وزیر اعظم پاکستان عمران خان

zaheer-babar-logo
بالاآخر 22سالہ طویل اور انتھک جدوجہد کے بعد عمران خان وزیر اعظم پاکستان بن گے ۔ سالوں قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین سیاست میں روایتی طورطریقوں کے خلاف علم بلند کر سامنے آئے جس کے سبب انھیں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کی سیاست میںکامیابی اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ملک کے کئی نامور سیاست دان اور مبصرین ان کے سیاسی مسقبل کے حوالے سے گوں مگوں کی کفیت سے دوچار رہے۔ متحرمہ بے نظیر بھٹو بھی ٹی وی کمیروںکی موجودگی میں یہ دعوی کرتی رہیں کہ کرکٹ کے ہیرو عمران خان سیاست میں زیرو ہی رہیں گے۔
عمران خان کی شخصیت کا یہ پہلو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی کامیابیاں انتھک جدوجہد کی مرہون منت رہیں۔ کپتان کا قومی کرکٹ ٹیم میں آنا ، پھر فاسٹ باولر بننا، کرکٹ ورلڈ کپ جیتنا اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کا قیام ایسے کارنامے ہیں جنھیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ شکست نہ تسلیم کرنا ہی عمران خان کی ایسی قوت ہے جو انھیں مختلف کامیابیوں سے ہمکنا رکرتی رہی۔
یکارڈ پر ہے کہ کپتان کے مخالفین اس پر یہ کہہ کر طنز کرتے رہے کہ سیاست کرکٹ کا میدان نہیں لہذا عمران خان کی کامیابی کا امکان کسی طور پر روشن نہیں۔
اس میں شبہ نہیںکہ کسی بھی شعبہ میںآگے نکل جانا کچھ اور ہے اور پھر اس فتح کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم عمران خان کے لیے آنے والا دور چیلنجز سے پر ہوسکتا ہے۔ قائد ایوان کے انتخاب کے موقعہ پر مسلم لیگ ن نے جس طرح کا احتجاج کیا امکان یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معمول بن جائے۔ پی ایم ایل این سمجھتی ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملہ کو قومی ایشو بنانا صرف اور صرف عمران خان کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یعنی گزرے ماہ وسال میں پاکستان پیپلزپارٹی سمیت شائد ہی کوئی اور جماعت ہو جس نے اس عالمی مالیاتی سکینڈل کو بنیاد بنا کر حقیقی معنوں میں احتجاج ریکارڈ کروایا ۔ عمران خان نے کہا تھا کہ پانامہ لیکس اللہ تعالی کی طرف سے ہے لہذا وہ اس موقعہ کو کسی صور ت ہاتھ سے نہیں جانے دینگے۔ سیاسی پنڈتوں کا ٰ دعوی غلط نہیںکہ پانامہ لیکس سامنے آنے کے بعد میاں نوازشریف اور ان کی جماعت جس انداز میں اس مسلہ سے نمٹنے کی کوشش کرتے رہے اس نے ان کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ کیا۔
ریکادڑ پر ہے کہ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ ایوان میں ایک سے زائد بار پی ایم ایل این کو مشورہ دیتے رہے کہ وہ اس ایشو کو پارلمینٹ میں حل کرے مگر پی ایم ایل این باجوہ اس مشورہ کو نہ مان سکی۔ میاں نوازشریف نے پانامہ لیکس کے معاملہ میںپارلمینٹ میںکھڑے ہو نہ صرف غلط بیانی سے کام لیا مگر اس وقت کے چیف جسٹس کو کمیشن بنانے بارے خطبھی لکھ ڈالا ۔ پھر مہینوں سپریم کورٹ میں یہ معاملہ التواءکا شکار رہا مگر جب چیف جسٹس ثاقب نثار آئے تو انھوں نے اس مالیاتی سیکنڈل کی تحیقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی جس نے انتھک محنت کے بعد حقائق فاضل عدالت کے سامنے پیش کردئیے۔
اب وفاق کے ساتھ پنجاب بھی مسلم لیگ ن کے ہاتھوں سے نکل چکا۔ شہبازشریف ہی نہیں پی ایم ایل این کے کئی سرکردہ لوگوں پر کرپشن کے الزمات کی تحقیقات جاری وساری ہیں۔ پنجاب کمپنی سکینڈل میں شہبازشریف پیش قومی احتساب بیورو میں پیش ہوچکے۔ سابق خادم اعلی کے داماد مفررو ہیں چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں کہ مسلم لیگ ن ایک نیا این آر او چاہتی ہے تاکہ اس کی مشکلات کم ہوسکیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے ان ہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ کسی صورت نیا این آر او دینے کے حق میں نہیں۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد کی جانے والی تقریر میں عمران خان جارحانہ موڈ میں نظر آئے ۔ نئے منتخب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کسی چور اور ڈاکو کو نہی چھوڈا جائیگا۔ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے تمام اقدمات اٹھائے جائیں گے۔ عمران خان نے بجا طور اپوزیشن کو پیش کش کی وہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے لیے الیکشن کمیشن سمیت سب ہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ نئے وزیر اعظم نے حزب اختلاف کی جماعتوں کودھرنا دینے کی صورت میں تمام سہولیات فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ۔
پاکستان پیپلزپارٹی بظاہر مسلم لیگ ن کی احتجاجی سیاست سے لاتعلق نظر آتی ہے مگر مسقبل قریب میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی مخصوص مقاصد کے لیے ایک دوسرے ککے قریب آجائیں۔ ٰایک خیال یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اپوزیشن کے ساتھ محاذآرائی کرنے کی بجائے مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی ،اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں پی ایم ایل این کے بعض رہنماوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کوئی ریلیف دیا جائے بلکہ آئینی وقانونی معاملات جاری وساری رکھنا ہوگا۔
کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان پر عام آدمی کی توقعات گذشتہ حکومت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ خبیر تا کراچی یہ سمجھا جارہا کہ کپتان نے جس تبدیلی کا وعدہ کیاتھا اب اس کو عملی شکل دینے کا وقت آن پہنچا۔ پاکستان تحریک انصاف 100دنوں کا پروگرام پیش کرنے جارہی ۔ یقینا ممکن نہیں کہ ملک کو درپیش پہاڈ جیسے مسائل سو دنوں میں حل ہوجائیں البتہ یہ ضرور ہوگا کہ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت کی ترجیحات واضح ہوجائیں گی۔

Scroll To Top