جمہوریت کی کرپشن مطلق العنانی کی کرپشن سے زیادہ تباہ کن ہوتی ہے 11-10-2013

kal-ki-baat

امریکہ کے طویل شٹ ڈاﺅن نے نظامِ جمہوریت کا وہ پہلو عوام کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں کردیا ہے جو جمہوریت کے ثنا خواں ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں۔اس نظام میں حکومت اور ریاست کو مکمل طور پر ” ڈس فنکشنل “ (Dysfunctional)یا غیر فعال بنانے کی خاصیت موجود ہے۔ آج کے امریکہ میں اس کی انتظامیہ یعنی صدر اوبامہ کی ایڈمنسٹریشن اور کانگریس یعنی مقننہ برسرپیکار ہیں۔ مقننہ میں دارالنمائندگان House of Representativesمیں اکثریت ری پبلکن پارٹی کو حاصل ہے اور سینٹ میں کنٹرول ڈیموکرٹیک پارٹی کے پاس ہے۔ جب یہ تینوں ” مراکزِ قوت “ اپنی اپنی بات منوانے پر تُل جائیں تو ریاست کا پہیہ رُکے بغیر نہیں رہتا۔ روایتی طور پر امریکہ کے صدر کو دنیا کا سب سے طاقتور شخص سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کانگریس دنیا کے اس طاقتور ترین شخص کو غیرفعال اور بے بس کرنے کا تہیہ کرلے تو صورتحال قابو سے باہر ہوجاتی ہے۔ ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکرٹیک پارٹی کے درمیان پولرائزیشن کا ایسا ماحول پہلے کبھی نہیں پیدا ہوا جیسا آج کل دکھائی دے رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ صدر اوباما کو ایک ناکام صدر ثابت کرکے رہے گی خواہ اس کی قیمت امریکہ کو ایک مملکت اور ایک معاشرے کے طور پر ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے ۔ اگر جمہوریت اس انداز کی ہو جیسی امریکہ میں ہے تو کثیر الجماعتی نظام اسے کسی بھی وقت ڈس فنکشنل یعنی غیرفعال بنا سکتا ہے۔ اور اگر جمہوریت اس انداز کی ہو جیسی پاکستان بھارت اور اٹلی میں دکھائی دیتی ہے تو ملک کے مفادات باہمی گٹھ جوڑ پر مبنی سمجھوتوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔
چین ’ سنگاپور ’ ملائیشیا اورکوریا کی ترقی نے ثابت کردیا ہے کہ ایک مملکت کوآگے بڑھنے کے لئے صرف ایک مضبوط قیادت اور انتظامیہ کی ضرورت ہے جو طے شدہ قواعد و ضوابط پر عمل بھی کرے اور اپنی پالیسیوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے بے لچک اور اٹل فیصلے کرنے کی قوت بھی رکھتی ہو۔
پاکستان میں جو جمہوریت نافذ کی گئی ہے اس کی ثنا خوانی میں صرف وہ خاندان اور طبقے پیش پیش رہتے ہیں جنہیں یہ نظام اپنی ” برکات “ سے فیض یاب کرتا رہتا ہے۔
آخر کوئی تو وجہ ہے کہ ملک میں ایک مرتبہ بھی چیف ایگزیکٹو کا انتخاب عوام کے براہِ راست فیصلے سے نہیں ہوا۔ اور جو شخص پارلیمنٹ کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرکے چیف ایگزیکٹو بنتا ہے وہ اپنی انتظامیہ کی تشکیل میں قابلیت اور اہلیت کے فیکٹر کو نظر انداز کرنے پر اس لئے مجبور ہوتا ہے کہ جو لوگ اسے وزارتِ عظمیٰ کی گدی پر بٹھاتے ہیں وہ اپنی شیروانیاں بہت پہلے سلوا چکے ہوتے ہیں اور ان کے مفادات اور مطالبات کی فہرستیں بہت پہلے تیار ہوچکی ہوتی ہیں۔
جمہوریت کی کرپشن آمریت کی کرپشن سے زیادہ تباہ کن ہوتی ہے۔۔۔

Scroll To Top