام کے سامنے احتساب کےلئے پیش کیا ،حضرت ابو بکر ؓجب خلیفہ بنے تو کپڑے کی دکان فوری طورپر بند کر دی تھی آج مغرب کے اندر قانون ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہمارے جنتے بھی صاحب اقتدار ہیں اقتدار میں آنے سے پہلے کیا تھا آج کیا ہیں ،اقتدار میں آتے ہی پیسہ بنانے کےلئے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چودہ سوسال پہلے مدینہ کی ریاست میں قانون بنا ،کوئی اقتدار سے فائدہ نہیں اٹھاسکے گا ۔انہوںنے کہاکہ اللہ کے نبی سب سے زیادہ تعلیم پر زور دیا ، پیسہ بھی نہیں تھا ، ہتھیار نہیں تھا ، تعلیم کو سب پر ترجیح دی انہوںنے فرمایا کہ جو بھی مکہ کا قیدی دس لوگوں کو پڑھائے گاوہ رہا ہوسکتا ہے ، نبی نے بتایا کہ تعلیم کے بغیر قوم آگے نہیں بڑھتی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سوا دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیںجو اصول مدینہ کی ریاست میں بنائے گئے وہ مغرب نے اپنائے ، پاکستان میں حالات اس لئے برے ہیں ہم ان اصولوں پر نہیں چل رہے ہیں ۔وزیر اعظم نے کہاکہ مجھے کہا گیا کہ کرکٹر نہیں بن سکتا ، ہسپتال نہیں بنا سکتا ، دیہات میں یونیورسٹی نہیں بنا سکتا ، وزیر اعظم نہیں بن سکتا ، میں نے ایک ہی چیز سیکھی ہے کہ ہم نے مقابلہ کر نا ہے ۔انہوںنے کہاکہ میں وزیر اعظم ہاﺅس میں نہیں رہ رہا ہوں ، ملٹری سیکرٹری کے ہاﺅس میں رہ رہا ہوں ، تین بیڈ رور کا گھر ہے ، دو ملازم رکھونگا ، دو گاڑیاں رکھونگا ۔انہوںنے کہاکہ اصل میں میں اپنے گھر میں رہنا چاہتا تھا ، ہماری ایجنسی نے بتایا کہ میری جان کو خطرہ تھا اس لئے ادھر رہ رہا ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بلٹ پروف گاڑیوں کو نیلام کرونگا ۔وزیر اعظم نے کہاکہ سارے گور نر ہاﺅسز ، چیف منسٹرز میں سادگی لیکر آئیں گے ، گور نرسز ہاﺅس کےلئے ایک کمیٹی بنائینگے اور کمیٹی فیصلہ کریگی کہ ان کا کیا کرنا ہے جس سے عوام کو فائدہ ہوگا ۔وزیر اعظم نے کہاکہ وزیراعظم ہاﺅس کو اعلیٰ قسم کی ریسرچ یونیورسٹی بنائینگے ،ہم ایک ہم ٹاسک فورس بنائیں گے اس کے برسربراہ ڈاکٹر عشرت حسین ہونگے ،ہمیں احساس ہونا چاہیے جو بھی پیسہ خرچ کرتے ہیں یہ عوام ہے اسے کیسے خرچ کرنا ہے یہ ان لوگوں کا پیسہ ہے جودو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتے ہیں ،ہم نے پیسہ بچا کر ان کے اوپر خرچ کرنا ہے جوطبقہ پیچھے رہ گیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ٹاسک فورس کا مقصد ہوگا کہ ہم اپنے خرچے کم کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ اس ٹاسک فورس کا کام حکومت کے ہر شعبے میں بچت کی حکمت عملی بنانا ہوگا ،’بچت سے حاصل ہونے والی رقم غریب اور نظر انداز کیے گئے طبقے پر خرچ کی جائےگی تاکہ وہ بھی معاشرے کے دوسرے شہریوں کی طرح اوپر آسکیں اور ملکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری بری عادت بن گئی ہے کہ بیرون ممالک سے پیسہ لیتے ہیں ،کبھی قرضے لیتے ہیں ،ایسے کوئی ملک ترقی نہیں کرتا ، قرضہ مشکل وقت کےلئے ہوتا ہے یہ تھوڑی مدت کےلئے ہوتا ہے ،ہمیں اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ قوم کو اپنے پیر پر کھڑا کروں گا، 20 کروڑ کی آبادی میں پاکستان میں صرف 8 لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں، ایسے ملک نہیں چلے گا ،میں وعدہ کرتا ہوں سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا، لوگوں کو اس پر اعتماد نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں عوام کو یہ اعتماد دوں گا کہ آپ کے ٹیکس کی حفاظت میں خود کروں گا ،روز عوام کو بتائیں گے کہ ہم کتنا عوام کا پیسہ بچارہے ہیں لیکن شہریوں کا فرض ہے کہ وہ بھی ٹیکس ادا کریں، قوم کی عزت کی خاطر ٹیکس ضرور ادا کریں ،جب پیسے والے لوگ ٹیکس دیتے ہیں تو اس سے نچلے طبقے کو اوپر اٹھایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ٹیکس کا نظام ٹھیک کرلیا تو معاشی مسائل حل ہوجائیں گے اور اپنے خرچے اپنے وسائل سے پورے کریں گے۔انہوںنے کہاکہ جس سے قرضہ لیتے ہیں وہ آپ کی آزادی اور عزت لے جاتا ہے ، مجھے برے لگے گا کہ باہر سے پیسے مانگوں ۔شوکت خانم کےلئے پاکستانیوں سے پیسہ مانگا ہے باہر سے پیسہ مانگنے سے مجھے شر م آئے گی انہوںنے کہاکہ جو قوم اپنی عزت نہیں کرتی دنیا اس کی عزت نہیں کرتی ۔انہوںنے کہاکہ بیرون ممالک میں پاکستانیوں کو لائن میں کھڑے کر دیتے ہیں اس قوم کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کر نا ہے ہم نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا ہے ،عظیم قوم بننا ہے ۔انہوںنے کہاکہ جو ٹیکس نہیں دیتے ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں ،ٹیکس اللہ کےلئے دینا ہے اس کے بعد انشاءاللہ کبھی خسارہ نہیں ہوگا ۔وزیر اعظم نے کہاکہ جو پاکستان کے پیسے چوری ہو کر باہر گئے ہیں ہم نے ٹاسک فورس بنانی ہے وہ پیسہ باہر سے واپس لے کر آئےگی۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہر سال اس ملک میں دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے ۔عمران خان نے قوم سے اپیل کی کہ کسی ایسے لیڈر کو ووٹ نہ دیں جس کا سرمایہ بیرون ملک موجود ہے ، جب اس کا پیسہ باہر ہوگا تو وہ ملک کا مخلص نہیں ہوسکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ غیر ملکی پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں گے، ہم چاہیں گے آپ اپنا پیسہ یہاں لائیں یا پاکستانی بینکوں میں پیسے رکھیں، ہمیں ڈالرز کی سخت ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہم اپنی ایکسپورٹ بڑھائیں گے ، ہماری حکومت انڈسٹریز کی پوری مدد کرے گی ،بزنس ایڈوائزری کونسل بنائینگے جو راستے میں رکاوٹ دور کریگی ، ملک میں سرمایہ کاری لیکر آئیں گے ۔وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ایک آفس ہوگا جو باہر سے آنے وا لے سرمایہ کاروں کےلئے رکاوٹ دینگے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کےلئے بہت رکاوٹیں ہیں ۔میں ایمبیسز کو پیغام دونگا کہ پاکستانی جو باہر کام کررہے ہیں جو پیسہ بھیجتے ہیں ان کےلئے آسانی پیدا کریں ، یہ پاکستانی بیس ارب ڈالر بھیجتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ ، باہر کے ممالک میں کئی جیلوں میں پاکستانی پڑے ہوئے ہیں ،یہ کیوں پڑے ہوئے ہیں ،ان کو فوری طورپر دیکھا جائے ،ہم کوشش کرینگے کہ ان کی مدد کریں ، ان کو بتائیں یہ لاوارث نہیں ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے خاص طور پر مخاطب ہوتے ہوئے اپیل کی کہ وہ اپنا پیسہ پاکستان واپس لائیں، اپنا پیسہ پاکستان میں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان پر مشکل وقت ہے، جو بھی پیسہ پاکستان بھیجتے ہیں بینکوں کے ذریعے بھیجیں، ملک کو مشکل سے نکالنے کے لیے ہمیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے وہ ایک قانون سازی کریں گے جسے وسل بلوو¿ر ایکٹ کا نام دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت سرکاری محکموں میں جو بھی شخص کرپشن کی نشاندہی کرے گا اس کے نتیجے میں کرپشن کرنے والے شخص سے برآمد ہونے والی رقم کا 20 فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل اور پولیس کا نظام بھی درست کریں گے۔وزیر اعظم نے کہاکہ کرپشن کے اوپر پورا زور لگانا ہے ،عوام پر خرچ ہونے والا پیسہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے ، یہ ادارہ تباہ کر کے کرپشن کرتے ہیں ، نیب چیئر مین سے میٹنگ کرونگا اگر کسی قسم کی مدد چاہیے ان کودینگے ، فنڈز چاہئیں تو دینگے اور نیب کو پاور فل بنائینگے ۔انہوںنے کہاکہ وزارت داخلہ اپنے پاس رکھونگا ، ایف آئی اے کے ذریعے منی لانڈرنگ کی روک تھام کےلئے پوری نظر رکھونگا انہوںنے کہاکہ جب ہم کرپٹ لوگوں کے اوپر ہاتھ ڈالیں گے توشور مچائینگے ،ڈیپارٹمنٹ میں مافیا بیٹھا ہوا ہے ، ہر جگہ پر ایسے لوگ ہیں جو کرپٹ نظام سے پیسہ بناتے ہیں ،یہ سڑکوں پر آئیں گے ، جمہوریت کبھی خطرے میں آجائیگی مگر آپ نے میرے ساتھ کھڑے رہنا ہے ،یا یہ ملک بچے یا کرپٹ لوگ بچیں گے ،اللہ نے صلاحیت دی ہے میں مقابلہ کرونگا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ مشاورت کریں گے اور کوشش کی جائے گی کہ کوئی بھی کیس ایک سال سے زائد نہ چلے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ کئی بیوہ خواتین کے کیسز کافی عرصے سے عدالت میں زیر التواءہیں ،انہیں جلد از جلد نمٹایا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل اور پولیس کا نظام بھی درست کریں گے۔انہوںنے کہاکہ کے پی کے میں ایک سال کے اندر سارے سول کیسز کا فیصلہ کیا تھا ،اب قومی سطح پر کرینگے ،انشاءاللہ ہم ایسا نظام لائیں گے کہ ایک سال کے اندر کیسز حل ہونگے ۔انہوںنے کہاکہ کئی بیواﺅں کی زمینوںپر قبضے ہوئے ہیں ، وہ بیچاری رل گئی ہیں ان کے کیسز حل نہیں ہوتے ہیں چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ کم از کم بیوہ کے کیسز حل کریں ۔انہوںنے اس موقع پر خاتون کا واقعہ بھی سنایا جس کے شوہر کو قتل کر دیا گیا اور اسے تھانے کے چکر لگانے پڑے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ سب کے سامنے وعدہ کرتا ہوں کمزور طبقہ کی مد د کرینگے ، وکیلوں کو جیلوں کے اندر بھیجیں گے وہ قیدیوں سے پوچھیں گے کہ ان کے مسئلے مسائل کیا ہیں ، کئی قیدی فیس بھی نہیں دے سکتے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ پولیس کا نظام ٹھیک کر ناہے ، کے پی کے میں پولیس میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے ،ہمارے الیکشن جیتنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو پولیس پر اعتماد آگیا ہے آئی جی ناصر درانی نے یہ سب کچھ کیا ہے ، اب پنجاب پولیس کو ٹھیک کر نے کےلئے آئی جی ناصر درانی کر دار دینگے ، سندھ میں گور نمنٹ کے ساتھ ملکر پولیس کو ٹھیک کیا جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ بچوں سے بہت زیادتی ہورہی ہے ، قصور کا کیس سامنے آگیا ،بہت سے ایسے کیسز ہیں جو سامنے نہیں آتے ، بچوں سے زیادتی کا سخت ایکشن لینا ہے ، ہیومن رائٹس منسٹری بھی اسی لئے بنائی ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ عمران خان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں ہنگامی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے، دوکروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں انہیں تعلیم دینی ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ زور سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے لگانا ہے تاکہ غریبوں اور امیروں کو یکساں تعلیم مل سکے۔عمران خان نے کہا کہ ساتھ ہی مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کو نظر انداز نہیں کرنا، میں چاہتا ہوں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچے بھی آگے چل کر ڈاکٹر، انجینئر بنیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ مجھے پتہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ کس طرح قربانی دے رہا ہے ، دو دو نوکریاں کرکے بچوں کو تعلیم دلوا رہا ہے ،کے پی کے میں ڈیڑھ لاکھ بچہ سر کاری سکولوں میں آیا ہے ، بہت زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے ہسپتالوں کےلئے ٹاسک فورس بنائی ہے ، سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کر نا بہت مشکل کام ہے ، ہم نے پختون خوا کے اندر کام کیا ،گور نمنٹ ہسپتال میں تبدیلی آنا شروع ہوئی لیکن ابھی تک پوری طرح نہیں آئی ،سارے پاکستان کے اندر ہیلتھ کارڈ لیکر آئیں گے ،سارھے پانچ لاکھ روپے کی انشورنس تھی ،اگر کوئی بیمار ہو جائے تو کم از کم ان کے پاس ہیلتھ کارڈ ہو ۔وزیر اعظم نے کہاکہ پانی کے مسئلے پر کسی نہیں سوچا ، سب سے پہلے شہروں میں پانی کا مسئلہ ہے ،کراچی میں پانی نہیں ہے، ٹینکر مافیا آگیا ہے ، کوئٹہ میں پانی نہیں ہے ، اسلام آباد کے کئی علاقوںمیں پانی نہیں ہے ،پانی کے اوپر منسٹری بنا رہے ہیں ، کیسے پانی کو بچانا ہے ، کسانوں کو پانی بچانے کے نئے طریقے بتائیں گے ، نہروں کی لائنگ کرینگے ، اس وقت ڈیم بنانا ناگزیر ہوگیا ہے ،بھاشا ڈیم بر وقت بنانا پڑے گا ،ڈیم کےلئے ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے ،ڈیم کےلئے چیف جسٹس نے زبردست کام کررہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں تیزی سے آگے بڑھنا ہے تو کسانوںکی مدد کرینگے ، ہم کسانوں کےلئے سہولیات فراہم کرینگے ، فیصل آباد زرعی یونیورسٹی بھی پیچھے رہ گئی ہے ، ہم نے کسانوں کےلئے ریسرچ کرنی ہے ، ہمارے کسان بھارت سے بھیج لیتے ہیں ان کی ہر طرح کی مدد کےلئے پورا زور لگائینگے ۔انھوں نے سول سروس کو بھی ٹھیک کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ 1960 کی دہائی میں پوری دنیا میں ہماری سول سروس سب سے بہترین تھی لیکن سیاسی مداخلت اور میرٹ کے خاتمے سے اپنی سول سروس کو تباہ کیا اور ڈاکٹر عشرت حسین سے بھی بات کررہے ہیں کہ کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں۔انھوں نے سول سرونٹ کو پیغام دیا کہ ہم سیاسی مداخلت نہیں کریں گے بس آپ اپنی ذمہ داریاں بھرپور ادا کریں ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن میں آپ سے چاہتا ہوں کہ جب عام آدمی سول سروس میں آئے تو اس کو عزت دینا ہے کیونکہ جو ان کا حق ہے وہ اس کو ملے۔وزیر اعظم نے کہاکہ اگر کوئی ادارہ عوام کا کام وقت پر کریں گے تو ان کی تنخواہیں بڑھائیں گے اور مراعات بھی دیں گے لیکن اگر غلط کام ہوا تو سزا بھی ہوگی اور یوں جزا و سزا کا نظام ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو بھی ٹھیک کریں گے اور ناظم کا انتخاب براہ راست ہوگا اور ان کو طاقت ور بنائیں گے کیونکہ ساری دنیا میں جہاں بلدیاتی نظام بہتر ہے وہاں ترقی ہے۔انھوں نے نوجوانوں کے حوالے سے کہا کہ روزگار دیں گے، اسکل سکھائیں گے اور قرض دیں گے اور کھیلوں کے گراﺅنڈ بنائیں گے جبکہ کھیلوں کے میدانوں پر قبضے کرکے اس کو ختم کردیا گیا ہے ،عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کریں گے۔وزیر اعظم نے کہاکہ نو جوانوں کےلئے نوکریاں پیدا کریں گے ، پچاس لاکھ سستے گھر بنائینگے ، کیسے ون ونڈو آپریشن لیکر آنا ہے؟ یہ سلسلہ چل پڑا تو نوکریاں ملیں گی ،پچاس انڈسٹری کھڑی ہونگی ، قرضے دینگے ۔انہوںنے کہاکہ درخت لگانے کی مہم شروع کر نی ہے ، ساروے پاکستان میں اربوں درخت لگائیں گے ، آنے والی نسلوں کیلئے ضروری ہے ،کراچی میں کوئی درخت نہیں ہے ، گرمی بڑھتی ہے تو بارشیں کم ہوتی ہیں ایک بڑے پیمانے پر پاکستان کو ہرا کر نا ہے ،نوجوانوں کو ساتھ لگائیں گے ، ہم نے پالوشن کو ختم کر نا ہے ، اس سے بیماریاں پیدا ہورہی ہے ، امین اسلم کو منسٹر رکھا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ملک میں گندگی پھیل گئی ہے ، کراچی کو گندگی میں بدلتے دیکھا ہے ،ہم سمندر کو بھی بر باد کررہے ہیں ہم نے پوری کمپین کر نی ہے ، دریا صاف کر نے ہیں ، ہمارے ملک میں بیروز گاری ہے نو جوانوں کو کام پر لگائیں گے ، پاکستان کو پانچ سالوں میں صاف بنائینگے یہ مشکل کام نہیں ہے اس کےلئے ارادہ چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیں گے اور ہر سال 4 سال نئی تفریحی گاہیں کھول دیں گے کیونکہ پاکستان دنیا کے خوب صورت ترین ممالک میں سے ایک ہے اور اسی خوب صورتی کے لیے گوادر سمیت دیگر ساحلوں کو بھی سیاحتی مقام بنائیں گے۔انھوں نے کہا کہ فاٹا اور کے پی کو ضم کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ اس وقت بھی فاٹا میں حالات ٹھیک نہیں ہیں اس لیے فی الفور معاملات ٹھیک کریں گے اور دوسرا کام بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پورا زور لگائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ بلوچستان پیچھے رہ گیاہے، ناراض لوگوں کوساتھ ملنے کی کوشش کریں گے۔جنوبی پنجاب کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ صوبہ بننا چاہیے اس کے لیے ہم کام کریں گے کیونکہ اتنے بڑے پنجاب میں ایک جگہ سے کام نہیں ہوسکتا ہے۔وزیراعظم نے کراچی کے حوالے سے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی کے ٹرانسپورٹ کو ٹھیک کریں گے۔انہوںنے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر تمام جماعتیں یکجا ہیں اس لیے اس پر بھرپور عمل کریں گے۔انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کو اس ملک سے ختم کر نا ہے ، امن نہیں آئےگا تو خوشحالی نہیں آئےگی ۔عمران خان نے کہا کہ ہم ہمسایوں سے بہترین تعلقات بنائیں گے جس کے لیے میری رہنماﺅں سے بات ہوئی ہے۔انھوں نے کہا جب تک اقتدار میں ہوں اس وقت تک میں کوئی کاروبار نہیں کروں گا اور میری کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے لیکن جو اپنے پیسے باہر لے کر گیا ان کو نہیں چھوڑوں گا جس کےلئے آپ میرا ساتھ دیں اور سوشل میڈیا کے اس دور میں آپ ہم پر نظر رکھیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک گھنٹہ 9 منٹ طویل خطاب کے آخر میں کہا کہ میں عوام کو سادہ ترین زندگی گزار کر دکھاو¿ں گا، میں عوام کوایک، ایک پیسہ بچا کر دکھاو¿ں گا اور جب تک حکومت میں ہوں کوئی کاروبار نہیں کروں گا۔عمران خان نے کہا کہ ایک دن آئے گا کہ پاکستان میں کوئی زکوٰاة لینے والا نہیں ملے گا۔

Scroll To Top