” میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا “

aaj-ki-baat-new

آج انشاءاللہ عمرا ن خان وزیراعظم بن جائیں گے اور میں کہہ سکوں گا کہ بانی ءپاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے اپنی اور صرف اپنی قوت ۔۔۔ اپنے اور صرف اپنے وسائل۔۔۔ اور اپنے اور صرف اپنے یقین کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور ایک طویل انفرادی جدوجہد کے بعد اُسے اِس مقام پر لے آئے کہ آج وہ ملک کی حکمران جماعت ہے۔۔۔
اس سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے سوا جو بھی جماعتیں اقتدار میں آئیں وہ بنیادی طور پر King’s Partiesیعنی فرماں رواوں کی تیار کردہ جماعتیں تھیں۔۔۔ میں یہاں جماعت اسلامی جمعیت العلمائے اسلا م اور اے این پی جیسی جماعتوں کا ذکر اس لئے نہیں کروں گا کہ ان کی قوت کا دائرہ ہمیشہ محدود رہا۔۔۔پاکستان پر اب تک یا تو مختلف برانڈ کی مسلم لیگوں یا پھر پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کی ہے۔۔۔ ایک جماعت اقتدار کے ایوانوں میں ری پبلکن پارٹی کے نام سے بھی بنی تھی جو اپنے خالقوں کے ساتھ ہی دارفانی سے کوچ کرگئی۔۔۔
پاکستان پیپلزپارٹی بجا طور پر دعویٰ کرسکتی ہے کہ وہ ایک عوامی جماعت ہے۔۔۔ مگر اِس حیققت کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ اِس کے بانی اِس کے قیام سے پہلے پورے آٹھ برس تک اقتدار کے ایوانوں میں گھومتے رہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ فرماں روائے وقت کے منظور ِنظر اور نائب تھے۔۔۔
مسلم لیگ (ن)کے بانی میاں نوازشریف کا تو جنم ہی فرماں روائے وقت کی گود میں ہوا۔۔۔ انہوں نے بس یہ کیا کہ جنرل ضیاءالحق کی مسلم لیگ کے سامنے (ن)کا حرف لگا کر اسے ایک نیا برانڈ بنا دیا۔۔۔
عمران خان کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے بہت ساری باتیں کی جاتی ہیں مگر ان باتوں کو اِس لئے بے بنیاد قرار دیا جانا چاہئے کہ تحریک انصاف کا جنم میاں نوازشریف کے دور میں ہوچکا تھا اور عمران خان نے ان انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا جن کے نتیجے میں میاں نوازشریف امیر المومنین بننے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔۔۔
عمران خان کا پہلا انتخابی تجربہ ہولناک تھا۔۔۔ اور دوسرا انتخابی تجربہ بھی صرف اس وجہ سے مکمل طور پر ہولناک نہیں تھا کہ وہ خود اپنے آبائی شہر میاں والی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔۔۔
اگر جنرل پرویز مشرف کی ذرا سی بھی حمایت تحریک انصاف کو حاصل ہوتی تو دو چار سیٹیں تو نکال ہی لی جاتیں۔۔۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تحریک انصاف بنی اس وقت کسی نے جنرل پرویز مشرف کا نام بھی نہیں سنا تھا اور لوگ بڑی فراخدلی سے عمران خان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔۔۔
میری ذاتی واقفیت اور دوستی عمران خان کے ساتھ1998ءمیں ہوئی۔۔۔ اور تب میں بھی ان کا ” والہانہ Fan“ ہونے کے باوجود ان کے سیاسی وجود کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔
عمران خان کی کہانی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی میں ہر قدم خود اٹھایا ` ہر فیصلہ خود کیا اور کبھی کسی ناکامی کو ناکامی نہیں مانا۔۔۔
میرے لئے عمران خان ہمیشہ وہ عمران خان رہے گا جسے میں نے 26جولائی 2018ءکو یہ پیغام بھیجا تھا کہ ” اللہ تعالیٰ جسے فراخدلی سے نوازتا ہے اس کی غلطیاں اور گناہ معاف نہیں کرتا۔۔۔“
عمران خان کا جواب یہ تھا۔۔۔
” میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔۔۔“

Scroll To Top