ڈاکٹروں نے 28 سال بعد خاتون کی آنکھ سے لینس نکال لیا

s

28 سال قبل بیڈمنٹن کھیلنے کے دوران شٹل کاک لگنے سے خاتون کا لینس آنکھ میں دھنس گیا تھا۔ فوٹو : بی ایم جے

اسکاٹ لینڈ: اسکاٹ لینڈ میں 42 سالہ خاتون کے آنکھ کے آپریشن کے دوران 28 سال قبل کھو جانے والا ’کونٹیکٹ لینس‘ برآمد ہوا ہے۔

آپریشن تھیٹر اور چیک اپ روم میں انہوں نے اور غیر متوقع  واقعات کی روداد شائع کرنے والے سائنسی جریدے ’بی ایم جے کیس رپورٹ‘ میں ڈاکٹر سرجھان پٹیل نے اپنے کیس سے متعلق بتایا کہ 42 سالہ خاتون کو 6 ماہ سے اںکھ میں سوجن اور شدید تکلیف کی شکایت تھی جسے پہلے تو درد کشا دواؤں کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ناکامی پر خاتون نے آنکھوں کے ماہر سرجن سے معائنہ کروایا۔

ڈاکٹر سرجھان پٹیل، لائی لنگ ٹان اور ہیلن موگاٹروئیڈ پر مشتمل ماہر چشم کی ٹیم نے خاتون کا ایم آر آئی کا کرایا جس میں آنکھ کے اندر موجود 6 ملی میٹر ایک گٹھلی (Cyst)  کی تشخیص ہوئی۔ سیال یا نیم ٹھوس مادے سے بھری جھلی دار گٹھلی کو سرجری کے ذریعے نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا اور حیرت انگیز طور پر جب گٹھلی پر چیرا لگایا گیا تو اس میں سے ایک ’ لینس‘ نکلا۔

تاہم 42 سالہ خاتون کے والدین کا کہنا تھا کہ انہیں یاد نہیں کہ ان کی بیٹی نے کبھی لینس پہنا ہوا یا کبھی کوئی آنکھ کی تکلیف رہی ہو البتہ 14 سال کی عمر میں بیڈ مینٹن کھیلنے کے دوران شٹل کاک آنکھ پر لگنے سے زخمی ہو گئی تھی اور اس وقت لینس بھی پہن رکھا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے لینس نہیں ملا تھا جس پر ہم نے سمجھا کہ لینس کہیں گر گیا یا کھو گیا ہوگا۔

سرجن پٹیل نے کہا کہ آنکھوں میں لگے لینس کے کھو جانے کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیئے۔ جس طرح کھو جانے والے لینس کو ہر ممکنہ جگہ ڈھونڈا جاتا ہے اسی طرح کسی ماہر چشم سے بھی ایک بار معائنہ کروالینا چاہیئے مبادا لینس آنکھ کے کسی حصے میں دھنس گیا ہو جس کا لینس پہننے والے کو بھی احساس نہیں ہو پاتا۔ یہ انہونی بات نہیں ہے کیوں کہ اس نوعیت کے اب تک چار واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

Scroll To Top