خدا کا انصاف ابھی ہونا ہے ! 10-10-2013

kal-ki-baat
حکمران طبقے نے متفقہ طور پر ملک کے نئے چیئرمین نیب کا انتخاب کرلیا ہے۔ میں نے ” حکمران “ کے ساتھ ” طبقے “ کی اصطلاح استعمال کی ہے ` ” ٹولے “ کی نہیں کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سیاستدان اس سے کہیں زیادہ ” توقیراور منزلت“ کے مستحق ہیں جو ” ٹولے “ کی اصطلاح سے قارئین تک منتقل ہوگی۔ ٹولہ بہرحال ڈاکوﺅں چوروں یا جرائم پیشہ افراد کا ہوتا ہے۔ اور اگرچہ قومی خزانے پر ڈاکے جن اصحاب نے ڈالے ہیں اُن کے تانے بانے ایوانِ ہائے سیاست واقتدار سے ہی جا ملتے ہیں ` میں پھر بھی اپنے قومی لیڈروں کا ذکر پورے احترام سے کرنا چاہتا ہوں۔ اگر اِن قومی لیڈروں نے ہمارے ملک کا وقار بلند کرنے میں کچھ کم بُخل سے کام لیا ہوتا تو آج ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جیسے ادارے پاکستان کو کرپشن کے میدان کا چیمپئن قرار نہ دے رہے ہوتے۔ اس انوکھے اعزاز پر سب سے زیادہ فخر سابق صدر جناب آصف علی زرداری کررہے ہوں گے جنہوں نے اپنے عہدِ صدارت کے پانچ سال ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے اعلیٰ ترین جج کو ناکوں چنے چبوانے میں گزار دیئے۔ چیف جسٹس تین چار برس تک چیخ چیخ کر حکومتِ وقت سے کہتے رہے کہ ملک کے ساٹھ ملین ڈالر تو واپس لا کر قومی خزانے میں جمع کراﺅ لیکن حکومت کی طرف سے یہی جواب آتا رہا کہ ” ہمارے صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔“
سوئس حکام کے اِس فیصلے سے صدر صاحب کا استثنیٰ واقعی ثابت ہو گیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات ” ٹائم بارڈ“ ہوجانے کی وجہ سے نہیں کھولے جاسکیں گے۔
زرداری صاحب کی اس جیت کو قوم کی ہار نہ سمجھا جائے۔ اگر قوم کو کرپشن پر واقعی کوئی سخت اعتراض ہوتا تو 2008ءاور 2013ءکے عام انتخابات میں وہی لیڈر عوامی اعتماد حاصل کرکے سامنے کیوں آتے جن کے خلاف نیب کے پاس درجنوں مقدمات اس انتظار میں پڑے ہیں کہ کوئی صاحب آکر چیئرمین کی خالی کرسی پُر کریں ؟ اب یہ انتظار بھی ختم ہوگیا۔ نیب کے نئے چیئرمین کاانتخاب طویل مشاورت اور مثالی اتفاق رائے کے ساتھ کرلیا گیا ہے۔
چوہدری قمر الزمان صاحب پر پورے حکمران ” طبقے “ کو اعتماد ہے۔ وہ کسی کی دل شکنی نہیں کریں گے۔ کاش کہ وہ اِس حقیقت کے ادراک کے ساتھ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں کہ دل شکنی عوام کی بھی نہیں ہونی چاہئے جن کی دولت پر اتنے بڑے بڑے ڈاکے ڈالے گئے ہیں!
جہاں تک زرداری صاحب کا تعلق ہے وہ اپنی حکمت ِعملی میں کامیاب تو ضرور ہوئے ہیں لیکن انہیں مولانا رومیؒ کے اس قول پر بھی کان دھرنے چاہئیں کہ کوئی بھی مجرم خدا کے انصاف سے نہیں بچ سکتا۔ خدا کے انصاف سے پاکستان اور اس کے عوام کابھی کوئی بھی مجرم نہیں بچ سکے گا۔۔۔

Scroll To Top